RSS
 

طالبان کو بتاوں گا

2,067 views --بار دیکھا گیا

24 Nov 2014

پچکے ہوئے گال، مدقوق جسم، گدلائی ہوئی آنکھوں میں  تیرتی زردی ، چہرے کی رنگت جو شاید امتداد زمانہ یا  کسی بیماری کے باعث  سیاہ  پڑ  چکی تھی   لیئے ہوئے  وہ کسی سیاہ سنگی مجسمے کی مانند بے حس و حرکت  گیلری میں اس خوشنما دھاتی بنچ پر بیٹھا جو  چپراسیوں کے لیئے مخصوص تھا،  سامنے دیوار کو تک رہا تھا ۔ گیلری میں  قدموں کی چاپ  سن کر اس  کی آنکھیں ایک لحظہ  کو جھپکتیں  اور کسی  موہوم امید پر  سر گھما کر دیکھتا کہ شاید اس کا بلاوا آیا ھے  ۔ کسی ایسے اشارے کو نہ پا کر وہ پھر سے سنگ سیاہ میں بدل  کر   موہنجوڈاڑو کی مورتی  بن  جاتا  ۔ صبح جب میں پہلی دفعہ  آیا تو وہ یہیں بیٹھا  تھا ، میں نے  یہ سوچتے ہوئے اسے نظر انداز کر دیا کہ  کسی ٹھیکے دار کا منشی وغیرہ ہو گا  اور کسی    دوسرے دفتر میں کاروباری  غرض سے آیا ھو گا ۔  دوپہر تک   دوران کار جب مجھے دو تین دفعہ دفتر سے باہر نکلنا پڑا     اسے وہیں بیٹھے دیکھا ۔ اس کے چہرے  پر پھیلی  بے چارگی نے مجھے مجبور کر دیا  اور پوچھا کہ کس سے ملنا ھے تو اس نے  ایک  افسر کا نام   لیا ۔  میں نے چپراسی کو بلا کر ہدایت کر دی کہ جب وہ صاحب فارغ ہوں تو اسے فورا ملوا دے  ۔ لنچ ٹائم کے بعد  ان صاحب نے مجھے انٹر کا م پر بتایا کہ اس بابے کا کوئی مسئلہ ھے  میں نے سنا ھے لیکن   کوئی پیچیدہ قسم کا کیس لگتا ھے  ، بہت مجبور ھے  ہم سے متعلق تو نہیں لیکن  دیکھو اس کی کیا مدد کر   کر سکتے ہو ۔ اب وہ  وہ  سنگ عتیق  میرے سامنے بیٹھا اپنی بپتا بیان کر رہا تھا ۔ .

یہ بابا پنجاب کے ایک زرخیز زرعی    علاقے کے  کسی گاوں کا رہنے والا تھا جوانی میں واجبی تعلیم کے باعث کہیں اور نوکری نہ ملی تو قسمت آزمانے   بلوچستان آ کر  معمولی قسم کی  کی ملازمت سے  منسلک ھو گیا ۔ مدت ملازمت  خوش اسلوبی سے پوری کرنے کے بعد وہ پنجاب اپنے آبائی گاوں چلا گیا اور  اپنی جمع پونجی کی مدد سے  جو کہ کچھ زیاہ نہیں تھی  چند مرلے زمین اپنے رہائشی مقصد کے لیئے خرید لی  اور وہاں  کچا مکان بنا کر رہنے لگا  ۔ کچھ عرصے بعد معلوم پڑا کہ جس شخص سے زمین خریدی تھی  ، وہ   اسے گورنمنٹ نے  گھوڑی پال  سکیم کے تحت  دی تھی  اور وہ اسے بیچنے کا مجاز نہیں تھا    ،جو          اب گورنمنٹ واگذار  کرانے کے درپے تھی ۔  بابا اور دوسرے متاثرین  ڈی سی او کی حضور عرضداشت ہوئے  اور کسی دوسری مناسب جگہ  اتنی ہی زمین الاٹ کرنے کی درخواست کی ۔ ہنگامے  کے ڈر سے ڈی سی او نے  انہیں ایک دوسری  قریبی جگہ پر گورنمنٹ کی زمین بطور معاوضہ الاٹ کر دی ۔ بابے نے زمین کی سرکاری قیمت ادا کی  کچھ چکر پٹواری کے ہاں لگائے کہ اب اس  کے نام پکی رجسٹری جاری کرے  ۔ اسی اثنا میں بابا بیمار پڑ گیا  ۔ بابے  کی کوئی  اولاد کوئی نہیں تھی اور بیوی چند سال قبل فوت ہو گئی تھی ۔ اس بیماری اور لاچارگی میں  بابے کا پرسان حال کوئی نہ تھا   اور زمین کی رجسٹری کا کام بھی پورا نہ ہو سکا ۔ جب بابا  طویل بیماری سے صحت یاب ہو کر چلنے پھرنے کے قابل ہو ا    اور ایک دن کسی کام  سے دوسرے شہر گیا ہوا تھا   ،واپسی پہ پتہ چلا کہ اس کے گھر کی زمین  جو   اب سڑک پر کمرشل ایریا  کے نزدیک  ہونے کی وجہ سے  قمیت میں بڑھ گئی تھی اس پر مقامی ایم پی اے  کے غنڈوں نے قبضہ کر لیا تھا ۔  بابا     ڈی سی  او کے پیش ہوا   اور پھر وہاں سے  اسے کسی دوسرے دفتر اور وہاں سے ایک اور دفتر کی طرف  روانہ کیا جاتا رہا  ۔

بابا ہمت ہارے بغیر  سالوں اس دفتری گھن چکر کو سہتا رہا  اور گھوم پھر کے بات پھر ڈی سی او تک پہنچ جاتی ۔ مقامی ایم پی اے  کا نام سن کر ڈی سی او بھی تساہل سے کام لیتا رہا  اور کیس کا فیصلہ  زیر التوا رہا  ۔ بابا پنجاب کے چیف سیکرٹری کے ہاں جا پہنچا  جہاں  سے اس کی درخواست پھر  فٹ بال کی طرح واپس ضلعی انتظامیہ کے پاس پہنچ گئی اور بات جوں کی توں رہی ۔

بابے نے تنگ آ کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور رٹ دائر کر دی ۔ عدالت میں  فریق مخالف  کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ   بابے کی زمین  متنازعہ ھے جس کے کیس کا فیصلہ ابھی ڈی سی او نے کرنا ھے اور بابا خواہ مخواہ عدالت کا وقت ضائع کر رہا ھے ۔ بابا پھر  گھوم پھر کے گیند بنا ہوا ضلعی انتظامیہ کے پاس  پہنچ گیا۔

زراعتی علاقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے مجھ پہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ھے  کہ  زمینوں کے تنازعے  اور دیوانی مقدمے اس قدر طول کھنچتے ہیں کہ نسلیں کھا جاتے ہیں ۔ دادا   دعوی دائر کرتا ہے اور  کہیں اس کی تیسری نسل جا کر مقدمے کا فیصلہ سنتی ہے ۔ میرا خیال یہ تھا کہ بابے کو کچھ زاد راہ اور   واپس جا کر قانونی راہ اختیار  کرنے  کا مشورہ دوں گا ۔   میں نے بابے کو قانون کا لیکچر پلانے   اور   دیوانی مقدموں کے الجھیڑوں کے کلچر کو یاد دلانے کی   کوشش کی تو جواب میں  بابا  اپنا  ایک ہی موقف بار بار دہراتا رہا ۔ ۔

بابے کا موقف بڑا سیدھا سدھا تھا کہ سرکار ! جب  الاٹمنٹ  میرے نام پہ ہوئی ، جب میں نے زمین کی قیمت ادا کی جس کے کاغذی ثبوت میرے پاس ہیں  ، جب زمین کا قبضہ اتنے لمبے عرصے سے میرے پاس ہے  تو زمین کا اصل مالک میں  ہوا یا پھر وہ غنڈے جس نے پاس سوائے طاقت کے  کوئی ثبوت نہیں ہے ؟ ۔ جناب میں نے بلوچستان اور اس ملک کی خدمت  میں اپنی جوانی دی ہے   اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے  ہمیشہ اپنا کام دیانت داری  سے کیا ہے تو اب اس کا صلہ کیا یہی ہے کہ چند غنڈے میری زمین پر ناجائز قبضہ کر لیں  اور  پاکستان کا کوئی محکمہ مجھے انصاف نہ دلا سکے  ۔ اپنے لاغر وجود کے باوجود بابے کا عزم راسخ تھا  اور یہ فقرے بولتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بیک وقت بے بسی ، لاچارگی اور  شکاریوں کے نرغے میں آئے ہوئے سیاہ تیندوے کی سی وحشت  کی چمک تھی ۔

اچھا فرض کرو کہ  یہاں ہم تمہاری مدد نہ کر سکیں تو پھر کیا کرو گے  ؟ میں نے پوچھا

پھر میں افغان  طالبان کے پاس جاوں گا  ،  میں نے یہ علاقہ دیکھا ھوا ھے اور  افغان سرحد پر کسی طالبان  کمانڈر  کے حضور جا  فریاد کروں گا  ، وہ مجھے ضرور انصاف  دلائیں گے ۔ ماضی میں  ہمارے  علاقے میں اسی طرح کا  ایک قبضے کا مسئلہ تھا ، متاثرین  قریبی علاقے کے مفتی صاحب سے جا کر ملے تھے  انہوں نے اپنے مسلح محافظ بھیجے تھے اور انہوں نے دیرینہ مسئلہ ایک دن میں حل کر دیا تھا  ۔

میرے دل پر جیسے ایک  گھونسہ لگا جس کی دھمک نے میری ذات کے اندر تک کو ہلا دیا ۔  یوں تو  مجھے علم تھا کہ  ماضی قریب تک کراچی میں  لوگ اپنے اس طرح کے مسائل کے حل  کے لیئے وزیرستان کا سفر کرتے رہے ہیں  لیکن پنجاب کے ایک دور دراز دیہاتی علاقے میں  اس طرح کی  سوچ کا فروغ پانا  پنجابی کسانوں  اور باسیوں  کا  کبھی وتیرہ  نہیں رہا۔ وہ ہمیشہ صدیوں سے صبر کے ساتھ امن کی خاطر  سسٹم کی اطاعت کرتے  رہے ہیں ۔

یہ ایک علیحدہ داستان ھے کہ کس طرح  مشکل سے سے متعلقہ ڈی سی او سے فون پر   رابطہ ہوا ، انہیں بابے کی بپتا   بیان کی ،  انہوں نے حسب  توقع بجائے اپنے پاس ملاقات کے لیئے بلانے کے ، بابے کو    اُن کے ریفرنس سے  ایڈشنل ڈپٹی کلکٹر سے ملنے کا مشورہ دیا  ۔ میں نے بھی بابے کو  کچھ زاد راہ  ،  کچھ تسلی اور امید بندھائی اور واپس جا کر اپنا کیس  لڑنے کا مشورہ دیا ۔ بابا تھکے تھکے قدموں سے چلا گیا  ۔

اب  معلوم  نہیں کہ بابا  واپس  اپنے گھر گیا ہے یا طالبان کو بتانے گیا ہے  جن کے متعلق  عوام میں کے ذہن میں اب تک  ایک بات تو راسخ ہو چکی ھے ہے کہ وہ  اگرچہ خود بھی زیادتیاں کرتے ہیں    لیکن کچھ اور دیں نہ دیں  اپنے زیر تسلط  عوام کو ظالموں کے خلاف  سستا اور فوری انصاف ضرور فراہم کرتے ہیں   وہ بھی عین موقع واردات پر ۔

سوال یہ ہے اگر وہ انہیں  ساتھ لے آیا تو پھر ؟

Facebook Comments

 
  1. حمزہ

    25/11/2014 at 2:23 AM

    سوات میں طالبان کا عروج ہمارے اسی کھوکھلے نظام انصاف کی ناکامی کا نتیجہ تھا جس کے بدلنے کی کوئی امید نہیں۔۔۔۔

     
  2. یاسر خوامخواہ جاپانی

    25/11/2014 at 4:11 AM

    روزانہ مختلف تنظیمیں جنم لیتی ہیں۔
    ایک عدد فوری انصاف فراہمی کی تنظیم بھی بن جائے۔
    جس کے نشانے پر کرپٹ سرکاری اہلکار اور ظالم بدمعاش غنڈے ہوں۔
    لیکن خیال رکھا جائے کہ یہ تنظیم غیر سرکاری ہو۔
    سرکاری ہوئی تو یہ بھی کرپٹ ہو جائے گی۔

     
  3. ایم بلال ایم

    25/11/2014 at 4:35 AM

    آپ نے بڑے خوبصورت انداز میں بہت اہم موضوع پر بات کی ہے اور ایک زبردست سوال اٹھایا ہے۔
    ہمارے ہاں عام شہری کو انصاف تو نہیں ملتا لیکن لوگ اسے اونچے درجے کی اخلاقیات اور نظام سمجھانے بیٹھ جاتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ عام آدمی کے مسائل عام تو ہوتے ہیں، لیکن اس کے لئے وہی سب سے بڑے ہوتے ہیں اور وہ ان سے آگے کچھ نہیں سوچتا۔ اسے قوموں کی ترقی یا لمبی چوڑی پالیسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ اسے بس اپنے مسئلے کا حل چاہیئے ہوتا ہے۔
    جس معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا وہاں پر ایک نہ ایک دن مسلح تنظیمیں ضرور جنم لیتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ایسی تنظیموں کے ہمدرد اور خاص طور پر ان میں شامل ہونے والے لوگوں میں نظریاتی لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوتے جبکہ اکثریت کسی نہ کسی حوالے سے حالات کی ستائی ہوئی ہی ہوتی ہے۔
    باقی اگر وہ بابا طالبان کو لے آیا اور اس کا مسئلہ حل ہو گیا تو وہ بابا جب تک زندہ رہے گا، طالبان کو دعائیں دے گا اور ان کا ایک زبردست قسم کا حامی ہو گا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اس علاقے میں ایک روایت چلے گی اور پھر جس کو بھی مسئلہ ہو گا وہ طالبان کے پاس انصاف کے لئے جائے گا۔ یوں اس علاقے میں طالبان کا زور بڑھے گا۔ جس کی جب بھی صحیح طرح بیک ٹریکنگ ہو گی تو کڑیاں انتظامی بدنظمی پر جا کر ہی رکیں گی۔

     
  4. منصور مکرم

    25/11/2014 at 2:37 PM

    ریاض شاہد صاحب
    یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو دن بدن پھیلتی جا رہی ہے۔
    صوبہ خیبر پختون خواہ اور اس جیسے دیگر علاقوں میں تو شائد ہی کوئی ایسا گاؤں رہا ہو کہ جہاں اس قسم کے سستے اور فوری انصاف کا بندوبست نہ کیا گیا ہو۔

    ہماے عدالتی سسٹم کی یہ ایک بہت بڑی ناکامی ہے اور مسلح قوتوں کی یہی ایک بہت بڑی کامیابی۔

    سوچ کا مقام ہے۔ایک باضابطہ ملک اس قدر مسائل کا شکار کہ ایک مسلح گروپ بڑھ کر نمبر بنا لے۔

     
  5. افتخار اجمل بھوپال

    25/11/2014 at 2:52 PM

    شٰخ سعدی فرما گئے ہیں
    نا بِینی کہ چّوں گُربہ عاجِز شوَد ۔ بر آرَد بچنگال چشمِ پلَنگ
    یعنی تُو نہیں جانتا کہ جب بِلی تنگ آ جائے تو اپنے پنجے سے چیتے کی آنکھیں نکال لیتی ہے
    یہ تو ہوئی روائت ۔ میری آدھی صدی پر محیط عملی زندگی کا نچوڑ یہ ہے کہ ظُلم بدمعاشوں کی وجہ سے نہیں پھیلتا بلکہ ظُلم پر خاموش رہنے والے شریفوں کی وجہ سے پھیلتا ہے ۔ میں نے جب بھی ساتھیوں کے واویلا کے نتیجہ میں ظُلم کے سامنے سینہ تانا ۔ ظُلم کے خلاف غُوغا کرنے والے مجھے اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ ان میں جو زیادہ شور کرنے والے تھے وہ میرے خلاف جھوٹی مُخبری بھی کرتے رہے
    قانونِ فطرت ہے کہ جس معاشرے سے انصاف اُٹھ جائے وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے ۔ جس قوم کو 2005ء کا زلزلہ دیکھ کر بھی ہوش نہیں آیا وہ میرے خیال میں قابلِ اصلاح نہیں ہے ۔ آج آپ کسی کو فلاح کی خاطر اپنا وقت دینے کی درخواست کر دیکھیئے ۔ کوئی کم ہی آئے گا ۔ لیکن عمران خان کی طرح موسیقی کے ساتھ ناچنے والیاں بُلا کر دعوت دیجئے تو سینکڑوں پڑھے لکھے آ جائیں گے (میں اس سلسلہ میں ایک بار فلاحِ عامہ کے علمبدار بلاگران کو بھی بے آسرا بچوں کی مدد کیلئے پُکار کر دیکھ چکا ہوں) ۔ کام جس نے کرنا ہے وہ اکیلا ہی کرتا ہے اللہ نے مجھے توفیق دی اور اللہ مزید توفیق دیتا رہے

     
  6. نعیم اکرم ملک

    25/11/2014 at 4:24 PM

    نظام کی خرابی ہے لیکن کیا کریں؟ اب تو بلاگ پوسٹ لکھنے کے لئے وقت نکالنا دشوار ہوا جاتا ہے، فکر معاش نے جکڑ کے رکھ دیا۔ میرا ایک شعر
    فکر معاش سے اگر آزاد ہو گیا
    جو صید تھا کل تک وہی صیاد ہو گیا

     
  7. علی جلال

    26/11/2014 at 8:29 PM

    ریاض صاحب یہ حقیقت ہے،شدت پسند تنظیموں کی کامیابی کا راز یہی ہے ،لوگوں نے افغان طالبان کے سستے اور فوری انصاف کے بارے میں سنا ہے اور خاص کر سرحدی علاقوں کے رہائشیوں نے دیکھا بھی ہے انہیں دیکھ کر کچھ لوگ پاکستانی ٹی ٹی پی کو بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں،اور اسی انصاف کی توقع میں ان کی ساری خطاوں سے صرف نظر کرتے ہیں۔

     
  8. علی

    27/11/2014 at 12:18 AM

    کبھی کبھی مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان چل کیسے رہا ہے۔ ایسی کہانیاں عام ہیں بس کوئی جگرے والا سننے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ رہے نام اللہ کا

     
  9. sarwat AJ

    01/12/2014 at 3:44 PM

    انسان کی پوری ہستی میں جو چیز سب سے اہم ہے وہ “یقین” ہے۔ ایسی بےشمار مثالیں ہیں کہ انتہائی بُرے حالات میں بھی انسان کا یقین اُسے حوصلہ فراہم کرتا ہے اور نفسیاتی شکت و ریخت سے بچاتا ہے۔جب انسان کا یقین کھو جائے تو اس میں کچھ باقی نہیں رہتا ۔ کوئی اُمید، عزم، اچھی بات، مثبت خیال پیدا ہونا کم ہوجاتے ہیں اور منفی سوچیں جنم لیتی ہیں۔
    اور دکھ کی انتہا ہے کہ یہاں لوگوں کا یقین متزلزل ہوچکا ہے۔ تھانے وہی جاتا ہے جو مجبور ہو۔۔۔ عدالت جانے والا مزید ظلم کی توقع کررہا ہوتا ہے۔

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی