RSS
 

طفل گردیاں

1,540 views --بار دیکھا گیا

07 Oct 2014

کسی سیانے نے کہا تھا کہ جہاں چند بچے جمع ہوں صرف وہیں زندگی کا  اصل مزہ آتا ھے  ۔ ایک تو ان سیانوں کی بھی سمجھ نہیں آتی کہ ہر موضوع پر انہوں نے کچھ نہ کچھ کہا ضرور ہے   ۔ماضی کے یہ سیانے پتہ نہیں کن بنیادوں پر سیانے کہلاتے تھے کیونکہ میں  نے تو جب بھی ان کے مشوروں پر عمل کیا ہمیشہ آزارپایا  ۔ اب یہی بچوں والے سلسلے کو لے لیں ۔

میرا پہلا بیٹا  جو ابھی دس سال کا ھے اپنی پیدائش کے بعد سے   کافی شریف قسم کا بچہ ثابت ھوا تھا ۔ بچپن میں خود ہی اپنے کھیل میں مگن رہتا تھا جب تھک جاتا تو کھا پی کر مزے سے سو جاتا تھا ۔ اس کے بعد  آٹھ نو سال ذرا سکون سے گذرے  ۔ لیکن قدرت کو شاید میری زندگی میں اس طرح کا سکون قطعا نہ بھایا  اور اس نے ایک ہی ہلے میں دو عدد جڑواں بچے میری گود میں ڈال دیے  اور ایسے کہ کہنا پڑا  یک نہ شد دو شد ۔ننھے بچے سے اگر آپ کے ذہن میں  جو تصویر عام طور  پیدا ھوتی ہے   وہ  ہے گبدا سا گول مٹول اور غاوں غاوں کرتا ھوا ہر وقت مسکرانے والا تو آپ ان دونوں ننھے شیطانوں کا صحیح  تصور کرنے میں قطعا ناکام رہے ہیں ۔

جب تک دونوں چند دنوں کے تھے ان دنوں تو وہ بس دودھ پیتے اور ہر وقت سوتے رہتےتھے  لیکن جب ان کی ذرا آنکھیں کھلیں تو پہلی  مشکل جس سے واسطہ پڑا وہ  ان دونوں کو سونے اور جاگنے کا شیڈول ھے  یعنی جس وقت رات کے بارہ ایک بجے  آپ  دن بھر کی مصروفیات سے تھک ہار کر سونے کی  کوشش کر رہے ہوتے   اور ابھی نیند کی دیوی آپ کی تھپکیاں دے کر  نیند کی وادیوں میں لے جا رہی ہوتی ہے اسی وقت ایک  کانوں میں سوراخ کرنے والی چیخ  سن کر آپ ہڑبڑا کر اٹھ پڑتے ہیں۔ دل ہولنے لگتا ھے کہ خدا خیر کرے کہیں سوتے میں منے کو  کسی کیڑے  مکوڑے نے   کاٹ نہ لیا ھو یا کان وغیرہ میں گھس گیا ہو  ۔ نظری معائنے پر ایسا کچھ نہیں محسوس پڑتا   تو دودھ کا فیڈر منہ سے لگایا جاتا ھے  لیکن چیخ و پکار بدستور جاری رہتی ۔ پھر پتہ چلا کہ پیمپر گیلا ہے جس کی وجہ سے محترم چین نہیں لے رہے وہ بدلا ، دودھ پلایا تو پھر وہی چیخیں ۔ اب  بیگم کی طرف سے یہ  انکشاف ہوا کہ جب تک چسنی منہ میں ڈالتے انہیں نیند نہیں آئے گے ۔ یہ بتانا   میں بھول گیا کہ  اس سارے عمل کے دوران دوسرا پُوت بھی  یہی سلوک ہمارے ساتھ فرما رہا ہوتا ھے  اور اسے بھی یہی سروس  ساتھ میں فراہم کی جارہی ہوتی ۔

اس وقت تک بھی خیریت رہی جب تک انہیں  گھٹنوں کے بل چلنا  نہیں آیا تھا ۔  لیکن  گھر میں  ہنگامہ اس وقت برپا ہوا جب   دونوں ایک ساتھ لذت آوارگی سے آشنا ہوئے  ۔ گھومتے گھماتے سب سے پہلے تو یہ اصحاب جو چیز سامنے پڑی نظر آتی اسے منہ میں ڈال کر چکھنے کی کوشش ضرور کرتے چاہے یہ کھلونا ہو یا آپ کا جوتا ، ٹیلی فون کا ریسیور ہو یا   ڈور میٹ انہیں بس چکھنے سے غرض رہتی   اور جب انہیں ایسے کسی کام سے منع کرتے تو یوں شور مچاتے جیسے ہمارے ارکان اسمبلی اپنا  استحقاق مجروح ہونے پر مچاتے ہیں  ۔ بڑے والا جب روتا ھے تو اس کی آواز تو معمول کے بچوں جیسی ہے لیکن چھوٹے کے گلے میں اللہ میاں نے کچھ ایسا خصوصی ساونڈ سسٹم فٹ کیا ھے کہ جب وہ  چیخ مارتا ھے تو  اس کی آواز ایسی سماعت شکن ثابت ہوتی ہے کہ مجھ جیسا  لاپرواہ بندہ بھی گھبرا کے کہتا ھے کہ  اللہ کے واسطے اسے اس کی مرضی کرنے دو   تاکہ زندگی میں کچھ سکون آئے ویسے بھی  ہمارے ہاں     امریکہ  ، آرمی اور سیاست دانوں کو بھی اپنی مرضی کرنے سے کوئی نہیں روک سکا  آپ اس میں بچوں کو بھی شامل کر سکتے ہیں ۔

اور  اصل قیامت نے  گھر میں اس وقت  قدم رکھا جس وقت انہیں چلنا آیا ۔  اب گھر کا کوئی گوشہ ایسا نہ تھا جو ان کی دست برد سے محفوظ ہو ۔ ابھی میرے کمرے میں آ کر شیلف میں ترتیب سے رکھی کتابوں کی ترتیب پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے  انہیں یا تو دھکیل دھکیل  الٹ کر اپنی مرضی سے کر دیتے   یا پھر  زمین پر پھینک رہے ہیں تو دوسرے لمحے دادا جی کی  مصنوعی بتیسی کی ڈبیا کو  باتھ روم کی بالٹی کے پانی میں ڈبو رہے ہیں ادھر دادا ابو  ان کے  یہاں  جانے کے بعد ہر جگہ بتیسی تلاش کرتے پھرتے۔مسلم شاور کو کموڈ میں اور  وائپر کو لان میں پھینک دیتے ہیں ۔جب تک دادا ابو کی بتیسی ہم پانی سے برآمد کرتے ہیں  اُس وقت تک  وہ دونوں  کچن کے سٹور میں بوٹ پالش کی ڈبیا کھول کے اسے چکھ کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہوتے کہ یہ کس قسم کی ڈش ہے  یا  نچلے  کارنس پہ پڑی آٹا گوندھنے کی پرات نیچے گرا کر اس میں بیٹھ کر یہ مزہ لیتے  اس پر غور وفکر کرنے  کی کوشش کرتے کہ بڑے   لوگ اسے فرنیچر کے طور پر کیوں استعمال نہیں کرتے ۔

انہیں کسی بھی کام کے کرنے میں ترتیب سے سخت چڑ ھے  اگر انہیں  چمچ سے کچھ کھلانے کی کوشش کی جائے تو سخت ناراض ہوتے ہیں اور چمچ کو خود  اپنے ہاتھ میں لے کر اسے ڈش میں  حلوائی کے کڑچھے کی طرح گھما کر  زمین پر گرانا زیادہ پسند کرتے ہیں ، نہلانے کی کوشش کے دوران ڈ  ول کو خود ہاتھ میں لے کر زمین پر پانی گرانا پسند کرتے اور  صابن کو کموڈ میں پھینکنا ان کا دل پسند مشغلہ ہے ۔

اسی طرح بڑے والے کو گود میں لے کر بیٹھیں تو چھوٹا  اس غیر مساویانہ اقدام پر احتجاج کرتا ھے ۔ اگر چھوٹا ٹی وی ٹرالی میں گھس گیا ھے تو بڑا اس پر شور مچا کر احتجاج کرتا ھے کہ اسے بھی یہ اعزاز دیا جائے  اور نہ ملنے پر وہ ٹرالی کا دروازہ بند کر کے  چھوٹے کی بھاں بھاں کو ہمارے لیئے آزار کا باعث بناتا ھے ۔ لینڈ لائن پہ فون آ جائے تو ان میں سے کوئی ایک بھاگ کر فون اٹھاتا ھے اور اپنی  مسلسل غاوں غاوں سے مخاطب  کا ایسا ناطقہ بند کرتا ھے کہ وہ بیچارہ گھبرا کر فون بند کر دیتا ہے ۔ وہ الگ بات ہے کہ دوسرے دن دفتر میں کوئی صاحب  اس بات کی شکایت کرتے پائے جاتے ہیں کہ میں فون ہی اٹینڈ نہیں کرتا ۔ ان کےخیال میں کسی دفتری رنجش کا بدلہ لینے کے لیئے ان شیطانوں کو میں نے بطور خاص یہ تربیت دی ہوئی  ہے ۔

ہر بندے کی کچھ عادات ایسی ہوتی ہیں جن کے پورا نہ ہونے سے وہ چڑ جاتا ھے اور  مجھے بھی  کوئی چیز اپنی مقررہ جگہ  نہ پا کر بیگم پر بہت غصہ آتا ھے ۔  مثلا اپنی میز پر پڑے  وائرلیس ماوس کی ڈھنڈیا پڑی  ہوئی ھے ۔ میں کہتا ہوں ابھی تو یہاں تھا ۔ بیگم فرماتی ہیں کہ آپ خواہ مخواہ ناراض ہوتے ہیں پہلے چیک کر لیں  کہیں بیگ میں تو نہیں رہ گیا ۔ کافی ڈھونڈنے کے بعد پتہ چلتا ھے کہ دونوں ننھے حضرات سٹور میں بیٹھے   ماوس ہاتھ میں لیئے اس کی روشنی دیکھ کر قلقاریاں مار رہے ہیں ۔ وہ واپس لاتے ہیں تو ابکے معلوم  ہوتا ھے کہ لیپ ٹاپ کے ساتھ لگی ایوو  یو  ایس بی بھی غائب ہے جو  کہ لان میں پڑی ملتی ہے ۔

اب گھر کا یہ عالم ہے کہ گھر گھر نہیں لگتا بلکہ ایک عظیم الشان کباڑ خانہ  لگتا  ہے ۔ بیگم کی ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی سنگھار کی  اشیاء سٹور اور ڈرائنگ روم پہنچ جاتی ہیں یا پھر ان کی مدد سے چہرے پر گلکاری کے عمدہ نمونے بنائے جاتے ہیں ، میری سگریٹ کی ڈبیا کی سگریٹیں نکال نکال کر انہیں بڑی احتیاط سے توڑ توڑ کر پھینکا جاتا ھے  ۔ ڈی وی ڈی باکس سے ڈی وی ڈیز نکال کے ان کے اندر سے ڈسک کو زمین پر رگیدا جاتا ھے  کہ ایسا کرنے سے ایسی کریہہ آواز پیدا ہوتی ہے جو شاید  زیر تفتیش ملزمان سے  معلومات اگلوانے کے  لیئے بہت موزوں ہے  لیکن  ان شیطانوں کے لیئے یہ اوریجنل موسیقی کی کوئی قسم ھے ۔ ڈسٹ بن کو الٹا کر اس  کا کوڑا کرید کرید کر  اسے منہ میں ڈالتے ہیں جیسا کہ سگریٹ کے  بچے ہوئے ٹوٹے یا ناکارہ پنسلیں ۔

اونٹ کی کمر پر آخری تنکا اس دن پڑا جس دن ہمارے ہونہار نے میرا قیمتی موبائل پانی میں ڈال کر دھو دھلا کر میرے حوالے کیا  جو یقیننا اس وقت تک راہی ملک عدم ہو چکا تھا ۔ اسے میرے حوالے کرتے ہوئے  اپنے اس کارنامے پر  ننھے میاں قلقاریاں مارتے اس قدر خوش تھے کہ مجھے  سمجھ نہیں آیا کہ ہنسوں یا رووں ، پھر جب دوبارہ نظر ڈالی تو اس کی آنکھوں میں ایسی ملکوتی چمک  نظر آئی جو شاید فرشتوں کی آنکھ میں نظر آتی ہو گی۔ مجھے یہ سوچ کر ہنسی آگئی کہ خدا بھی شاید بنی آدم کو زمین پر مصروف عمل دیکھ کر کبھی کبھار ایسے ہی  مسکرا اٹھتا ہو گا ۔ میں نے منے  کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے چوم لیا ۔

Facebook Comments

 
  1. ً محمد سلیم

    07/10/2014 at 5:31 PM

    سر، آپ کا لکھا ہوا مزاح‌پڑھ کر بہت مزا آیا۔ بس اتنا مزا کیا کافی نہیں‌کہ آپ اسے دردناک کہانی کہہ رہے ہیں‌اور میں‌مزایدار۔

     
  2. سعید

    07/10/2014 at 9:36 PM

    ہنسی پہ ہنسی چھوٹی رہی ساری تحریر میں۔ سواد آگیا

     
  3. raina jaffri

    08/10/2014 at 6:56 AM

    اس ساری تحریر میں جو سب سے اچھا کام وہ کرتے ہیں وہ ہے آپکے سگریٹ ٹھکانے لگانے کا کام ، بچے واقعی ننھے فرشتے ھوتے ہیں

     
    • محمد ریاض شاہد

      09/10/2014 at 2:08 AM

      محمد سلیم ، سعید صاحب اور رعنا جعفری صاحبہ
      میری اس عام سی تحریر سے محظوظ ہونے کا شکریہ

       
  4. وقاراعظم

    09/10/2014 at 1:15 PM

    بہت اعلیٰ جناب، ایسا لگا کہ میری بیٹی کی کہانیاں بیان کررہے آپ
    🙂

     
  5. عمار ابنِ ضیا

    09/10/2014 at 4:36 PM

    اپنی اولاد کی یہ عمر زندگی کے خوب صورت ترین رنگوں میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے بچوں کو یوں ہی ہنستا مسکراتا کھلکھلاتا رکھے اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔ تحریر پڑھ کر اولاد کی محبت کے جذبات میں مزید اضافہ ہوگیا۔ 🙂

     
  6. sarwat AJ

    09/10/2014 at 8:37 PM

    بہت خوبصورت. . . بچوں کی اس عمر کا اپنا مزہ ہے لیکن پتہ بھی نہیں چلتا اور یہ دِن بِیت جاتے ہیں . . . دیکھتے ہی دیکھتے انہی بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں اور بھاری بھرکم بستے آجاتے ہیں . . . اور پھر وہی زندگی کی کشاکش ، پڑھائیاں اور معاش کی فکریں . . .
    ان دنوں میں ، بچوں کی معصومیت میں ، . . . .اپنا گزرا ہوا بچپن ‘انجوائے’ کریں . . . بس ایک بات کا خیال رہے کہ بچوں کو کتاب، پانی، بجلی، فون جیسی اہم چیزوں کے بارے میں واضح طور پر منع کریں ، ایک دو نہیں تو پانچ سات بار سمجھانے پر آپ کا پیغام بچے سمجھ لیں گے اور یہی ان کی زندگی کا پہلا سبق ہوگا کہ انسان کو حد اور لِمٹس کا پابند ہونا ہے ۔ ۔ ۔ بنیادی تصورات اسی عمر میں جڑ پکڑتے ہیں۔
    سدا خوش رہیں ۔

     
  7. محمد ریاض شاہد

    11/10/2014 at 12:02 PM

    وقار اعظم ، عمار صاحب اور ثروت اے جے
    شکریہ

     
  8. ناصر

    14/10/2014 at 11:35 AM

    محترم !!
    یہ کرم فرمائی صرف آپ کے مقدر میں نہیں ہے
    ہم میں سے بیشتر کی کہانیاں ایک جیسی ہیں
    ۔ بس آپ کے ساتھ یہ خاص ہے کہ جو عرصہ آپ نے سکون میں گزارا ہے اب اس کے خراج کا وقت آیا ہے

     
  9. ali abbas

    01/12/2014 at 12:56 AM

    Sir excellent , i can imagine your conditions as I’m experiencing same at the hands of my youngest one … I enjoyed reading givecmy love to all three
     
  10. عائشہ تنویر

    03/12/2014 at 4:32 PM

    زبردست 🙂