RSS
 

بلو کیا حال ہیں

1,564 views --بار دیکھا گیا

28 May 2015

میرے ننھے جڑواں بیٹے جب سے چلنا سیکھے ہیں انہیں کسی پہلو قرار نہیں آتا ۔ آجکل ان کی ترک تازیوں کا مرکز ہمارے گھر کا  لان ھے ۔ ان کے دوستوں میں شامل ایک عدد آوار بلی ھے جسے دودھ پلانے کے چکر میں وہ سارا کچن الٹ پلٹ کر رکھ دیتے ہیں ۔ اس واردات کے لیئے وہ وقت منتخب کرتے ہیں جب ان کی اماں جان کچھ دیر کے لیئے ادھر ادھر ہوتی ہیں ۔ اس سے پہلے دو عدد خرگوش تھے جو بے چارے ہر وقت اپنی اپنی دُمچیوں کی خیر ان ہاتھوں خیر مناتے رہتے تھے ۔ انہیں سب سے زیادہ  خوشی پڑوسیوں کی مرغیوں کو دیکھ کر ہوتی ہے جو ہمارے گھر اپنے ذوق آوارگی کی تسکین کرنے آ جاتی ہیں ۔ دونوں انہیں کُکو کہتے ہیں ۔ اس کی آمد پر ان کے چہرے لال گلال ہو جاتے ہیں اور وہ وارفتگی سے قلقاریاں مارتے ان کا پیچھا کرتے ہیں ۔ ہاں قبل ازیں  ان کا دوست ایک عدد کچھوا تھا جو میرے بڑے بیٹے نے لان میں پال رکھا تھا ۔ ایک دن میں نے ٹی وی پر چھوٹوں کو ہاتھی دکھا کر اس کا انگریزی نام ایلیفنٹ بتایا تو ہاتھی تو انہیں بھول گیا البتہ کچھوے کا نام انہوں نے ایلی رکھ دیا ۔ اس ایلی کی شامت ان دونوں کے ہاتھوں آئی رہتی تھی کبھی اسے گود میں اٹھا ئے پیار کر رہے ہیں تو کبھی اس بے چارے کو گھاس پر پٹخا رہے ھے ۔جب وہ پھولوں کے پودوں کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کرتا ھے تو اسے گھسیٹ باہر نکال لاتے تھے بے چارے کی زندگی اجیرن ہو کے رہ گئی ۔ ایک دن یہ دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ وہ دونوں اسے فٹ سٹول بنا اس کے اوپر کھڑے ہو کر دیوار پر لگے سوئچ کو چھونے کی کوشش کر رہے تھے ۔ میں نے اس خیال سے کچھوے کو ملازم کے ہاتھوں گندے نالے کے قریب چھوڑ دیا کہ اگر یہاں رہا تو یا تو بچوں کو کاٹ لے گا یا پھر ان کے ظلم و ستم کے ہاتھوں بنا کسی کچھوی کو دیکھے اس عالم فانی سے کوچ کر جائے گا ۔ ویسے بھی کچھوے کے منہ کی پکڑ کافی سخت ہوتی ہے زنبور کی طرح چبا ڈالتا ھے۔

مشتاق احمد یوسفی نے ہی کہیں لکھا تھا کہ ” مسلمان کوئی ایسا جانور نہیں پالتے جسے وہ کھا نہ سکیں ” ۔ میری طرف سے اس میں یہ اضافہ کر لیں کہ جن جانوروں کو ہم کھا نہیں سکتے ان کے ساتھ کتے والی کرتے ہیں حالانکہ انسان کتے کا بہترین رفیق ھے ۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامے میں لکھا کہ “جب ہم دریائے سندھ کے کنارے پہنچے تو وہاں ہاتھی ڈباو گھاس کے جنگل دور تک  دیکھے جس میں گینڈے بڑی فروانی سے گھومتے پھرتے تھے ۔” اب گینڈا تو ہمارے ہاں چڑیا گھر میں بھی نہیں پایا جاتا البتہ ایک رپورٹ میں دیکھا کہ ہندوستان کے ایک علاقے میں ان کے لیئے ایک ریزرو فارسٹ بنایا گیا ھے ۔ یادش بخیر آج سے سات آٹھ سال پہلے چولستان میں گھومنے کا موقع ملا ۔ حرام ھے سوائے لومڑی کے کوئی اور جنگلی جانور نظر آیا ھو ۔ اسی سناٹے میں جب میری جیپ ایک جھاڑی کے قریب پہنچی تو وہاں  ایک  چُھپا ہوا ہرن چوکڑیاں بھرتا ھوا نکلا ۔ اس کے بھاگنے میں بھی عجب شان تھی ۔ ہرن اس تیزی سے بھاگا کہ ہوا میں بس یوں محسوس ہوتا تھا کہ دوڑ نہیں رہا بلکہ تیر رہا ھو ۔ یک لحظہ اس کی ٹانگیں زمین سے چھوتیں اور پھر وہ ہوا میں بلند ہو جاتا ۔ ہم جنہوں نے شیرنی تک کو بھی صرف چڑیا گھر اور گھر داری کے پنجرے میں قید بے بس دیکھا تھا  اس نظارے نے محو کر دیا ۔ سچ ھے کسی بھی انسان کو یا جانور کو اس کے آبائی قدرتی ماحول سے جدا کر دینے سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہے ۔ شاید کوئی سر گزشت اسیر ہی اس کی بہتر تصویر کشی کر سکے ۔

اپنی طرف کا تو یہ عالم تھا ادھر ہندوستان کی سرحد پار باڑ کے پیچھے کئی ہرن اور نیل گائے بے خوف و خطر کھڑے ہماری طرف منہ اٹھائے تک رہے تھے ۔ میں نے دل میں کہا ” بچو ! شکر کرو تم سبزی خوروں  کے ملک میں عافیت سے ہو ادھر ہوتے تو اب تک تم وہیں پہنچ جاتے جہاں تمہارے بزرگ پہنچ کر زمین کی خاک ہوئے ۔ اشفاق نقوی اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے پچاس کی دہائی میں لاہور  ماڈل ٹاون کے علاقے میں نیل گائے گھومتی دیکھی ۔ لیکن  اب وہاں کھابے کھانے والے حضرات کا راج ھے ۔ جانور ہی کیا اب تو شہروں میں وہ پرندے بھی عنقاء ہو گئے جن کے دم قدم سے ہماری شاعری کی آبرو تھی ۔ پتہ نہیں کس شاعر کا شعر ہے

ابھی جو ربط پرندے سے اس منڈیر کا ہے
نشاط-جاں۔۔! یہ تماشا ذراسی دیر کا ہے

یا “شاخ پہ چڑیا گاتی ھے ، جو کچھ ھے لمحاتی ھے ”

یا پھر ” بُلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل ” ۔

image

فوٹو بشکریہ www.geekiest.net

اب تو کوا بھی نظر نہیں آتا کہ اپنی کائیں کائیں  کسی دور دیس سے آنے والے کی خبر لا سنائے ۔ ہمارے دوست علی حسان پرندوں اور جانوروں پر فدا ہیں ۔ یورپ میں ملکوں ملکوں  گھومنے کے دوران جب بھی کسی نئے شہر پہنچتے ہیں تو بجائے کسی سینما، ہوٹل، کلب کا پتہ پوچھنے کے یا گوری میموں سے ان کا ایڈریس مانگنے کے ، نزدیکی چڑیا گھر کی راہ پوچھتے پھرتے ہیں اور وہاں سے واپسی پر ایک ایک عجب ناموں اور شکلوں  والے جانوروں اور پرندوں کی تصاویر لا لا کے دوستوں کو فیس بک اور اپنے بلاگ پہ یوں دکھاتے پھرتے ہیں جیسے ہمہ شمہ اپنے ذاتی بچوں کی تصاویر  فیس بک پہ شیئر کرتے ہیں اور قارئین کی ہر کلک پر ایسے لہلوٹ ہوتے ہیں جیسے ان جانوروں کا وجود ان کی ذاتی کاوش ہو۔ جب ہم پوچھتے ہیں کہ بس یہی کچھ ؟ تو وہ وہ زبان حال سے کہتے ہیں ” بس یہی کچھ ہے ساقی متاع فقیر ” ۔ ان کے متعلق بلا خوف و خطر قطعا یقین سے کہا جا سکتا ھے کہ  مرنے کے بعد ان گھر سے تصویر بتاں کے نام پر کسی لنگور کی تصویریں اور حسینوں کے خطوط کے بجائے کسی لدھر کا شجرہ نسب نکلے گا ۔پیدا کہاں ایسے پراگندہ طبع لوگ ۔

تفنن بر طرف جانوروں کو تو ایک طرف رکھئیے ایک آن لائین رپورٹ کے مطابق برصغیر میں پرندوں کی کل پائی جانے والی 1250 اقسام میں سے بیاسی اقسام ایسی ہیں جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں ۔ اگر گلوبل وارمنگ ، پرندوں کا شکار ، ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے تیزابی بارشیں اور انسانوں کے بے اعتنائی یونہی برقرار رہی تو بقیہ اقسام بھی اسی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں بلکہ اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ دو دہائیوں میں پرندے جتنی تعداد میں کم ہوئے ہیں ان کی مثال گذشتہ صدی میں نہیں ملتی ۔ پرندوں کا وجود اس دنیا کے لیئے باعث رحمت ھے ۔ مثلا نوے کی دہائی میں انڈیا میں گدھوں کی کثرت سے موت کی وجہ سے آوارہ کتوں اور چوہوں کی آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا اور 1997 کے صرف ایک سال میں تیس ہزار کے لگ بھگ لوگ کتے کے کاٹنے سے پاگل پن کی بیماری سے ہلاک ہوئے ۔ سائنسدانوں کا یہ اندازہ ھے کہ اگر یہی صورحال برقرار رہی تو بائیسویں صدی کے آغاز تک اس دنیا کے دو تہائی پرندے ختم ہو جائیں گے ۔

یقیننا انفرادی سطح ہم کچھ زیادہ نہیں کر سکتے لیکن ہم انہیں اس دنیا کا اہم اور ضروری باسی جان کر ان  سے محبت تو کر سکتے ہیں انہیں توجہ دے سکتے ہیں ۔ اس گرم موسم میں ان کے پانی اور دانا دنکا برتن یا صحنک وغیرہ میں ڈال کے گھر میں رکھ سکتے ہیں ۔ ان کے قریب سے گذرتے ہوئے انہیں مخاطب کر کے یہ تو کہ سکتے ہیں ” بَلو کیا حال ہیں ، کہو مزے سے ہو ؟”

اللہ کرے کہ وہ دن کبھی نہ آئے کہ کسی دن میں اپنے مستقبل کے کسی پوتے کو دھوبن چڑیا کی تصویر دکھا کر کہوں ” بیٹا یہ کئی سال پہلے معدوم ہو گئی تھی لیکن اسے دھوبن چڑیا اس لیئے کہتے تھے کہ یہ اپنے دوست بچوں کے کپڑے ان کی غیر موجودگی میں دھو دیا کرتی تھی ” –

Facebook Comments

 

Tags: ,

  1. نورین تبسم

    28/05/2015 at 10:24 PM

    کاسبو کے مور اور ریتلی گلیاں
    مستنصر حسین تارڑ
    Posted Date : 27/05/2015
    ہمیں خبر ملی تھی کہ تھر میں مور ناچتے ہیں، اس کی بستیوں میں اپنی رنگین جھالریں پھیلائے ٹہلتے جاتے ہیں اور ہمیں یہ بھی خبر ہے کہ کبھی وہ زمانے تھے جب ان صحراؤں میں موروں کے غول تھے۔۔۔ اتنی کثرت میں تھے کہ ریت کے ذرے ان کے وجود سے رنگین ہوتے جاتے تھے، بارش اترتی تھی تو وہ میگھ ملہار میں کوکنے لگتے تھے، اور پھر وہ شکار ہوتے گئے، ہماری گوشت کی دیوانگی کے ہاتھوں ہلاک ہوتے گئے کہ ہم کسی بھی پرند یا چرند کو دیکھتے ہیں تو اسے روسٹ شدہ حالت میں ہی دیکھتے ہیں۔۔۔ چنانچہ مور اپنی جان بچانے کی خاطر ہجرت کر گئے، سرحد پار کرکے ہندوستان چلے گئے کہ وہاں گوشت خور نہ تھے، مور خور نہ تھے، اب ایک عجیب مزاحیہ صورت حال نے جنم لیا۔۔۔ ادھر ہندوستان میں سؤر بہت تھے اور ان کے گوشت کے شیدائی بھی بہت تھے۔۔۔ جو ان کا شکار کرتے تھے اور انہیں ان کی تھوتھنیوں سمیت بھون کر کھا جاتے تھے۔۔۔ چنانچہ یہسؤر بھی اپنی جان عزیز بچانے کی خاطر نقل مکانی کرکے ادھر پاکستان آگئے کہ یہاں انہیں کوئی نہ کھاتا تھا، چنانچہ اِدھر مور ناچنے لگے اور اُدھر س�ؤروں کا راج ہوگیا۔
    ہم نے موروں کو سرحد پار بھگا دیا اور ادھر سے آنے والے س�ؤروں کو قبول کرلیا۔۔۔ ہم کیسے کمال کے سوداگر ہیں۔
    ایک بے ایمانی، منافقت اورتعصب سے بد رنگ اور بدشکل معاشرہ موروں کی خوش شکلی اور خوش رنگی کیسے قبول کرسکتا ہے۔۔۔وہ انہیں دیکھ کر ایک احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ آخر یہ کیوں ہمارے درمیان اپنے سو رنگ چمکیلے لشکیلے پروں کے جھاڑ پھیلائے ناچتے پھرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں رقص تو حرام ہے۔۔۔ ایک رنگیلامور ایسا جو معاشرے کی بدرنگی میں کسی بھی صورت ظاہر ہو، کسی جینئس سیاست دان، کسی نابغۂ روزگار ادیب کی شکل میں، کوئی پارسائی اور درویشی میں مست سچل شخص یا پھر اپنے آپ کو مذہب سے بالاتر ہو کر خدمت خلق کے لئے وقف کر دینے والے شخص کی صورت، ہم اسے مار ڈالتے ہیں وگرنہ موازنہ ہو جاتا ہے ناں چنانچہ نہ رہیں گے مور اور ہوگا موازنہ۔۔۔ ہرُ سوہماری بدرنگی اور بدشکلی راج کرے گی اور گلیاں سونی ہو جائیں گی اور ان میں مرزا یار نہیں، نہ کوئی مور بلکہ سؤر دندناتے پھریں گے۔۔۔ اور وہ پھرتے ہیں۔

     
  2. علی

    29/05/2015 at 12:05 AM

    اگر بعد مرنے کے یہی کچھ نکلا تو سمجھو ‘لکھ وٹیا’ 🙂
    ویسے ان کے ساتھ بیسیوں ادھوری کہانیاں و بلاگ بھی نکلیں گے یعنی جانور و پرندے اکیلے بور نہیں ہورہے ہیں ہمارا تخیل بھی انہی کے ساتھ ہوگا

     
  3. ابوشامل

    29/05/2015 at 2:23 AM

    بہت عمدہ ریاض صاحب۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تارڑ کا ناول “بہاؤ” پڑھا ہے، اس لیے تحریر کا مزا اور زيادہ آیا

     
  4. عمار ابنِ ضیا

    29/05/2015 at 9:25 AM

    بہت عمدہ! کیا ہی خوب صورت انداز میں بات کو اپنے گھر کے واقعے سے ایک اہم مسئلے کی طرف لے کر آئے ہیں۔
    عرصے بعد جب کوئی پرندہ نظر آتا ہے، تب احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ اپ پہلے کی طرح عام نہیں رہا ہے۔ چڑیوں اور کووں کی تو پہلے بہتات ہوا کرتی تھی۔ اب کم ہوگئے ہیں۔ ہمارے گھر کی طرف کبوتر پھر بھی نظر آجاتے ہیں۔ لیکن کوئل کی کوک سنے اور اسی طرح کئی دوسروں پرندوں کو دیکھے تو شاید کئی سال ہوچکے ہیں۔

     
  5. نسرین غوری

    29/05/2015 at 2:05 PM

    مزاح، سنجیدگی، فکر اور لطف کا اچھا امتزاج
    پی ایس : جن کے بچے ہوتے ہیں وہ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔۔ مطلب بچے اور جن کے بچے نہیں ہوتے وہ ویسی ہی حرکتیں کرتے ہیں جیسی علی حسان کی ہیں :

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی