RSS
 

یادوں کی دھول

2,811 views --بار دیکھا گیا

27 May 2015

کتابیں بھی  انسانوں کی خصوصیات لیئے ہوتی ہیں بعض کتب دیکھ کر ہی انہیں دور سے سلام کرنے کو جی چاہتا ھے ، بعض کو دو چار سطریں پڑھ کر ایک طرف رکھ دینا پڑتا ھے لیکن کچھ کتب ایسی ہوتی ہیں کہ جی چاہتا ھے بیڈ سائڈ ٹیبل پہ دھری رہیں اور جیسے بندہ دھیرے دھیرے  نمکو یا چاکلیٹ ٹھونگتا رہتا ھے اسی طرح  کتاب کے مندرجات کا بھی مزہ تھوڑا تھوڑا اور بار بار لینے کو چاہتا ھے ۔

پروفیسر عبدالحفیظ صدیقی مرحوم کی لکھی ہوئی خود نوشت ” یادوں کی دھول ” ایک ایسی ہی کتاب ھے جس کے سحر نے مجھے پچھلے ایک ماہ سے جکڑ رکھا ھے اور میں اس سے رات فرصت میں متذکرہ بالا سلوک کر رہا ہوں ۔ پروفیسر عبدالحفیظ صدیقی مرحوم کے والد محترم دیو بند سے فارغ التحصیل خطیب تھے ۔ صدیقی صاحب کا بچپن کا دور عسرت انڈیا اور بعد میں دور طالبعلمی پاکستان میں گذرا ۔ ملازمت کی ابتدا سے انہیں بقول ان کے جے وی ٹیچر ( جونیئر ورنیکلر ) رہنے کی ذلت نصیب ہوئی اور بعد میں اردو میں ماسٹر کرنے کے بعد پروفیسر ہوئے ۔ایک حساس انسان کے طور پر  ان کا مشاہدہ حیران کن حد تک عام زندگی کے ان کرداروں کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے پہلووں اور واقعات کو اپنی یادداشت کی نوٹ بک میں درج کرتا چلا جاتا ھے کہ حیرت ہوتی ہے ۔IMG_20150527_005854

کتاب میں زیادہ تر خاکے ہیں اور کچھ ان کی زندگی کے مناظر ۔ انہیں بڑے لوگ ، اچھے لوگ ، کامیاب لوگ ، تنکے ، چند مناظر ، پتنگ بازی کے ناطے اور اور اشرف المخلوقات کے ابواب میں تقسیم کیا گیا ھے ۔تنکے کے زیر تحت واقعات اس انداز میں لکھے گئے ہیں کہ  پڑھتے ہوئے قاری کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ حقیقی واقعات ہیں یا افسانہ ہیں ، مثلا ” ایک اور ہیملٹ ” ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جسے اس کی ماں اور ماموں اس لیئے نازو نعم سے پال رہے ہیں کہ وہ اپنی محبت کو قربان کرتے ہوئے دشمنوں سے اپنے باپ کے قتل کا انتقام لے کر پھانسی چڑھ جائے لیکن وہ قبر میں لیٹنا پسند کرتا ھے  یا پھر” اشرف المخلوقات کے خدام” کے باب کا “شیرو “جو ایک بھینسا ہے اپنے گاوں کی ایک لڑکی کی عزت بچاتے ہوئے سکھوں کے ہاتھوں ذخمی ہو کر جاں بہ لب اس لڑکی کے گھر کے سامنے پہنچ کر جان دے دیتا ھے اور وہ لڑکی کہتی ہے خبردار کسی نے اسے سانڈ کہا یہ میرا بھائی تھا ۔

چونکہ اس طرح کے سرسری تذکرے سے  مصنف کے انداز تحریر اور حسن بیاں  کا مکمل طور اندازہ نہیں ہو پاتا اس لیئے اس کتاب کے پہلے مضمون کا کچھ حصہ نقل کرنے کی بدعت کر رہا ہوں۔IMG_20150527_005916

تایا جی

تائی اماں نیک خاتون تھیں ، صوم و صلوۃ کی پابند تھیں ۔ باقاعدگی سے قرآن کی تلاوت کرتی تھیں ، مگر تصوف کے اسرار سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی ۔ ادھر تایا جی صوفی مرد تھے ۔ زندگی کو تصوف کی عینک سے دیکھتے تھے ، اس لیئے انہیں ہر طرف ہرا ہرا ہی سوجھتا تھا ۔ ایسے ایسے مواقع پر تصوف ڈھونڈھ نکالتے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی تھی ۔

تائی اماں ان کے سامنے چرخہ نہیں کات سکتی تھیں ، کیونکہ چرخہ دیکھ کر وہ رونے لگتے تھے ۔ چرخہ چل رہا ہو تو اس کی بے بسی پر فارسی اشعار میں اظہار تاسف فرماتے تھے ۔ چرخہ رک جاتا تو اسے چرخے کی وفات حسرت آیات قرار دے کر پنجابی اشعار میں اظہار تعزیت کرتے ۔ تائی اماں کا خیال تھا کہ وہ صرف جنازوں میں شرکت کرنے ، رونے اور شعر پڑھنے کے لیئے پیدا کیئے گئے ہیں ۔

ایک دن گھومتے گھماتے کمہار کے ہاں جا نکلے اور بڑی توجہ سے چاک پر برتن کو تشکیل پاتے دیکھتے رہے پھر بولے ” دینو یہ گھڑا کچا ھے نا ؟ ”

ہاں میاں جی ۔ دینو نے جواب دیا ” یہ کچا ھے ذرا سی ٹھوکر سے ٹوٹ سکتا ھے ۔ پانی لگے تو گل جائے گا ”

“پکا گھڑا کونسا ھوتا ھے ؟”

یہی گھڑا جب آوے میں پک کر سخت ہو جائے گا تو پکا کہلائے گا ”

“پکا گھڑا کبھی نہیں ٹوٹتا؟” تایا جان نے ننھے بچے کی طرح مچل کر پوچھا ۔

” نہیں میاں جی پکا گھڑا بھی ٹوٹتا ھے ”

“پھر پکا گھڑا بھی پکا تو نہ ہوا ”

ہاں میاں جی ” دینو نے اتفاق کرتے ہوئے کہا “بڑوں نے کہا ھے سجنا جو بنیا سو بھجنا”

اوئے ظا لما یہ کیا کہ دیا جو بنیا سو بھجنا ۔ کل شئی حالک ۔ جو حادث ھے وہ فانی ہے ۔ کل من علیہا فآن۔ کچے تو کچے ہی ہوتے ہیں ۔ پکے بھی کچے ہی ہوتے ہیں ۔ ان الفاظ کے ساتھ ہی تایا جان پر وارفتگی اور شوریدگی کا دورہ پڑ گیا کہ انہیں سنبھالنا مشکل ہو گیا ۔ وہ اپنی داڑھی نوچ رہے تھے اور چیخ رہے تھے ” کچیا تجھے کب عقل آئے گی ۔ اوئے کچیا تجھے کب عقل آئے گی ۔

ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ میں ان کے مکان پر پتنگ اڑا رہا تھا ۔ اچانک عقب سے سسکیوں کی آواز آئی ۔ مڑ کر دیکھا تو معلوم ھوا تایا جان پتنگ پر نظریں جمائے کھڑے ہیں اور رو رہے ہیں ۔ داڑھی آنسووں سے بھیگی ہوئی ھے – پانی بھری جھریاں پنجاب کی نہروں کا نقشہ پیش کر رہی ہیں ۔ نہ جانے کب سے اس عالم میں کھڑے تھے ۔ میں یہ سوچ کر کہ شاید انہیں میرے پتنگ اڑانے سے تکلیف پہنچی ہے جلدی سے ہتھے مار کر پتنگ اترنی شروع کی تو تایا جان بے قرار ہو کر بولے ” نہیں بیٹا نہیں ، خود نہ اتاروآخر اسے اترنا ہی ہے ۔ دیکھو تو سہی کتنی اونچی اڑ رہی ہے ۔ آزاد فضاوں میں فراٹے بھر رہی ہے ۔ قلابازیاں لگاتی ھے ، اٹھکیلیاں کر رہی ہے ۔ سمجھتی ہے میں آزاد اور خود مختار ہوں ۔ جبر مشیت کا کوئی دخل ہی نہیں ۔ او آسمان سے باتیں کرنے والی نادان پتنگ ! تجھے کیا معلوم تیری اڑان ، تیری شوخیاں ، تیری اٹھکیلیاں ، تیرا جیون ، ہر چیز ایک نازک سی ڈور سے بندھی ہے ۔ یہ نازک ڈور کسی وقت بھی ٹوٹ سکتی ہے ۔ایک لمحے کا بھی بھروسہ تو ٹھیک نہیں ۔ ٹھیک ھے مولا، ٹھیک ھے ۔ کیے جا تماشے ، کیئے جا تماشے ، پر اتنی گذارش ھے کہ جب سانسوں کی ڈور ٹوٹ جائے اور یہ نادان ، گھنمڈی پتنگ تیرے قدموں میں آن گرے تو زیادہ سختی نہ کرنا ، ہتھ ہولا رکھیں ، زور آورا ہتھ ہولا رکھیں”

تائی اماں غصے میں بپھری ہوئی کوٹھے پر نمودار ہوئیں اور تایا جان کو ڈانٹنے لگیں ” شرم تو نہیں آئی ہو گی ، بڈھے ہو گئے مگر پتنگ کا شوق نہ گیا ۔ اپنے ساتھ اس معصوم کو بھی خراب کر رہے ہو ۔ ادھر گائے بھوکی کھڑی ہے ، ابھی تک چارہ نہیں لائے ” اور تایا جان گھگھیا رہے تھے” ہتھ ہولا رکھیں ، زورآورا ہتھ ہولا رکھیں ”

تایا جی ہر سال بیساکھ کی آخری جمعرات قوالی کرایا کرتے تھے اور مجھے قوالی کی اس سالانہ محفل میں تایا جی کے صاحبزادہ اول کی حیثیت سے ہار پھول پہن کر ان کے دائیں ہاتھ پر بیٹھنا پڑتا تھا ۔ مجھے تقریب سے قطعا کوئی دلچسپی نہ تھی۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ بندھا خوب مار کھاتا ھے ، میں گاو تکیئے سے ٹیک لگا کر بیٹھا رہتا ۔تایا جی کے معتقدین میرے توسط سے قوال کو پیسے دیتے رہتے ۔ بہت جی چاہتا ایک دو روپے چھپا کر جیب میں ڈال لوں لیکن رومی ٹوپی والا موٹا قوال بھی بڑا کائیاں تھا۔ جونہی کوئی عقیدت مند روپیہ لا کر نذر کرتا ، موٹا قوال زقند لگا کر میرے سامنے پہنچ جاتا اور روپیہ وصول کر کے دونوں ہاتھوں سے سلام کرتا ہوا واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاتا  اور ہم کڑھتے رہتے ۔ کمبخت نے کبھی موقع نہ دیا کہ ہم بھی عقیدت مندوں سے کوئی فائدہ اٹھا سکیں۔قوالی کی اس محفل میں دوسری تکلیف دہ بات تھی کہ قوالی کے بعض مصرعے مجھے بالکل خرافات معلوم ہوتے تھے ۔ جی چاہتا تھا کہ ان بے معنی اور مضحکہ خیز مصرعوں پر خوب قہقہے لگاوں مگر آداب محفل کے خیال سے اس طفلانہ خواہش کو سختی سے دبائے رکھتا ۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی تجربے میں آئی تھی کہ جن مصرعوں پر ہم بھناتے تھے انھی میں سے بعض تایا پر وجد و حال کی کیفیت طاری کر دیتے تھے ۔ ایک دفعہ تو تایا جان کو اس مصرع پر حال آ یا:

” کوڑی نم نوں پتاسے لگدے ویہڑے چھڑیاں دے۔”

جب قوالوں نے یہ مصرع پڑھا تو تایا جان چونکے ۔ مصرع پھر پڑھا تو تایا جان جھومنے لگے ۔ مصرعے کی تکرار ہوئی تو تایا جان گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر لہرانے لگے۔ پھر جوش میں آ کر” اللہ ہو ۔” کا نعرہ لگایا اور کھڑے ہو کر بے قراری کے عالم میں زور زور سے سر کو جھٹکنے ، جھومنے اور بازو لہرانے لگے ۔ ان کی دستار مبارک اڑ کر موٹے قوال کے قدموں میں جا گری ۔ ایک عقیدت مند نے دستار اٹھا کر اسے بوسہ دیا اور پھر اسے میری جھولی میں رکھ کر واپس چلا گیا ۔ اب صورتحال یہ تھی کہ دو آدمی انہیں بصد مشکل تھامے ہوئے ہں اور وہ حال کھیل رہے ہیں ۔ قوال اسی چیستاں نما مصرعے کو زور و شور سے دہرا رہے ہیں :

کوڑی نم نوں

اوئے کوڑی نم نوں۔۔۔۔۔

اور تایا جان کا جوش و خروش ہر لحظہ بڑھتا جا رہا ھے ۔ پیچھے سے کسی منچلے نے ہانک لگائی ” یہ حال محض ڈھونگ ہے ان کی ران میں سوئی چبھو کر دیکھو” تایا جان تو یہ فقرہ سننے کے لیئے وہاں موجود ہی نہیں تھے ۔ وہ تو کڑوی نیم سے بتاشے توڑنے گئے ہوئے تھے ۔ البتہ تایا جی کا ایک عقیدت مند اپنا وزنی لٹھ تولتا ہوا اس منچلے معترض کی طرف لپکا ۔ تایا جی کا جوش کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا ۔ آخر بعض ماہرین کے مشورے سے لوگوں نے ان کی ٹانگیں رسی سے باندھ کر انہیں درخت سے الٹا لٹکا دیا ۔ یہ تایا جی کی شوریدگی کا نقطہ عروج تھا۔ قوال گا رہے تھے :

ویہڑے چھڑیاں دے

ہاں ہاں ویہڑے چھڑیاں دے

اوہو ویہڑے چھڑیاں دے

آہا ویہڑے چھڑیاں دے

کوڑی نم نوں پتاسے لگدے

اور تایا جی جو الٹے لٹکے تھے ” اللہ ہو ” کہ کر اُچکتے تھے اور ان کی کمر میں گہرا خم پیدا ہو جاتا وہ ہلا مار کر اپنے ہاتھ اپنے ٹخنوں سے چھو لیتے ۔ میں حیران تھا کہ کہ بڈھے تایا جی کے نحیف نزار جسم میں اتنی طاقت کیسے اور کہاں سے آ گئی ھے ۔ قوت و ہمت کا یہ مظاہرہ مشاق بازی گروں کے سوا کسی کے بس کی بات نہ تھی ۔مجھے یقین تھا کہ تایا جی کے جسم میں کسی نوجوان چھڑے کی روح داخل ہو گئی ھے جو خر مستیاں کر رہی ہے۔ کوئی آدھ گھنٹے کی جانکاہ مشقت کے بعد تایا جی کا جوش شوریدگی ختم ہو گیا ۔ غالبا وہ بے ہوش ہو گئے تھے ۔ انہیں درخت سے اتار کر محفل کے وسط میں لٹایا گیا ۔ چند عقیدت مند ان کے بازو اور کندھے  دبانے لگے ۔ اسی روز شام کو میں نے اعلان کیا کہ اگلے سال کی محفل میں آپ کے ساتھ قوالی کی محفل میں نہیں بیٹھوں گا ۔

” کیوں کیا ہوا ؟” تایا جی نے حیران نظروں سے پوچھا۔

”  آپ الٹے سیدھے مصرعوں پر حال کھلینے لگتے ہیں مجھے شرم آتی ہے ”

“اچھا ۔ ” تایا جی کو غصہ آ گیا ” تجھے اللہ رسول ﷺ کے تذکرے پر شرم آتی ہے”

آپ جھوٹ بولتے ہیں ۔ میں تائی اماں کو بتاوں گا کہ آپ کون سے مصرعے پر حال کھیل رہے تھے ۔ میں نے دھمکی دی

” ارے نہیں بیٹا نہیں ” تایا جی ڈر گئے ” کہیں یہ غضب نہ کر بیٹھنا ” انہوں نے مجھے بازو سے پکڑ کر چُمکارتے ہوئے کہا ” آو میں تمہیں سجھاوں ۔”

سمجھائیے ۔ میں نے بیزاری سے کہا

” بچوں کو حروف تہجی پڑھاتے ہیں تو لفظوں کا حساب  سمجھانے کے لیئے کہتے ہیں الف خالی با کے نیچے ایک نقطہ ”

“جی ” میں نے بیزاری کا لہجہ برقرار رکھتے ہوئے کہا۔

“گویا حروف تہجی دو قسم کے ہوتے ہیں ”

جی ہاں میں نے بات کاٹ کر اپنی علمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ” مجھے معلوم ھے کچھ حروف منقوطہ ہوتے ہیں جیسے ت ، ث اور کچھ غیر منقوطہ جیسے ا اور ح وغیرہ ۔ موخرالذکر کو خالی بھی کہتے ہیں ۔

“شاباش ” تایا جی نے خوش ہو کر کہا ۔ یہی حروف جنہیں علماء کی زبان میں غیر منقوطہ اور بچوں کی زبان میں خالی کہتے ہیں انہیں پنجاب کے  اللہ والے چھڑے کہتے ہیں ۔الف چھڑا ھے ۔ لفظ اللہ اور محمد ﷺ دونوں غیر منقوطہ حروف پر مشتمل ہیں بلکہ پورا کلمہ طیبہ ہی غیر منقوطہ ہے ۔ قوال گا رہے تھے کوڑی نم نوں پتاسے لگدے ویہڑے چھڑیاں دے ۔ مطلب یہ تھا کہ کہ وہ تمام امور جنہیں ہم نا ممکن سمجھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہاں ممکن ہیں ۔ ہمارے ہاں کڑوی نیم کو نبولیاں لگتی ہیں سیب یا آم نہیں لگتے ، لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہاں کڑوی نیم کو بتاشے جیسا میٹھا پھل بھی لگ سکتا ھے بلکہ لگتا ھے مثلا ۔۔۔۔۔۔” ان کی تقریر جاری تھی ، اور ادھر میرے ہمجولی میرا انتظار کر رہے تھے ، چنانچہ میں انہیں صحن ہی میں تقریر کرتے چھوڑ کر گلی میں نکل آیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ناشر ۔ سانجھ پبلیشنز بک سٹریٹ 46/2 مزنگ روڈ لاہور

قیمت : 590 روپے

اشاعت دوم : 2011

———————————————-

چھڑے یا چھڑا- (پنجابی – اسم صفت ، بمعنی اکیلا، تنہا  یا غیر شادی شدہ)

نم – نیم کا درخت

پتاسے – بتاشے

ویہڑہ – صحن بمعنی گھر

Facebook Comments

 

Tags:

  1. raina jaffri

    27/05/2015 at 7:19 AM

    بہت اعلٰی کتاب اور بہت ہی خوبصورت انداز میں آپ نے اسے بیان کیا.

     
  2. ایم شاہد یوسف

    27/05/2015 at 8:30 AM

    ہم نے کتاب پڑھے بغیر کتاب کی سیر کر لی،میرے خیال سے جو بندہ کتا ب سے دور رہتا ہے اُسکا علم نا مکمل رہتا ہے ۔

     
  3. نسرین غوری

    27/05/2015 at 12:08 PM

    بہت خوب ۔۔ کتابوں پر تبصرہ ضرور لکھنا چاہیے اور دوستوں سے بانٹنا چاہیے ۔۔ چاہے چار لائنیں ہی ہوں ۔۔ اچھا لکھا اور بدعت والا حصہ دوسروں کوبھی کتاب پڑھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ خوش رہیے ۔

     
  4. عامر خاکوانی

    27/05/2015 at 7:09 PM

    بہت شاندار، اسے پڑھنا اچھا لگا، کتاب لینے کی کوشش کروں گا، ریاض بھائی آپ کا شکریہ ، آپ نے بڑی عمدگی سے کتاب کا تعارف کرایا ہے۔

     
  5. Abuabdallah

    27/05/2015 at 9:58 PM

    Riaz sb bohat umdah intakhab. Jaza ka Allah
     
  6. نورین تبسم

    27/05/2015 at 10:32 PM

    ” یادوں کی دھول” سے جوش ملیح آبادی کی “یادوں کی بارات” یاد آ گئی۔یہ یادیں بھی عجیب ہیں کسی کے لیے شادیانے تو کسی کے لیے تازیانے کا کام دیتی ہیں۔
    آپ نے بہت خوبصورتی سے اپنا احساس قلم بند کیا اور “یادوں کی دھول” سے چمکتے ذرے چن کر منتخب کیےجو صاحب تصنیف کی عاجزی اور علم کی روشنی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
    اگر محترم پروفیسر عبدالحفیظ صدیقی کے آخری ایام یا تاریخ وفات کے بارے میں اورپاکستان میں ان کے قیام اور ادبی سفر کے بارے میں مختصرآ کچھ بتا سکیں اس کتاب کے حوالے سے تو ممنون رہوں گی شکریہ۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      29/05/2015 at 12:09 AM

      کچھ تفصیل تو بلاگ پر کتاب کے بیک کور میں موجود ہے ۔ ان کی پیدائش انڈیا میں ہوئی جہاں ان کے والدجالندھر کے مختلف علاقوں میں مساجد کے خطیب رہے- میٹرک کرنے کے بعد ہجرت کر کے اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آ کر گوجرانوالہ کے قریب گھکڑ منڈی کے ایک گاوں میں آباد ہوئے ۔ بی اے کے بعد بطور مدرس ملازم ہوئے ۔ تقریبا گیارہ سال جے وی ٹیچر رہے اور ضلع شیخوپورہ کے سکولوں میں پڑھاتے رہے ۔ ایم اے اردو کر کے پروفیسر ہوئے اور ملازمت کا زیادہ تر حصہ اوکاڑہ میں گذرا ۔ وہیں وفات پائی اور مدفون ہیں ۔ اگرچہ پروفیسر صاحب میرے علاقے سے ہیں لیکن ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی ۔ اس دفعہ والد صاحب چھٹیوں میں میرے ہاں تشریف لائیں گے تو ان سے مزید تفصیل پوچھوں گا

       


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی