RSS
 

غربت کا قرض

2,958 views --بار دیکھا گیا

02 Jun 2015

ہاں تو قرضہ حاصل کرنے کی پہلی درخواست کس کی ہے ؟

جناب اللہ بخش کی ہے ۔

ٹھیک ہے بلاو۔

ہاں بھئی اللہ بخش ، دفتر سے قرضے کی ضرورت کیوں آن پڑی ؟

جی وہ بھائی کی شادی کرنا ھے۔

تو کچھ تنخواہ میں سے بچت کی ھو گی وہ کتنی ہے تمہارے پاس ؟

تنخواہ سے بچت تو نہیں ہوتی کچھ اپنے پاس رکھ کر ساری گھر بھیج دیتا ھوں والدین کو۔

تو بھائی کی شادی آپ کے والد محترم کیوں نہیں کرتے ؟

جی وہ ضعیف ہیں کوئی کام کاج نہیں کرتے ۔

تم گھر میں سب سے بڑے بیٹے  ہو ؟

جی نہیں ہم نو بہن بھائی ہیں مجھ سے بڑے بھائی بھی ہیں لیکن وہ گھر کے معاملات میں دلچسپی نہیں لیتے ۔

یعنی پورے گھر کا بار تمہارے کندھوں پر ھے ؟

جی جناب

تو آپ نے اپنے والد محترم سے یہ سوال کیا کہ جب وہ اتنے بچے پیدا کر رہے تھے تو انہیں خیال نہیں آیا کہ کل کلاں انہیں پڑھانا بھی ہے اور ان کی شادیاں بھی کرنا ھیں ؟

خاموشی ۔

کتنا قرضہ چاہئیے ؟

جناب تین لاکھ

کیوں ؟

جناب زیور بنوانا ھے ، ولیمے کا کھانا کرنا ھے ، دلہن اور دلہا کے کپڑے لتے ، برادری کی خاطر داری اور رسمیں ۔۔

صرف پچیس ہزار کا قرضہ دیا جاتا ھے ۔ کسی ایسے شخص کو زیادہ قرضہ نہیں دیا جا سکتا جو اپنی تنخواہ میں تھوڑی بہت بچت نہ کر سکے ، جو اپنے دماغ کی بجائے فضول رسموں کا غلام اور جس کے والد صاحب صرف اور صرف بچے پیدا کرنا جانتے ہوں ۔

نیکسٹ

دوسری درخواست وحیداللہ کی ہے ۔

ہائی بھئی وحیداللہ ، کیا مسئلہ ہے ؟

جناب میرے بچے بڑے ہو گئے ہیں ان کی نوکری کا بندوبست فرما دیں ۔

کل کتنے بچے ہیں ؟

جی پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں

نوکری کے قابل کتنے ہیں ؟

جی تین ۔

تو ان کی تعلیم کیا ھے ؟

جی میٹرک فیل ہیں ۔

کوئی ہنر جانتے ہیں وہ ؟

نہیں جناب ۔

تو انہیں پڑھایا کیوں نہیں ؟

بس جی غریب آدمی کیا پڑھاوے ۔

ہاں تو غریب آدمی بچے پیدا کرنے سے پہلے بھی تو سوچ سکتا ھے نا کہ وہ غریب آدمی ہے کل کلاں انہیں پڑھانا بھی ہے ، کسی قابل بنانا ھے – میٹرک فیل بچے میرے کھاتے میں تو مت ڈالو نا ۔ ایک عدد درخواست اللہ میاں کو لکھو کہ اب ان کی ملازمت کا بندوبست بھی کرے ؟۔

خاموشی

پہلے انہیں کوئی ہنر سکھاو پھر میرے پاس آنا ان کی ملازمت کے لیئے ۔ نیکسٹ

جی شربت علی صاحب

جی وہ قرضہ نہیں دو لاکھ کی امداد چاہئیے ۔ ایک مقدمے میں پھنسا ہوا ھوں

کس قسم کا مقدمہ ؟

جی وہ گاوں میں لڑائی ہوئی تھی میرا نام بھی ایف آئی آر میں ھے ۔

تو کیوں کی تھی لڑائی ؟

بس جی غریب آدمی ہوں وہ شریکے برادری میں کرنا پڑتا ھے ورنہ لوگ طعنے دیتے ہیں ۔آپ کو اللہ کا واسطہ ہے

تو امداد لینا طعنہ نہیں ھے ؟ دوسروں کی لڑائی میں شریک ہونے سے پہلے سوچنا تھا نا کہ غریب آدمی تھانہ کچہری میں پیسہ ضائع نہیں کر سکتا ۔ نیکسٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باہر گیلری میں جہاں لوگ جمع ہیں

صاحب تو اندر کفر بولتا ھے ۔ دین مذہب کا لحاظ ہی نہیں ھے اللہ کا بھی خوف نہیں ھے ۔ عذاب پڑے گا عذاب اس پہ ، غریبوں کی مدد نہیں کرتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مندرجہ بالا واقعات کا عینی شاہد میں خود ہوں اور یہ ہر مہینے میرے سامنے رونما ہوتے ہیں ۔ کچھ بھی تو  نہیں بدلتا سوچ بھی وہی اور انداز بھی وہی رہتے ہیں ۔

Facebook Comments

 
  1. raina jaffri

    02/06/2015 at 12:16 AM

    سوچ اس لیے نہیں بدلتی کہ ھم نے کبھی مذہب کو پرھنے اور جاننے کی کوشش ہی نہیں کی بس جو اپنے اردگرد سے سنا کہ رزق دینے والا اللہ ھے اسی پہ یقین کامل کر لیتے ھیں یہ سوچے اور جانے بنا کہ اللہ رزق تو دیتا ھے لیکن اس کیلیے کوئی حیلہ خود بھی کرنا پڑتا ھے تب اللہ پاک وسیلہ بناتے ھیں اور جب تنگی آتی ھے تو اس بات کیلیے اللہ سے اور لوگوں سے شکوہ کناں ھوتے ہیں کہ کوئی ہماری مدد کیوں نہیں کر رہا ۔ یہ تمام واقعات حقیقت ہیں کہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ خاندان اور برادری کیے فضول رسم و رواج ہیں ۔

     
  2. افتخار راجہ

    02/06/2015 at 12:38 AM

    ہم لوگ پکے لکیر کے فقیر ہیں، ایک ہی روٹین میں‌رہ کر تبدیلی چاہتے ہیں، تنگ دست کی مدد کرنے کو سوچا کبھی نہیں‌ البتہ مقدمے پر پیسے لگا دیتے ہیں، تو ایسے میں اپنا ہاتھ کیسے کھلا ہو

    ایسوں کا تو ایسے ہی چلتا ہے

     
  3. عمار ابنِ ضیا

    02/06/2015 at 9:03 AM

    حقیقت تلخ ہوتی ہے اور اسے قبول کرنا مشکل، اس کے مقابلے میں دوسرے کو الزام دینا آسان۔ لہٰذا ہم اپنے ہر مسئلے اور ہر مشکل کا الزام دوسرے کے سر رکھے جا رہے ہیں اور جی رہے ہیں۔

     
  4. وسیم ابنِ حبیب

    02/06/2015 at 1:06 PM

    کوئی ان کی نہج پر بھی آکر سوچے کہ کیسے ہوگئے وہ اتنے لاچار،کیسے اس اندھے کنویں کی اندھیر گہرائی میں گرے، مانا بچے زیادہ پیدا کیے، مانا فضول رسموں کو گلے میں لٹکایا ، پر صاحب کہی نہ کہی معاشعرتی گڑ بڑ ضرور ہے ۔ایک ایسا معاشرتی گن ہونا چکر چلا ہوا ہے معاشرے میں کہ ، جس چکر میں آکر یہ بے چارے غربت کی اس نہج کو پہنچ گئے کہ ،کوئی بھی ان کی عزت کی درگت بنائے ، اور اُول فول طعنے دے۔
    اللہ میاں ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے

     
    • محمد ریاض شاہد

      03/06/2015 at 10:32 AM

      وسیم صاحب
      کسی غریب گھرانے میں پیدا ھونا ہمارا انتخاب نہ تھا ۔ لیکن مسلسل غریب رہنا ہمارا انتخاب ضرور ہو سکتا ھے ۔ انتخاب یا پہلی ترجیح جب بدلتی ہے تو پھر ہمارے حالات بھی بدلنا شروع ھو جاتے ہیں

       
      • خرم

        22/06/2016 at 5:06 AM

        محترم !آپ نے کسی بزرگ بابا کریم بخش صاحب کا تذکرہ فرمایا دعائے گنج العرش والی پوسٹ پر!اگر مناسب سمجھیں تو ان کے حالات زندگی پر سے کچھ پردہ اٹھائیں!جزاک اللہ خیر

         
  5. نورین تبسم

    02/06/2015 at 1:44 PM

    غربت کسی بھی معاشرے پر لگا ایک ایسا بدنما داغ ہےجو بھوکے ننگے لوگوں کے جسموں سے چھلکتا پڑتا ہے اور دیکھنے والوں کو جذبہ ترحم اور بےبسی کی کیفیت میں مبتلا بھی کر دیتا ہے۔ لیکن معاشرے کا اصل ناسور “جہالت” ہے جواونچے محلوں والے تو اپنی شان وشوکت میں کامیابی سے چھپا جاتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ کچے گھروں میں رہنے والے دوسروں سے زیادہ خود اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں ۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      03/06/2015 at 10:30 AM

      نورین صاحبہ
      جہالت تو جہالت ھے چاہے جہاں بھی ہو ۔ لیکن اللہ نے عقل بھی تو دے رکھی ہے اسے استعمال کرنا بھی تو انسان کا کام ھے ۔ جو اس عقل سے کام لیتے ہیں وہ کم از کم غریب نہیں رہتے

       
  6. محمداحمد

    10/06/2015 at 5:06 PM

    بہت خوب اچھی تحریر!

    اور اچھے تبصرے۔

    سچ کہا غربت نصیب ہو سکتی ہے لیکن غربت کو نصیب سمجھ لینا عقلمندی نہیں‌ہے۔

     
  7. پاکستان ڈیلی ٹائمز

    29/10/2015 at 8:05 PM

    کمال لکھا جناب نے اور راہی غربت کی بات تو عروج کو زاول اور زاول کو عروج زرور آتا ہے ۔اللہ پاک ہر انسان کو ایک معقہ زرور دیتا ہے

     
  8. ھشام نجم

    04/03/2016 at 2:34 AM

    میرے خیال میں اس طرح کے مزاج میں کچھ نہ کچھ دخل ہماری اس ذہنیت کا بھی ہے جس کے زیر اثر ہم ہر جدید چیز کو سازش قرار دے دیتے ہیں وہ بھی بغیر تصدیق کے۔ پولیو مہم سازش، عورتوں کے حقوق خاندانی نظام کے خلاف سازش، خاندانی منصوبہ بندی سازش، مدارس کی تعلیم میں جدت سازش۔ لوگ سرما یاکاری یا امداد جو جدید ممالک کی جانب سے کی جاتی ہے کو شدید شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

    میرے خیال میں انسان کو رب نے احساس اور جزبات کا ایسا نظام دیا ہے کہ وہ اپنی بے پناہ خوش حالی کو دوسرے کم خوشحال افراد کے ساتھ باٹنا چاہتا ہے۔ لہذا کسی کی امداد کو سازش یا چال کہنے سے پہلے اس بات کو سوچنا ضرور چاہیے۔

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی