RSS
 

بھوٹانی سرحد کا ہند چینی تنازعہ

506 views --بار دیکھا گیا

09 Jul 2017

ماہ جون  میں ابھی  مودی جی امریکا یاترا کے دوران صدر ٹرمپ کو جپھیاں ڈالنے  اور چین کا ہوا دکھا  کر  اپنی جھولی  جدید ترین امریکی ہتھیاروں سے  بھرنے کے منصوبے باندھ ہی رہے تھے کہ   بھارت  کی شمال مشرقی سرحد پر چین کے دستوں کے حرکت کرنے کی خبر آ گئی  اور وہ بھی اس علاقے میں  جو  انڈیا کے لیئے بے حد اہمیت کا حامل ہے –ہوا یوں کہ 16 جون کو چینی فوج کا  ایک دستہ اپنے ہمراہ تعمیراتی  سامان  اور گاڑیاں لیئے سڑک بنانے کے لیئے  اس علاقے میں داخل ہوا جس پر بھوٹان اور چین کا مشترکہ دعوی ہے  – بھوٹان نے  اس پر اعتراض کیا تو بھارتی فوجی بھی بھوٹان کی مدد کے لیئے آگے بڑھے – اس علاقے میں کسی مسلح تصادم  سے بچنے کے لیئے عام طور پر تینوں ممالک کے فوجی غیر مسلح ہوتے ہیں  اس لیئے یہ فوجی جھڑپ محض  دھینگا مشتی اور ایک آدھ چوکی کے پتھر اکھاڑنے  تک محدود رہی – لیکن اس کے بعد بھارتی آرمی چیف  نے اس علاقے کا دورہ کیا اور اسی اثنا میں بھارتی وزیر  ارون جیٹلی اور چینی فوج کے  ترجمان کے درمیان بیان بازی ہوتی رہی جس میں بھارت کو یاد دلایا گیا کہ وہ 1962 کے سبق کو فراموش نہ کرے – بعد ازاں  اس علاقے میں دونوں ممالک نے اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کر دیا ھے

انڈیا کے نقشے پر اگر  نظر دوڑائیں تو شمال مشرق کی جانب بھوٹان اور سکم کے درمیان  ایک جگہ ہے جہاں ان تینوں ممالک کی سرحد ملتی ہے   یعنی سہ حدہ واقع ہے  لیکن یہ سہ حدہ کوئی متفق علیہ قسم کا زمینی نقطہ نہیں بلکہ تینوں ممالک کے درمیان اس کے  حقیقی مقام پر اختلاف موجود ہے   – نقشے پر دکھایا گیا سہ حدہ وہ جگہ ہے جس پر انڈیا متفق ھے  البتہ بھوٹان اس نقطے سے شمال کی طرف  اور چین 1890 میں برطانوی حکومت سے ہوئے ایک معاہدے کے تحت ،  اس سے جنوب کی طرف ایک مقام  گاموچن پر  سہ حدہ کا مقام ہونے کا  دعوی کرتا ھے –

اب چین اپنے علاقے یاڈونگ تک تو سڑک بچھا چکا ھے اور ابھی اس علاقے میں سڑک بنانے کی کوشش کر رہا ہے جسے  ڈاک لا یا Doklam  کہا جاتا ھے (لا تبتی زبان میں درے کو کہتے ہیں ) یہ سطح مرتفع  سامنے نقشے میں سرخ رنگ سے دکھائی گئی  ھے  اور بھوٹان اسے اپنا حصہ سمجھتا ھے- اب اگر یہ سڑک بن جاتی ہے تو  چین کو مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوں گے –

1- چین اپنے علاقے وادی چُمبی کا دفاع بھرپور طریقے سے کر سکے گا کیونکہ سکم سیکٹر میں بھارت کو زمینی برتری حاصل ھے –

2۔  چین بھوٹان کو یہ باور کرا سکے گا کہ  اس کے مفادات کا بہتر تحفظ بھارت کی بجائے صرف چین ہی کر سکتا ھے

3۔ چین اس علاقے تک اپنے مشینی دستے  اور  سامان رسد آسانی اور تیزی سے پہنچا سکے گا  جس  کی وجہ سے جنگ کی صورت میں   بھارت  کی شمال مشرقی سات ریاستوں کا بھارت کے ساتھ زمینی رابطہ  چین آسانی سے منقطع کر سکتا ھے – یہ کام بیس سے پچیس کلومیٹر طویل علاقے  ” سلگری کاریڈور” کو کاٹ کر بآسانی حاصل کیا جا سکتا ھے اس کاریڈور کو اس کی  فوجی اہمیت ، ساخت اور نزاکت کی بنا پر “مرغ کی گردن ” بھی کہا جاتا ھے – اسی سلگری کاریڈور کے دائیں جانب بھارت کی آپس میں متصل وہ سات ریاستیں واقع  ہیں  جنہیں سات ناراض بہنیں کہا جاتا ھے  اور جو کہ علیحدگی پسندوں کا گڑھ ہیں  اور ان کے بھارت سے علیحدہ ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اسی کی ریاست اروناچل پردیش پر چین ملکیت کا دعوی بھی کرتا ھے  – گذشتہ اپریل جب دلائی لاما نے اس ریاست کا دورہ کیا تھا تو چین نے اس پر سخت اعتراض کیا تھا – چین کا اس علاقے میں کوئی بھی قدم بھارت کے لیئے دور رس نتائج کا حامل ہو گا –

4 – اسی سلگری کاریڈور سے نیچے وہ دس ریاستیں  ہیں جن میں ماو نواز  کمیونسٹ گوریلے سرگرم عمل ہیں  اور جہاں بھارتی انتظامیہ رات کی تاریکی میں جانے کی ہمت نہیں کرتے – جنگ کی صورت میں یہ گوریلے اپنی ریاستوں کی آزادی کا اعلان کر سکتے ہیں-

بھارت کو  امریکی پالیسی سازوں کی نظر میں اصل اہمیت اوبامہ دور میں حاصل ہوئی جب چین کی ابھرتی ہوئی معاشی اور فوجی قوت سے مشرق بعید اور ایشیا میں امریکن بالادستی ڈولتی نظر آئی  تو چین کو گھیرنے کے لیئے  نئے اتحادیوں کی ضرورت محسوس ہوئی  بھارت نے امریکی خواہش پر آمنا و صدقنا کہا اور  نہ صرف امریکہ بلکہ اسرائیل کے دورے کے دوران بھی گھٹ گھٹ کر جپھیاں ڈالیں  یہ وہ پالیسی ہے جس سے ہندوستان کو آزاد کروانے سیاستدان احتراز کرتے رہے لیکن مودی نے  نے آ کر ایک مختلف راہ اپنائی ہے  جس پر فی الحال ہندوستان میں  اشرافیہ اور دیار غیر میں مقیم ہندوستانیوں  کو ہر طرف  ہرا ہرا دکھ رہا ہے –

 

 

Facebook Comments

 


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی