RSS
 

بے جڑ کا درخت

1,300 views --بار دیکھا گیا

20 Dec 2014

پشاور سانحے کے بعد ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا اور اخبارات میں  ہر فرقے اور نقطہ نظر کا حامل اپنی اپنی ڈفلی بجانا شروع ھو گیا  ھے جس  میں بڑھ بڑھ کر ایک دوسرے پر حملے کیئے جا رہے ۔ ویسے تو ان فیس بکی جملوں  حملوں  میں کچھ نیا نہیں ہے ہر واردات کے بعد  وہی راگ بار بار چھیڑا جاتا ھے  ۔ بحث کا مرکزی نقطہ  ریاست  پاکستان میں  مذہب اور مذہبی طبقے کی حیثیت کے گرد گھومتا ھے لیکن اس سے نوجوان نسل کنفیوز در کنفیوز ہوتی جا رہی ہے اور اس   سارے قضئیے میں مذہب اسلام  پر دشمنوں کو حملہ کرنے کا جواز مل جاتا ھے  ۔

ایک  شدت پسند جنگجو اپنی جان اس لیئے  دیتا ھے کہ وہ سمجھتا ھے کہ  پاکستان میں اسلامی قوانین  یا شریعت نافذ نہیں ھے  اور اس طرح پاکستان کا مقام ایک عام سیکولر سٹیٹ کا ابھرتا ھے جو اپنے آئین میں شامل   “قرار داد مقاصد   “سے رو گردانی  کر رہی ہے  یعنی  ایک سٹیٹ جو  ابھی نامکمل ھے  اور اسلامی قوانین کو نافذ نہیں کر رہی  ۔ جب یہ کہا جاتا ھے کہ  اسلامی قوانین  ابھی مرتب ہی نہیں ھوئے تو نافذ کیسے ہوں گے  تو حیرت سے سوال ھوتا ھے  اس میں کیا امر مانع ہے تو جواب یہ ملتا ھے کہ یہ حکومت کا کام ھے  اور وہ اس سے پہلو تہی کر رہی ہے ۔

تو دیکھنا پڑے گا کہ پاکستان میں اسلامی  قوانین کے راستے میں کون حائل ہے ؟

میرے نزدیک اس کے رستے میں رکاوٹ علمائے کرام خود ہیں  ۔ مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہر فرقہ کا یہ دعوی ہے کہ  صرف ان کے پاس اسلامی قوانین کا مجموعہ موجود ہے جو قرآن و سنت کے مطابق ھے ۔ ان کا یہ دعوی محل نظر ھے کیونکہ  یہ  قرآن ہی ہے جو  کہتا ھے

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ ٱخْتِلَـٰفًا كَثِيرًا۔ 4/82 ۔      ترجمہ ۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اِس میں بہت کچھ اختلاف   پاتے۔

یعنی قرآن من جانب اللہ ہونے کے سبب اختلافات سے پاک ھے ۔ قرآن کی اس صراحت کے بعد ہر فرقے کا یہ جواز کہ صرف ان کے پاس اسلامی قوانین  کا مجموعہ ہے  اور باقی فرقوں کے پاس نہیں  قرآن کی وضاحت سے متضاد ہے  اور قرآن کو نہ تسلیم کرنے کے مترادف ھے ۔ اصل میں  تفرقے کی بنیاد سنت پر ھے قرآن پر نہیں  اور اس کا اعتراف ہر فرقے کو ہے ۔ شخصی قوانین کی حد تک تو اس اختلاف کو گوارہ کر لیا گیا ھے لیکن  پبلک لاز پہ آ کر بات اٹک جاتی ہے کیونکہ پبلک لاز  ایسے نہیں ہوتے کہ ہر فرقے کے لیئے الگ الگ ہوں   بلکہ ایسے کہ ان کا اطلاق مملکت کے تمام باشندوں پر یکساں ہو ۔ ایوب خان مرحوم نے  اسلامی قوانین کے مطالبے پر  علما سے کہا تھا کہ آپ مجھے ایک متفقہ  مجموعہ قوانین بنا کر دے دیں میں اسے نافذ کر دوں گا  جس کا جواب انہیں مذہبی طبقے کی جانب سے گالیوں کی صورت میں ملا تھا ۔ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ اگر  یہ ناممکن ھے تو قرارداد مقاصد میں سے سنت کا لفظ نکال دیں تو   قوانین کے متفقہ  نہ ہونے کی الجھن دور ہو جائے گی  اور حکومت اسے نافذ کر دے گی لیکن علماء اس پر بھی راضی نہ ہوئے ۔ آخر کار  مولانا مودودی جیسے داعی دین کو بھی اقرار کرنا پڑا  کہ

”  کتاب و سنت کی کوئی ایسی تعبیر ممکن نہیں  جو پبلک لاز کے معاملہ میں حنفیوں ،  شیعوں اور اہل حدیث کے درمیان  متفق علیہ ہو  ( ایشیا ۔  23 اگست 1970) ۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس کے بعد علماء حضرات نے کہ دیا ہو گا کہ حکومت  پبلک لاز کا ایسا ضابطہ مقرر کرے جو قرآن کے مطابق ہو ؟۔ نہیں ایسا کہ دیتے تو سارا کھیل ہی ختم ہو جاتا  ۔انہوں نے اس کے ساتھ ہی  حکومت سے یہ مطالبہ جاری رکھا کہ  اسلامی قوانین کا نفاذ کیا جائے ۔ کسی نے علماء سے یہ نہیں پوچھا کہ  جس چیز کو آپ خود ناممکن العمل سمجھتے ہیں  اس کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں؟ ۔

اس سلسلے میں میرا یہی ماننا ھے کہ جو سنت قرآن کی صریح تعلیمات  سے براہ راست متصادم ہیں  انہیں کتب احادیث سے خارج کر دینا چاہئیے  کیونکہ قرآن کا درجہ برتر ھے جس کا ذمہ اللہ نے خود اٹھا رکھا ھے ۔ لیکن علماء کا نظریہ حدیث مختلف ھے ۔ چنانچہ حافظ محمد ایوب دہلوی  اپنے کتابچہ ” فتنہ انکار حدیث  ”  میں لکھتے ہیں

“نبی صلو علیہ  کے قول کے لیئے ضروری نہیں کہ وہ  قرآن کے حکم کے مطابق  ھے تو تب تو  حجت  رہے اور مطابق نہ ہو تو حجت نہ  رہے ۔۔۔ جس طرح قرآن کے لیئے ضروری نہیں کہ وہ  ہماری عقل کے مطابق ہو تو  حجت ہو  اور ہماری عقل کے مطابق نہ ہو تو حجت نہ  رہے  ۔ اسی طرح نبی صلو علیہ  کے قول کے لیئے ضروری نہیں کہ وہ قرآن کے مطابق ہو تو حجت اور  قرآن کے مطابق نہ ہو تو حجت نہ ہو  (صفحہ۔82) ۔ آپ یہ س کر حیران ہوں گے کہ ان  علماء کے خیال کے مطابق بعض حالات میں حدیث قرآن کی کسی آیت کو منسوخ بھی کر سکتی ہے ۔

جب ان  نام نہادعلماء کو  پاکستانی سوسائٹی میں اس فکری محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے سیاسی طور پر ضیاء  ڈکٹیٹرشپ سے الحاق کر  کے اپنے آپ کو مضبوط کرنا شروع کر دیا ۔  افغان جہاد میں سعودی عرب سے مدرسوں کو امداد آئی   ،جتھے بنے   اور ایک وقت  اتنے مضبوط ہو گئے کہ  انہوں نے سٹیٹ  آف پاکستان  کو  یرغمال بنا کر اپنی    اپنی مذہبی تفہیم کے مطابق اپنی شریعت نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا ۔

آپ نے دیکھا کس طرح اپنی ذہنی معذوری کو  حکومت ، معاشرے اور سٹیٹ کے سر منڈھ دیا گیا ھے اور وہ اپنی اسی ذہنی معذوری کا انتقام پاکستانی عوام سے لے رہے ہیں جس کا یہ نتیجہ نکلا ھے کہ اب ہر درد مند پاکستانی    داڑھی سے خوفزدہ ھے مسجدوں ، بازاروں اور سکولوں میں  ان بلاوں کا خوف طاری ہے جو پھٹنے سے پہلے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں  جن کا فہم اسلام  مٹھی بھر داڑھی اور زیر ناف بالوں تک محدود ھے ۔ انہوں نے پاکستان کو ایک ایسا بے جڑ کا درخت بنا دیا ھے جس سے ہر آن زہریلے پھل گرتے رہتے ہیں   اور ہر پھل پر صرف ایک لفظ لکھا ھے ۔ “موت”۔

اس سلسلے میں ایک اور افسوس ناک بات یہ بھی ہوئی ھے کہ  مذہبی پیشوائیت کو اسلام کے برابر تقدس دے دیا گیا ھے حالانکہ اسلام وہ واحد دین ھے جس میں مذہبی پیشوائیت کی گنجائش نہیں ھے  قرآن خود کہتا ھے

يَأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلْأَحْبَارِ وَٱلرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَٲلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَـٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۗ وَٱلَّذِينَ يَكْنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ۔ 9/34

اے ایمان لانے والو،  اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں  دردناک سزا کی خوش خبری دو ان کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔

اسلام میں خدا اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ۔ لیکن  مذہب کو کاروبار بنانے والے  مذہبی پیشوائیت کو نہ صرف معاشرے کی ضرورت قرار دیتے ہیں بلکہ خدا کے گھر وں یعنی مسجدوں کو بھی فرقوں میں بانٹ دیتے ہیں ۔

Facebook Comments

 
  1. نعیم اکرم ملک

    20/12/2014 at 4:14 PM

    جناب آپ پہ فتوٰی لگ جانا ہے، کیونکہ پھر تو دوکانیں بند ہو جائیں گی اور کھیل خلاص ہو جائیگا۔
    شاید شریعت کے اطلاق کو مختلف مراحل میں‌تقسیم کر لیا جانا چاہیئے مثال کے طور پر پہلے قرآن کے قوانین نافذ کریں اور پھر سنت کے متفق علیہ قوانین۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      22/12/2014 at 9:44 PM

      نعیم اکرم ملک شکریہ
      آپ کا تبصرہ واحد تبصرہ ھے جس سے ظاہر ہوتا ھے کہ ہمارے دوستوں کے پاس اس موضوع پر کہنے کے لیئے مزید کچھ نہیں ھے۔

       
  2. sarwat AJ

    22/01/2015 at 1:02 PM

    اچھا تجزیہ

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی