RSS
 

میں نعرۂ مستانہ

1,687 views --بار دیکھا گیا

24 Jan 2016

شاعر – واصف علی واصف – مجموعہ – شب چراغ

میں نعرۂ مستانہ، میں شوخئ رِندانہ
میں تشنہ کہاں جاؤں، پی کر بھی کہاں جانا
میں طائرِ لاہُوتی، میں جوہرِ ملکُوتی
ناسُوتی نے کب مُجھ کو، اس حال میں پہچانا
میں سوزِ محبت ہوں، میں ایک قیامت ہوں
میں اشکِ ندامت ہوں، میں گوہرِ یکدانہ
کس یاد کا صحرا ہوں، کس چشم کا دریا ہوں
خُود طُور کا جلوہ ہوں، ہے شکل کلیمانہ
میں شمعِ فروزاں ہوں، میں آتشِ لرزاں ہوں
میں سوزشِ ہجراں ہوں، میں منزلِ پروانہ
میں حُسنِ مجسّم ہوں، میں گیسوئے برہم ہوں
میں پُھول ہوں شبنم ہوں، میں جلوۂ جانانہ
میں واصفِؔ بسمل ہوں، میں رونقِ محفل ہوں
اِک ٹُوٹا ہوا دل ہوں، میں شہر میں ویرانہ

————————-

شوخی – بے باکی ،  گستاخی

رندانہ – دلیرانہ ، مستانہ

طائر – پرندہ ، تصوف کی اصطلاح میں سالک

لاہوت –   تصوف  کی اصطلاح ، عالمِ ذات الٰہی جس میں سالک کو فنا فی اللہ کا مقام حاصل ہوتا ہے، گنج مخفی، مقام محویت۔

ملکوتی – ملکوت سے منسوب یا متعلق، عالم قدس یا عالم ارواح کا، قدسیانہ، عالم غیب کا؛ مراد: پاکیزہ، نیک، معصومانہ۔

ناسوت – تصوف کی اصطلاح،  انسانی فطرت، نوعِ انسانی؛ انسانیت) (مجازاً) شریعت، ظاہری عبادت۔

سوز – تپش ، جلن

یک دانہ – لاجواب – یکتا

فروزاں ۔ روشن ، منور

لرزاں – کانپنے والا، تھرتھرانے والا، کانپتا ہوا، (مجازاً) بہت خائف۔

سوزش – سوختگی، جلن، کھولن۔ [ مجازا ] تاثر جس سے دل نرم ہو کر آنسو نکل آئیں، رِقّت۔

جانانہ –  محبوبانہ، معشوقانہ، دلربا، معشوق جیسا، دلبرانہ۔

بسمل – تڑپتا ہوا  ، بے چین

Facebook Comments

 
 


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی