RSS
 

عشق کے چالیس نرالے اصول

2,950 views --بار دیکھا گیا

04 Oct 2014

اردو ادب میں آجکل  اگر کوئی بہت زیادہ طبع زاد کام نہیں ہو رہا تو اس کی  تلافی    دنیا کے مختلف ممالک اور زبانوں کے ادب میں معیاری  کام کا اردو ترجمہ کرنے کر کے کی جارہی ھے ۔  اس کام میں  کراچی اور لاہور کے اشاعتی ادارے  پیش پیش ہیں جن میں ایک ادارہ  سٹی بک پوائنٹ  اردو بازار کراچی ھے  ۔ عالمی اردب کو پاکستان  مین روشناس کرانے میں اس ادارے کا نام یقیننا داد   کا مستحق ہے کیونکہ جو کام حکومتی سطح پر ہونا چاہئیے تھا اسے یہ ادارہ  انجام دے رہا ہے۔ دنیا کے کئی بڑے ادبی  نام مثلا   فیودر دستو فسکی، گوئٹے، ژاں پال سارتر، جارج آرویل، البرٹ کامیو، جیمز ہیڈلے، نجیب محفوظ، پائلو کوئیلہو، ایلف شفق، ایما گولڈمان، خالد حسینی، گائبریل گارشیا مارکیز  وغیرہ شامل ھیں ،  ان کا کام انہیں کے توسط سے موجودہ نسل کے لوگوں تک پہنچا ھے۔

ایلف شفق کا نام پہلے پہل میں نے تارڑ صاحب کے ایک کالم میں  شفق کے ایک ناول ”  باسٹرڈ آف استنبول ”  کے حوالے سے پڑھا . فرانس میں ترکش نژاد والدین  کے ہاں پیدا ہونے والی   اس مصنفہ کے والدین کے درمیان اس کے بچپن میں ہی علیحدگی ہو گئی تھی  اور  والدہ نے اسے پالا ۔ اس ابنارمل  بچپن نے  بعد میں شفق کی تحاریر پر گہرا اثر ڈالا  ۔ ان کے  موضوعات زندگی کے  معانی  کی تلاش سے متعلق ہیں ۔  ان کا لکھنے کا انداز پائلو کوئیلہو سے ملتا جلتا ھے اور تصوف خصوصا مولانا روم کی مثنوی کی تعلیمات کا عکس ان کے  کام میں جا بجا نظر آتا ھے ۔ وہ اپنے ناولوں میں پیش کردہ مشرق اور مغرب کے امتزاج کے باعث بھی مقبول ہیں ۔ ان کا   انگریزی زبان میں چھپنے والا ناول ” فورٹی رولز آف لو ” یا اس کا  مندرجہ بالا اشاعتی ادارے کی طرف سے شائع شدہ ترجمہ  ” عشق کے چالیس نرالے دستور ”   تصوف کی خوشبو لیئے ہوئے ایک بڑا ناول کہا جا سکتا ھے جس نے دنیا میں فروخت کے ریکارڈ قائم کیئے ۔ لیکن یہ ناول عام ناولوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں کوئی  تھرل نہیں ھے جو سڈنی شیلڈن یا ایم جے کولنز وغیرہ کے ناولوں میں پائی جاتی ہے ۔ کچھ  کرداروں کو چونکہ  صوفی نظریات  کی وضاحت کے لیئے گھڑا گیا ھے  اور ویسے بھی ترجمے میں زبان کی اصل چاشنی آدھی رہ جاتی ہے تو ہو سکتا ھے کہ عام قاری اسے تیس چالیس صفحات پڑھ کر ایک طرف رکھ دے البتہ وہ افراد جو زندگی کی حقیقت اور اس میں پنہاں گہرے رموز کی تلاش میں غلطاں رہتے ہیں ان کے لیئے یقیننا ایک اچھا مطالعہ ثابت ہو گا

ایلف شفق

ایلف شفق

ناول کی کہانی   امریکی ریاست میسا چیوسٹس میں رہنے والی چالیس سالہ یہودی نژاد   عورت کی کہانی ہے جو  بذعم خود ایک مطمئن گھریلو شادی شدہ زندگی گذار رہی ہے ۔ اس کی زندگی میں ہلچل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کی بیٹی  اپنے چنیدہ محبوب سے شادی کرنے کی   خواہش کا اظہار کرتی ہے اور اس اقدام کی مخالفت پر وہ اپنی ماں کو چبھتے ہوئے انداز میں  اس کی محبت سے خالی اور  غیر مطمئن شادی شدہ زندگی کا طعنہ دیتی ہے ، ایلا کے خیال میں محبت ایک وقتی جذبہ ہے جس پر زندگی کی مستقل بنیاد نہیں رکھی جا سکتی ۔ انہیں دنوں ایلا کو ایک اشاعتی ادارے میں نوکری بھی مل جاتی ہے جہاں اسے ایک غیر معروف مصنف کے ناول  کو ریویو کرنے کا کام سونپا جاتا ھے ۔  یہ ناول    تیرھویں صدی کے صوفی درویش مولانا روم اور شمس تبریز کی کہانی ایک خیالی کہانی ہے۔ رومی کو مقررہ آداب سے آزاد ایک درویش سمجھا جاتا ھے  جس کی زندگی میں بے شمار الزامات اور  واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ مولانا روم کا عہد شورا شوری اور ابتری کا عہد تھا عیسائیوں کا   ترکی  پر حملہ ، عیسائیوں کی آپس میں لڑائی اور مسلمانوں کے ساتھ بھی اور اس کے علاوہ منگول بھی اس وقت  اپنی سلطنت کو توسیع دینے میں  مشغول تھے  ۔

ناول پڑھنے کے دوران ایلا کو ناول کے  مصنف  عزیز زیڈ ظہارا     سے جو ایمسٹر ڈیم میں رہنے والا ایک ماڈرن صوفی نما انسان ھے  ہے ای میل کے  ذریعے  خطو کتابت   کرنے کے دوران  اس کے خیالات  جان کے   غائبانہ محبت ہو جاتی ہے ۔ اسے مصنف  ظہارا  اسے اپنی زندگی کی کہانی سناتا ھے کہ کس طرح اس نے اپنی بیوی کو ایک  ٹرک ایکسیڈنٹ میں کھو دیا تھا جس سے اس کی زندگی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا تھا ۔ تب ظہارا   کی کایا پلٹ گئی  اور وہ  زندگی کے اس نئے موڑ پر اپنی زندگی کے نئے معنی کی تلاش میں صوفی ازم کے راستے پر چل پڑا تھا ۔ایلا کو ظہارا کی کہانی   اور اس کے ناول  کو ریویو کرتے ہوئے   مولانا روم اور شمس تبریز    دونوں    درویشوں کی کہانی اور  اپنی زندگی کے واقعات میں مماثلت بہت واضح نظر آنے لگتی ہے۔ اسی طرح  ہمارے قاری کو بھی  شمس تبریزی کے کردار سے اپنا آپ مماثل کرنے میں لطف محسوس ہوتا ھے۔ صوفی اسلام  کی نرمی میں ایلا کو وہ اپیل نظر آتی ہے کہ اس تصور سے محبت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے  ۔ ناول میں جگہ جگہ رومی کی تعلیمات کو کرداروں کی زبان سے ادا کیا گیا ھے   او ر  ناول کے اندر کہانی در کہانی  کرداروں کی زندگی کے ذریعے شامل ہوتی رہتی ہے۔ آخر کار ایلا اور اس کے شوہر کے درمیان  اپنے خیالات میں بُعد اور شوہر کی بے وفائی  کی وجہ سے طلاق ہو جاتی ہے۔IMG_20141003_204205

ناول سے چند اقتباسات

مجھے  معلوم ہے کہ تمہیں  نت نئی چیزیں پکانے کا شوق ھے کیا تم جانتی ہو کہ شمس کا نظریہ  یہ تھا کہ دنیا ایک دیو قامت دیگ کی طرح ھے اس کے اندر کوئی خاص چیز پک رہی ہے ، یہ کیا چیز ھے ہے ہمیں ابھی تک نہیں معلوم بس جو کچھ ہمارا اندازہ ہے وہ کچھ بے جان سا ھے ۔ ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہئیے کہ ہم اس دیگ میں اپنا کیا حصہ ڈالیں اور کیسے۔ کیا اس میں ہم غصۃ ، ناراضگی ، عداوت ، بغض  و کینہ اور بغاوت ہی ڈالیں گے یا محبت ، ہم آہنگی اور میل ملاپ ۔

ہاں تو ایلا ! تم بتاو کہ انسانیت کی اس دیگ میں تم کیا حصہ ڈال رہی ہو ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔

بد مست معتقد ! اگر ہر رمضان میں اللہ کے نام کا روزہ رکھا جائے  اور ہر عیدالضحی پر قربانی دے دی جائے تو سارے گناہ دُھل جاتے ہیں اگر تمام زندگی مکہ اور مدینہ کی زیارت میں گذار دی جائے اور نماز کا کوئی ناغہ نہ ہو ۔ تو کیا یہ کافی ہے ؟ ان تمام عبادتوں کے ساتھ صدق دل ضروری ہے ۔ اگر عشق صادق نہیں اور دل راغب نہیں تو سب کچھ بیکار ہے

۔۔۔۔۔۔IMG_20141003_204239

ماضی محض ایک تاویل ھے اور مستقبل سراب ۔ زندگی کا پہیہ پیچھے کی طرف نہیں گھومتا ، بلکہ ماضی سے ہوتا ہوا مستقبل کی طرف بڑھتا ھے ۔ یہاں تک کہ وقت بھی ہمارے آس پاس گھومتا  رہتا ھے ۔ ایک پیچ دار لچھے کی طرح ۔ ابدیت کے معنی لامحدود وقت کے نہیں ہیں  بلکہ مناسب موقع ھے ۔ اگر تم ابدیت کی درخشانی کا تجربہ  کرنا چاہتی ہو تو  ماضی اور مستقبل کو دماغ سے نکال دو اور حال میں مست رہو ۔ دیکھو!  موجودہ لمحہ ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہے ۔ اگر تم یہ حقیقت تسلیم کر لو تو تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ھے ۔ تم اپنے آپ میں ہمت پیدا کرو اور ایک بار اس قحبہ خانے سے نکل کر تو دیکھو

۔۔۔۔۔۔۔

شمس تبریزی ٹھیک ہی کہتا تھا ، ساری نجاست اور غلاظت دل میں ہی ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔

تقدیر کیا ھے ؟

اس کا جواب مشکل ھے ۔ تقدیر کا مطلب یہ نہیں ھے کہ تمہاری زندگی کسی خاص مقصد کے لیئے وقف ہو گئی ہے لہذا  ہر چیز تقدیر اور قسمت پر چھوڑ کر اپنے آپ کو بالکل الگ تھلگ کر لینا چاہئیے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کائینات کی تمام موسیقی ہمارے اندر سرایت کر گئی ھے ۔ تمہاری تقدیر ہی وہی جگہ ہے جہاں سے تم  اپنا کھیل شروع کرتے ہو ۔ اپنے آلات کو بدل لینا تمہارے بس میں نہیں ھے لیکن اچھا یا بُرا کھیلنا تمہاری اپنی صلاحیت پر منحصر ہے ۔

۔۔۔۔۔

 

Facebook Comments

 
  1. Rai M Azlan

    04/10/2014 at 7:08 PM

    ذبردست تبصرہ کیا آپ نے اس کتاب ہر اور مجھے یاد آیا کہ میرے پاس بھی یہ ناول انگریزی میں پڑا ہوا ہے جسے پڑھنے کی نیت سے کنڈل پر چڑھایا تھا. اب لگتا ہے نکال کر پڑھنا پڑے گا کافی دلچسپی سی پیدا ہو گئی ہے اس میں.

     
    • محمد ریاض شاہد

      05/10/2014 at 9:25 PM

      ہاں ایسا ہوتا ھے کہ کوئی کتاب جسے ہم بڑے شوق سے مہیا کرتے ہیں پڑی منتظر رہتی ھے کہ کب اسے پڑھا جائے. اس کا بھی کوئی لمحہ ہوتا ھے شاید جب دل و دماغ ہم آہنگی سے اس کتاب کو پڑھنے پر مائل ھوتے ہیں وگرنہ بعض ایسی کتابیں بھی ھوتیں ہیں جو اپنے آپ کو آپ سے پڑھوانے مییں ناکام رہتی ہیں.

       
  2. کاشف

    07/10/2014 at 2:56 PM

    بہت دفعہ بہت سے لوگ محض کسی عجیب جگہ پر پائے جانے کی وجہ سے یاد رہ جاتے ہیں۔
    میری ازلی سستی کی وجہ سے پڑھنے کا وقت اب کم نکلتا ہے۔ لیکن بہت دن پہلے وی ایس نے پال کی ایک کتاب “Among the believers” پڑھی۔
    لکھنے کی اپروچ بہت اچھی لگی۔ کہانی چلاتے ذرا سا ٹہر کر کسی پہلو بارے اپنے تاثرات بیان کرنا اور پھر چل دینا۔
    یو ٹیوب پر ان صاحب کے وڈیو/انٹرویوز سرچ کر رہا تھا کہ ان کی بیگم نادرہ نے پال کی ایک ادبی پینل میں گفتگو سننے کا اتفاق ہوا۔
    (برسبیل تذکرہ یہ بی بی بہاولپور کی ہیں، اور انہوں نے بڈھے وارے طلاق لے کر نے پال سے شادی کی، جو کہ برٹش ھندو ہے) ۔
    ان بی بی کا انداز تکلم اور کلام اس قدر عجیب لگا کہ یہ ادبی نشست ذہن میں‌رہ گئی۔
    اس ادبی پینل میں‌دوسرے دو لوگ حنیف قریشی اور الف شفق تھے۔
    مجھے الف شفق اسی وجہ سے یاد رہ گئیں۔
    ورنہ پڑھنے کا موقع نہیں‌ملا۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      09/10/2014 at 2:14 AM

      محترم کاشف صاحب
      وی ایس نیپل کی بات چلے گی تو بہت دور تک نکل جائے گی جس میں دو چار سخت مقامات بھی آتے ہیں اور مجھ میں ان مقامات کے بیان کی ہمت نہیں ھے 🙂

       
  3. sarwat AJ

    10/10/2014 at 2:09 AM

    کتب بینی بجائے خود اتنا نادر عمل ہوگیا ہے کہ ایک کتاب پہ تبصرہ پڑھ کر بے انتہا خوشی ہوئی۔ دوسرا یہ کہ تبصرہ اپنی جگہ بہت سلیس اور عمدہ لکھا ۔ ۔ ۔
    اُمید ہے کہ مزید تبصرے بھی آئندہ نظر آئیں گے

     
  4. محمد ریاض شاہد

    11/10/2014 at 12:04 PM

    ثروت اے جے صاحبہ
    جی یقیننا کوشش ہو گی کہ کچھ کتابوں پر مستقبل میں بھی اس طرح کے تبصرے پوسٹ کروں

     
  5. سلیم انور عباسی

    12/11/2014 at 11:31 AM

    ؔاپ نے خوب محفل سجائی ہے۔میں 7 برس سے کتابوں کی محبت میں مبتلا ہوں۔میرا یہ ماننا ہے کہ کوئی بھی فرد اپنی زندگی کا بہترین تخلیقی وقت کتاب کی صورت دیتا ہے تو میرے لیے کیا یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے قیمتی وقت میں مخل رہوں۔ہاں کبھی راہ چلتے بھی کسی ادیب سے ملاقات ہوجاتی ہے تو بھی چپ ہی رہتا ہوں

     
  6. عاصم خان

    23/05/2015 at 1:44 PM

    یہ کتاب آن لائن ہم ہندوستان میں کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ کوئی آسان ذریعہ ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔
    اگر آن لائن پی ڈی ایف فائل دستیاب ہو تو زیادہ بہتر ہے۔
    شکریہ
    عاصم خان

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی