RSS
 

نو لکھی کوٹھی

1,901 views --بار دیکھا گیا

06 Dec 2014

تقسیم سے قبل متحدہ پنجاب کا  وہ  علاقہ جسے “ماجھا ” یعنی وسط   کا نام دیاگیا تھا  آج بھی پاکستان اور ہندوستان  کے زرخیز ترین علاقوں میں شمار ہوتا ھے ۔ مشہور افسانہ نگار بلونت سنگھ کے افسانوی  کردار  مثلا    “جگا  ” اسی مٹی سے اٹھائے گئے تھے ۔  یہاں کے باسی لڑاکے ، اکھڑ  ،   بے وقوفی کی  حد تک جری  ، محنتی اور جفا کش  ہوتے تھے۔ انگریز راج  سے پہلے اس علاقے میں  رہٹ  کے ذریعے  آبپاشی کا سسٹم تھا لیکن    انگریز اپنے ساتھ  ایک نئی تہذیب بھی لے کر آئے تھے  جو سائنس اور مینجمنٹ کے جدید اصولوں پر استوار تھی۔  انہوں نے اپنا اقتدار مضبوط ہونے کے فورا بعد  ہندوستان  سے اپنی آمدنی بڑھانے اور  اور عوام کو اپنا وفادار بنانے کے لیئے پے در پے  اقدامات کیئے ۔ کینال کالونیز کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جس کے ذریعے مدتوں سے بے آباد پڑی زمینوں  کی آباد کاری کے لیئے  نہروں کا.جال بچھا کر بے زمین کسانوں اور گورنمنٹ کے وفاداروں میں تقسیم کیا گیا  ۔ ان آباد کاروں نے  بھی ان زمینوں کو اپنے خون  پسینے  اور جس لگن سے سینچا اور آباد کیا اس کی ایک جھلک  ڈاکٹر ہرکیرت سنگھ کی پنجابی زبان میں لکھی گئی آپ بیتی  ” یاداں گنجی بار دیاں “ میں بخوبی بیان کی گئی ہے ۔
سیٹلمنٹ کا یہ زمانہ  تقریبا 1920 کے آس پاس  اور پہلے کا زمانہ ہے   اور یہی وہ زمانہ ہے جو علی اکبر ناطق کے نئے ناول ” نولکھی کوٹھی ”   کے آغاز کا زمانہ ہے  ۔  naulakhiعلی اکبر ناطق  کا تعارف میری ایک پہلی پوسٹ  ” جیرے کی روانگی  “ کے ذریعے قارئین سے ہو چکا ھے ۔ یہ ناول بھی  ان کے افسانوں کی طرح پنجاب کی مٹی میں گندھا اور  اسی زبان کا لہجہ لیئے ہوئے ہے ۔ ناول  کی سیٹنگ  ماجھے کے  علاقہ فیروز پور کی ہے جو اب ہندوستان میں شامل ہے ۔ ناول میں  چار اہم اور بڑے کردار ہیں  ۔  پہلاولیم ہے جس کے  دادا   نے  احمد خان کھرل کی جنگ اور شہادت  کے بعد  اوکاڑہ کے نزدیک  بنگلہ گوگیرہ  میں   نو لاکھ روپے خرچ کر کے ایک خوبصورت کوٹھی بنوائی تھی   جو عرف عام میں ” نولکھی کوٹھی  “کہلاتی تھی  ۔ ولیم  کا باپ  بھی سول سروس میں  تھا اور  ولیم یہیں پیدا ہوا تھا ۔ اب  ولیم انگلستان سے اعلی تعلیم ، کیتھی کی زلف کا اسیر اور سول سروس کا امتحان پاس کے فیروز پور کی تحصیل جلال پور کا اسسٹنٹ کمشنر مقرر ھوا ھے  ۔ یہاں  پہنچنے پر اسے اپنی تحصیل کے  علاقے میں  دو زمینداروں کی  خاندانی دشمنی  سے پالا پڑتا ھے    ۔ جس میں ایک ایچی سن کالج سے تعلیم یافتہ چک جودھا پور کا مسلمان غلام حیدر ھے جو اپنے والد کی وفات کے بعد روایتی زمیندار  کے روپ میں ڈھلنے پر مجبور ہو جاتا ھے  . اس کا باعث چک جھنڈو والا کا سکھ زمیندار سردار سودھا سنگھ   ھے ۔ سودھا سنگھ  اپنی پرانی دشمنی کا بدلہ چکانے کے لیئے  غلام حیدر کی رعایا کی زمینوں پر حملہ کر کے فصل اجاڑ دیتا ھے ۔ یوں غلام حیدر انگریز کے تھانہ کچہری کلچر کے چکر میں پھنستا ھے اسی اثنا میں سودھا سنگھ اپنے دو اور مسلمان  حمائیتیوں کی مدد سے ایک اور حملہ کرتا ھے اور غلام حیدر کی رعایا کے چند افراد کو قتل کر دیتا ھے ۔ ان حملوں کا مقصد غلام حیدر کو بھاگ جانے پر مجبور کر دینا ھے تاکہ اس کی زمینوں پر قبضہ کیا جا سکے ۔   اس حملے میں غلام حیدر کا ایک مزارع بھی مارا جاتا ھے .  اس مزارع  کا یک رشتے دار مولوی کرامت  جو قصور کے نزدیک چک راڑے کی ایک شکستہ عمارت  والی مسجد کا پیش امام ھے وہاں  پہنچتا ھے ۔ ولیم اس کیس کی تفتیش کے سلسلے میں دونوں زمینداروں پر انگریز سرکار  کے قانون کی پابندی کا  دباو ڈالتا ھے اور وہیں اس کی ملاقات مولوی کرامت سے ہوتی ھے.
ولیم کیتھی سے  شادی کر لیتا ھے اور کیتھی کو   زندگی کا یہ نوابانہ اور شاہانہ انداز زیست بہت پسند آتا ھے  پہلے پہل تو وہ  مقامی لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کرتی ہے  لیکن کچھ عرصے کے بعد وہ بھی روایتی میم صاحبہ کی صورت میں ڈھل کر  مقامیوں سے  دوری  اختیار کر کے اپنی دلچسی کی سرگرمیوں میں مشغول ہو جاتی ہے ۔
ولیم  کا قلبی میلان سرزمین برطانیہ کی بجائے اپنی جنم بھومی ہندوستان  اور اس کی رعایا کی جانب ہے اور وہ  ایک بینوولنٹ ڈکٹیٹر کی طرح  ان کی فلاح بہبود چاہتا ھے  لیکن اس کا یہ جھکاو اس  کے بالا افسران اور اس کے باپ کو پسند نہیں جو برٹش گورنمنٹ کا رعب دیسی رعایا  پر برقرار رکھنے کے لئے ان سے فاصلہ رکھنا ضروری سمجھتے ہیں ۔ ولیم کا  فلسفہ حکومت  اس کی اپنے ماتحتوں کو کی جانے والی تقریر میں ظاہر ہوتا ھے۔
” ڈیئر آفیسرز ، میں جانتا ہوں کہ میں جلال پور میں ایک اجنبی ناتجربہ کار اور نوآموز داخل ہوا ہوں مجھے یقین ھے کہ آپ کا تجربہ ، آپ کا علم اور علاقے سے متعلق آپ کی شناسائی  میرا ذاتی سرمائی ثابت ھو گی ۔ اس سلسلے ،میں آپ میرے پیش رو ، مجھے طاقت دینے والے  اور کام پر اکسانے والے ہوں گے ۔ میرے دوستو ، میں آپ ہی کی طرح حکومت سے تنخواہ لینے والا اس کا ملازم ہوں تاکہ علاقے میں اس کے قوانین کی عملداری کا فریضہ سر انجام دے سکوں ۔ حکومت کے لیئے خراج اور مالیہ جمع کر سکوں ، نظم و ضبط اور خیر خواہی کا فرض ادا کروں ، یہاں کے ان پڑھ اور گنواروں کو تعلیم ، تہذیب اور سماجی  اور معاشرتی اقدار سے آگاہ کر سکوں  ۔ جس سے یہ لوگ ایسے ہی دور ہیں جیسے یورپ ان سے دور ھے ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی میں آپ سے یہ بھی کہنا چاہتا  ہوں  کہ یہ سب کام تب ہی اچھے طریقے سے سرانجام پا سکتے ہیں  جب عوام کی خوشحالی اور ان کے جان و مال کی حفاظت  اور ان کے روزگار کے مسائل درست ہوں گے ۔ آپ مجھے جتنا بھی ان لوگوں کی آزادی سلب کرنے کے بارے  میں لیکچر دیں مجھے  سمجھ نہیں آئے گا ۔ یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود اس لیئے اپنے سابقہ آقاوں کے کام نہ آ سکے کہ انہیں ہر معاملے میں بانجھ رکھا گیا ۔ چنانچہ ہمیں ان کی فلاح بہبود کے اقدامات  کرنے ہوں گے ۔ بطور حاکم  یہ ہمارا پہلا کام ھے ۔ یاد رکھو یہاں ہر جگہ پر اگی ہوئی خودرو جڑی بوٹیاں اور سرکنڈے اگر عوام کے لیئے مضر ہیں تو ہمارے لیئے بھی اتنے ہی  مضر ہیں  ۔ یہاں کی پبلک بھوکی مرے گی تو ہم بھی زیادہ دیر گائے کا دودھ نہیں پی سکتے ۔ گورنمنٹ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ جس مٹی سے تم سو روپیہ نکالو تو بیس روپیہ  اسی مٹی پر ضرور خرچ کرو تاکہ مزید سو روپیہ حاصل کر سکو ، یہ طریقہ اسی مرغی کی مثال ھے  جسے  ایک دمڑی کا دانہ ڈال کر درجن بھر انڈے لیتے ہیں  ۔ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ ہندوستان ایسی مرغی نہیں جو کُڑک ہو  اور ہمیں انڈا دینے سے انکار کرے ۔ ہمارا سابقہ تجربہ بتاتا ھے ، جس نے اس کی مٹی کے حلق میں پانی  کے چند قطرے  انڈیلے اس کے پستانوں نے اس کے کٹورے میٹھے دودھ سے بھر دیئے ۔ عوام کی خوشحالی  حکومت کے وقار کا پروانہ ہوتی ہے  ، کوئی بھی حاکم  زیادہ دیر تک اپنی رعایا کا گوشت  نہیں کھا سکتا ۔ یاد رکھو بیمار رعایا کا گوشت  بھی بیمار ہوتا ھے جس سے کینسر پھوٹتے ہیں جو اندر ہی اندر بادشاہ کو دیمک کی طرح کھا جاتا ھے ” ۔ naulakh_back

ولیم  ایک طرف تو مولوی کرامت کو سکول میں ملازم کر کے اسے مسلمان  والدین کو زیادہ تعداد میں  اپنے بچے سکول بھیجنے کے کام پر مامور کرتا ھے تو دوسری طرف  اپنے ماتحتوں کی مدد سے جلال  پور  کو ایک ماڈل سر سبز و شاداب  تحصیل بنانے کے کام میں جُٹ جاتا ھے  اور جلال پور کو لہلاتے کھیتوں اور اشجار کی تحصیل بنا کر دم لیتا ھے ۔   اسی اثنا میں جب قانون غلام حیدر کی  متوقع رفتار سے حرکت میں نہیں آتا تو وہ  شبخون مار کر سودھا سنگھ اور  اور اس کے حواریوں کو قتل کر کے اپنے پرانے دوست نواب ممدوٹ کی کشمیر میں زمینوں پر روپوش ہو جاتا ھے،  تحریک پاکستان کے دنوں میں نواب ممدوٹ  کی کوششوں سے اس پر مقدمات ختم ہوتے ہیں  اور ہجرت کے دوران  ہیڈ سلیمانکی پر لڑائی میں مارا جاتا ھے ۔ مولوی کرامت کی اولاد گورنمنٹ نوکری میں پھلتی پھولتی ہے لیکن ان کی  خوشامد اور عاجزی کی عادت  قیام پاکستان کے بعد بھی انہیں سول افسران کی ناک کا بال بنائے  رکھتی ہے ۔
ولیم کو  تحصیل میں چار سال کا عرصہ پورا کرنے کے بعد  لاہور سیکرٹریٹ  میں ایک بے مصرف سی جاب پر لگا دیا جاتا ھے  اور وہاں اس کے احتجاج پر بھی کسی  کام کی جگہ پر پوسٹ نہیں کیا جاتا  ۔ بنیادی وجہ اس کا   مقامیوں کی طرف  ہمدردانہ رحجان  اور فاصلہ برقرار نہ رکھنا ہے جو انگریز سرکار اپنی سول سروس اور اقتدار  کے لیئے غیر مفید سمجھتی ہے ۔ آخر کار وہ روہتک  جیسی غیر دلچسپ جگہ پہ بھیج دیا جاتا ھے جہاں  جنگ عظیم دوئم   کے دوران ہزاروں جوانوں کو  بھرتی کر کے محاذ جنگ پہ روانہ کرنے کا کام کرتا ھے ۔ پاکستان بننے کے بعد وہ یہاں آ جاتا ھے لیکن سول سروس اسے لینے سے انکار کر دیتی ہے  اور وہ نولکھی کوٹھی  پر اپنی زمینوں کی دیکھ بھال میں لگ جاتا ھے ۔ کیتھی کے لیئے حکومت ختم ہونے کے بعد اس سرزمین میں کوئی دلکشی باقی نہیں رہتی اور وہ اس کے بچوں کو لے کر انگلستان چلی جاتی ہے اور اس کے بعد اس کا اپنے خاندان سے رابطہ کٹ جاتا ھے۔ مقامی سیاست اور حکومت میں ولیم  کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے ضیا دور میں اس کی  نولکھی کوٹھی  ملی بھگت سے  ایک مذہبی  اور بااثر شخصیت کو الاٹ کر دی جاتی ہے  ۔  لیکن اس کے باوجود وہ اس مٹی کو اپنا سمجھتا ھے اور  جب اوکاڑہ میں ایک پرانا درخت کٹنے لگتا ھے تو وہ  لکڑہاروں کے سامنے  درخت سے لپٹ کر اس درخت کو کٹنے سے بچا لیتا ہے ۔ آخر کار اداس اور بیمار  ولیم  کچھ عرصہ بعد کسمپرسی کے عالم میں وفات پا جاتا ھے اور   اسی مٹی میں دفن ہوتا ھے ۔
دو واقعات نے پاکستانی قوم کی نفسیات پر  اتنے گہرے اثرات ڈالے ہیں جا کے اثرات کو کھرچنا ممکن نہیں ھے ، ایک  ہندوستان کی تقسیم اور اس کے نتیجے میں ہجرت کے مصائب اور دوسرا انیس سو اکہتر کی جنگ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی ۔ ہجرت  کا موضوع ہمارے  ہمارے پچاس اور ساٹھ کی دہائی کا ادیبوں کا موضوع تھا اور اس پر تقریبا تمام خصوصا منٹو نے درد انگیز افسانے جیسے ” کھول دو ” وغیرہ لکھے ہیں  ہجرت کے دوران  تمام مذاہب کے لوگوں کے اندر کا وحشی باہر آ گیا تھا  جیسے ناطق نے  اپنے ناول میں دہلی  کے مہاجر   زماں خان  کو دکھایا  ھے  جو ہجرت کے بعد  منڈی ہیرا سنگھ کے اسٹیشن پر    اپنے خاندان کے  کٹ جانے کا   ذکر   وہاں کے لوگوں سے کرتا ھے تو   وہ غضب  کے عالم میں اسٹیشن پر کھڑی ٹرین میں ہندوستان جانے والے سکھوں کا   “گھلو گھاڑا   “کر دیتے ہیں ۔ اکہتر کے موضوع پر عبداللہ حسین نے اپنے ناول   “نادار لوگ ”  اور تارڑ نے  “راکھ ” میں روشنی ڈالی ھے  ۔
ولیم کا کردار  کچھ ایسا انہونا نہیں ھے ۔عام  خیال کے برعکس برٹش افسران کی ایک اقلیت ایسی بھی تھی جو یا تو  یہاں آئے اور یہیں کے ہو رہے یا جو  یہیں پیدا ہوئے اور اسی مٹی میں مرنا چاہتے تھے   جن کا کچھ بیان ولیم ڈلرمپل کی کتاب  ” وائٹ مغل  ” اور  عبیداللہ بیگ کے ناول “راجپوت ” میں ملتا ھے  ۔ برٹش  راج کے خاتمے کے بعد بھی  کچھ افسران یہیں رہے اور  دفن ہونے کی تمنا دل میں رکھی جیسے کتاب ” دی پٹھان کمپنی ” کے مصنف  ایچ ایم کلوز جو  اسلامیہ کالج  پشاور میں برسوں پڑھاتے رہے ۔ آجکل ایک اسی طرح کے سابقہ افسر  میجر لینگ لینڈ ز اس بڑھاپے میں بھی چترال میں ایک سکول چلا رہے ہیں اور ٹوئٹر پر بھی سر گرم رہتے ہیں ۔
ولیم نے جلال پور کی ترقی اسی جانفشانی سے کی جیسے کوئی اپنے گھر کی کرتا ھے  لیکن جب اسے اپنے تبادلے کی خبر ملتی ہے تو وہ سوچتا ھے کہ نیا آنے والا افسر اسے اپنا گھر نہیں سمجھے گا  بلکہ کیتھی کی طرح  یہاں کے لوگوں کو اپنا غلام بنا کے رکھے گا  گویا انگریز افسر  عورت بن کر مقامیوں سے سلوک کرتے تھے  جن کا مقصد یہاں سے دولت سمیٹ کر واپس انگلستان جانا ھوتا تھا اور جیسے کیتھی ولیم کو  آخر میں چھوڑ کر چلی گئی تھی ۔
اگرچہ قاری یہ اعتراض سکتا ھے کہ برٹش راج اور تقسیم کا موضوع اب گھس گیا ھے  اور ہمیں نئے دور کی طرف نگہ رکھنی چاہئیے تو اس سلسلے میں یہی کہا جا سکتا ھے کہ کوئی بھی قوم اپنے ماضی سے کٹ کر زندہ نہیں رہ سکتی  ماضی کا بار بار تجزیہ کرنے سے ہمیشہ سوچ کے کچھ نئے در وا ہوتے ہیں البتہ جن اقوام کی تاریخ نہیں ہوتی یا بہت مختصر ہوتی ہے وہ  احساس کمتری میں مبتلا رہتی ہیں جیسے امریکی اپنے اس احساس کا اظہار  ہر جگہ طاقت کا استعمال کر کے کرتے ہیں البتہ جو اقوم   عظیم ماضی رکھتی ہیں  ان کا  انداز اب بھی قدرے حکیمانہ ہوتا ھے جیسا کہ چین  ۔
غلام حیدر اور سودھا سنگھ کی طرز کی دشمنیاں کل بھی اسی طرح تھیں اور آج کے پاکستان میں بھی زندہ و تابندہ ہیں  لیکن کل اور آج میں فرق یہ ھے کہ  برٹش گورنمنٹ کا افسر اپنے علاقے میں ہونے والی  ہر قتل اور ڈاکے کی واردات کو تاج برطانیہ سے بغاوت اور  تاج کے لیئے خطرہ سمجھتا تھا  اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتا تھا جب تک اس کی تفتیش مکمل نہ ہوجائے یا پھر مجرموں کی مناسب سرکوبی نہ ہوجائے  لیکن آج  وہی پولیس جس کا ایک سپاہی برٹش راج میں پورے گاوں کو باندھ کر لے جاتا تھا اپنی توقیر کھو بیٹھی ہے جس کی  بنیادی وجہ غلام حیدر اور سودھا سنگھ جیسے زمینداروں کا بزنس اور  وزارتوں میں آ جانا ہے جو سٹیٹ انسٹرومنٹ کو اپنے مقاصد کے استعمال کرنا اولین ترجیح سمجھتے ہیں چنانچہ  پولیس اور انتظامیہ اب ان کے ذاتی مفادات کی نگہبان بن کر رہ گئی ھے   یعنی من تُرا حاجی بگویم تو مُرا ملا بگو (میں تجھے حاجی کہتا ہوں اور تو مجھ کو ملا کہہ) ۔
ناول میں ناطق نے  جابجا پنجابی الفاظ اور  تراکیب کا استعمال کیا ھے جو کرداروں اور کلچر کے لحاظ سے اگر چہ مناسب ھے لیکن  اہل زباں  اسے ایک غیر ادبی حرکت گردانتے ہیں مثلا نموشی ، ڈب کھڑبے ، نگال ، بکرے بلانا وغیرہ.
کالم نگار  سکندر خان بلوچ نے اپنے کالم میں ایک دفعہ   سوال اٹھایا تھا  کہ سمجھ  نہیں آتا کہ کس طرح محض چند ہزار  یا لاکھ برٹش ہندوستان کی کروڑوں کی  آبادی پر اتنا عرصہ غالب رہے تو   میرے نزدیک   ناطق کا ولیم  جب اپنے ماتحت افسران سے مخاطب ہوتا ھے تو شاید اس وقت وہ ہمارے ماضی اور حال سے بھی مخاطب ہوتا ھے  اور اس گتھی کو سلجھاتا ھے۔  اگر  ناول کی بنیادی خصوصیت یہی ہے کہ ناول بذات خود یا اس کا کوئی کردار اپنے زمانے سے ماورا ہو جائے تو  ناطق اس میں کامیاب رہے ہیں ۔ اگرچہ ناطق نے عمدا اس میں ناول کا سکوپ محدود رکھا ہے  اور داستان گوئی کی طرف  توجہ زیادہ مبذول رکھی ہے  تاہم ان کا یہ ناول  ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے  جو شاید آنے والے اسی طرح  کے کئی ناولوں کا پیش خیمہ ثابت ہو ۔ یہ ناول “سانجھ ” پبلیکیشنز لاہور نے شائع کیا ھے اور قیمت سات سو روپے ہے  جو بہت مناسب ھے اور ڈسکاونٹ مل کر پانچ سو روپے رہ جاتی ھے ۔ اور ایک بات کا ذکر رہ گیا  کہ ناطق نے اس میں ماڈرن تکنیک کا بخوبی خیال رکھا ھے  جس کی وجہ سے قاری ناول کو اس وقت  اپنے سے الگ نہیں رکھ سکتا جب تک کہ  وہ اسے ختم نہیں کر لیتا ۔

Facebook Comments

 
  1. نعیم اکرم ملک

    08/12/2014 at 7:47 PM

    حلقہ ارباب ذوق لاہور کے اجلاس میں ناطق صاحب نے اپنا ایک افسانہ پڑھ کر سنایا تھا، ان دنوں‌میری ان سے تھوڑی سلام دعا بھی ہوئی۔ اس افسانے میں بھی کریٹکس نے یہ بخیہ نکالا تھا کہ “ڈب کھڑبا” نہیں‌ہونا چاہیئے البتہ عوامی لب و لہجے اور تحریر کی خوبصورتی کو سب نے سراہا تھا۔

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی