RSS
 

خون خاک نشینان

2,822 views --بار دیکھا گیا

09 Oct 2014

بلاگ پوسٹ تو کسی اور موضوع پر لکھ رہا تھا لیکن اسی اثنا میں  ٹی وی کے ذریعے یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ ڈیفنس لاہور میں      سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے گارڈز کے ہاتھوں ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان کا قتل ہو گیا ھے ۔ صحیح حقائق تو کچھ عرصے بعد ہی معلوم ہوں گے لیکن  اب تک کی اطلاعات کے مطابق  عبدالقادر گیلانی کی گاڑی سے نوجوان طاہر کی  موٹر سائکل کی ٹکر ہوئی  یا  پھر موٹر سائیکل والے نے لینڈ کروزر گاڑی کو  راستہ نہیں دیا تو گیلانی کے گارڈز اور متوفی نوجوان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس پر گیلانی کے   چھ میں سے ایک گارڈ نے گولی چلائی جو نوجوان کے سر میں لگی اور وہ موقعہ پر ہی دم توڑ گیا ۔

پاکستان میں جب سے دہشت گردی کی لہر کا آغاز ہوا ھے سیکیورٹی  فراہم کرنے کا کاروبار اپنے عروج پر پہنچ گیا ھے ۔ سیکیورٹی کیمرے ، سینسرز ، ٹریکر ، الارم اور  گارڈز  فراہم کرنے والی کمپنیاں  برساتی کھمبیوں کی طرح اگ آئی ہیں جنہیں یوں تو لائیسنس وزارت داخلہ جاری کرتی ہے لیکن ان کمپنیوں کی  سروس کی فراہمی کے معیار کو جانچنے کے کام پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ۔  کراچی میں ہونے والی بینک ڈکیتی اور گھروں میں ہونے والی ڈکیتیوں کی تفتیش کے بعد یہ انکشاف ہوا ھے کہ زیادہ تر وارداتوں میں سیکیورٹی گارڈز کا ہاتھ رہا ھے ۔

ترقی یافتہ ممالک میں سیکیورٹی گارڈز یا تو سابقہ فوجی ہوتے ہیں یا پھر سیکیورٹی کورسز  کے امتحانات پاس کر کے کامیاب ہونے والے افراد کو اس ڈیوٹی پر مامور کیا جاتا ھے ۔  تربیت کے دوران  ہتھیاروں کے استعمال کے علاوہ ان گارڈز  کے ذہنی اور اخلاقی  معیارات کو بھی جانچا جاتا ھے کہ کرائسز ہینڈل کرنے کی صلاحیت ان افراد میں کتنی ہے  اور دوران ملازمت کسی بھی کوتاہی پر  متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ان گارڈز سے بھی قانون کے مطابق سخت  سلوک کیا جاتا ھے۔

لیکن اب پاکستان میں ہماری سڑکوں پر یہ مناظر عام دیکھنے میں آتے ہیں کہ  تین چار گاڑیوں کا قافلہ جن کی لائسنس پلیٹس سے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کس محکمے کی گاڑیاں ہیں، گاڑی میں موجود شخصیت کون ھے  اور ان پر سوار محافظ افراد یا تو وردیاں پہننے کا تکلف ہی نہیں کرتے یا پھر  اپنی  وریوں پر کمپنی یا فورس کے نشانات کو چھپانے کے لیئے  منہ  اور سر پر ان محافظوں نے رومال اس طرح  ڈالے ہوتے ہیں کہ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ ان کا تعلق کس کمپنی سے ہے ۔ عام طور پر پہلی گاڑی راستہ کلیئر کرنے کا فرض انجام دیتی ہے  اور راستے میں آنے والی ہر  ادنی گاڑی سے یہ توقع کرتی ہے کہ راستہ فورا چھوڑ دیا جائے  اور نہ چھوڑنے پر زوردار ہارنوں ، ہوٹروں اور گالم گلوچ کے ذریعے عام   آدمی کو دھمکایا جاتا ھے اور اگر ایسے بھی ان کی رٹ قائم نہ ہو  تو پھر گولی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔مقتدر افراد کی دیکھا دیکھی اب  معاشرے کے عام     اور غیر سرکاری  حضرات نے بھی ایسے گارڈز رکھ لیئے ہیں جن کا ماضی کا ریکارڈ بے داغ نہیں ہے اور ان کی مناسب تربیت بھی نہیں ہوئی جس کی بنا پر ایسے حادثات آئے روز پیش آتے ہیں ۔  اس صورتحال میں نقصان عام آدمی کا ہی ہوتا ھے  اور بالآخر  طاقت ور حضرات قانون کے شکنجے میں آنے سے بچے رہتے ہیں ۔

نیلم احمد بشیر کا ایک افسانہ کہیں پڑھا تھا جس کا عنوان ابھی بھول گیا ھے  شاید اس کا عنوان  گلابوں والی گلی تھا ۔ اس  میں وہ  افسانے کی ہیروئن  کے بچپن کا وقعہ بیان کرتی ہے جب وہ سکول جانے کے لیئے پیدل اپنی سہیلیوں کے ہمراہ جا رہی ہوتیں ہیں تو  ایک سنسان گلی میں ان لڑکیوں کو دیکھ کر  ایک آدمی  اپنا عضو تناسل  باہر نکالے سائکل پر آ رہا ہوتا ھے ۔  اس منظر کو دیکھ کر وہ اپنی دوسری کم عمر ساتھیوں  کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتی ہے ۔ چند برس کے بعد   وہ شادی کر کے غیر ملک چلی جاتی ہے اور  پھر واپس اپنے ملک میں آتی ہے  تو ایئر پورٹ سے گھر آتے ہوئے  ایک بڑی گاڑی میں کوئی اہم شخصیت جا رہی ہوتی ہے جس کے محافظوں کے خود کار آتشیں ہتھیاروں کے نالیاں  کار کی کھڑکیوں سے  باہر نکل کر جھانک رہی ہوتی ہیں ۔ یہ دیکھ کر  اسے ماضی کا وہ جانور یاد آ جاتا ھے  اور وہ بے اختیار  اپنے بچوں کی آنکھوں پر اس منظر کو چھپانے کے لیئے  ہاتھ رکھ دیتی ہے ۔ ہمارے معاشرے میں  مردانہ عضو تناسل ہو یا آتشیں ہتھیار دونوں ہی  اپنی طاقت کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں اور قانون کے رکھوالے مجبوری کی تصویر بنے تماشہ دیکھتے رہتے ہیں ۔

ضرورت اس  امر کی ہے کہ آتشیں ہتھیاروں کی سر عام نمائش پر  پابندی پر سختی سے عمل ہونا چاہئیے اور اس کے ساتھ ساتھ گارڈز فراہم کرنے والی کمپنیوں کی بھی سختی سے جانچ پڑتال ہونی چاہئیے کہ  صرف ایسے افراد  فراہم کریں جو  نہ صرف تکنیکی لحاظ سے بلکہ اخلاقی و قانونی لحاظ سے بھی بے داغ شخصیت کے حامل ہوں ۔ رہا  یہ گیلانی کیس تو  اس کا کچھ نہیں بننے والا کیونکہ جب تک اس ملک میں قانون کو موم کی ناک کی طرح موڑنے کی طاقت رکھنے والے ہاتھ موجود ہیں قانون کی حکمرانی کا خواب  شرمندہ تعبیر  نہیں ہو سکتا ۔ رہا طاہر کے والدین کا دکھ تو انہیں یہ  پڑھ کر صبر کر لینا چاہئیے

یہ خون خاک نشینان تھا، رزق خاک ہوا

Facebook Comments

 
  1. علی

    09/10/2014 at 1:28 AM

    افسوس ناک بات ہے کہ سب مانتے ہیں کہ یوسف رضا بذات خود کسی کو تکلیف دینے والا شخص نہیں۔ وہ جیتتا اسی وجہ سے رہا ہے کہ اس کے مخالف بوسن تھانہ کی سیاست کرتے ہیں جبکہ یوسف رضا ایک شریف بندہ کا امیج رکھتا ہے۔ لیکن جس طرح اس کی اولاد نے اسے بدنام کیا ہے یہ بھی ایک مثال ہے ۔ ویسے اولاد تو خیر آج کل سب کی مثالیں قائم کیے ہے۔ پچھلی نسل نے تو نا اہلی کے ریکارڈ ہی توڑ دیے سارے

     
    • محمد ریاض شاہد

      09/10/2014 at 2:12 AM

      علی شکریہ
      ہمارے ایک مرحوم کرم فرما.کا کہنا تھا کہ بیٹا والد کا امتحان ہوتا ھے. تو اس سے تو ظاہر ھوتا ھے کہ محترم گیلانی اس امتحان میں ناکام ٹھہرے ہیں. جو شخص اپنے بیٹوں کو قانون کی عزت کرنا نہیں سکھا سکا مجھے اس کی صلاحیتوں پر شک کرنے کا حق ھے. نواب کالا باغ جب پنجاب کے گورنر بنے تو انہوں نے اپنے بیٹوں کا گورنر ہاوس میں داخلہ سختی سے بند کر دیا تھا. کاش گیلانی صاحب کو بھی یہ نکتہ معلوم.ہوتا

       
  2. sarwat AJ

    09/10/2014 at 12:59 PM

    بہت ہی دکھ کی بات ہے ۔ ۔ عام آدمی کی اصطلاح کس اعتبار سے وضع کی جاتی ہے؟ کون اس بات کا تعین کرے گا کہ کون عام آدمی ہے ؟
    اور کیا ۔ ۔ ۔ ۔قیامت کے دن عام آدمی اور خاص آدمی کے حساب کتاب میں فرق ہوگا ؟
    نیلم احمد بشیر کے افسانے کا حوالہ حسبِ حال دیا ۔ ۔ ۔
    واقعی ہم فتنوں سے بھر پور دور میں جی رہے ہیں ۔ ۔ ۔ اللہ سب کا ایمان سلامت رکھے۔

     
  3. نعیم خان

    09/10/2014 at 3:27 PM

    ہم عوام کے لئے قانون جو لوگ بناتے ہیں وہ اس کو اپنے گھر کی لونڈی بنا کر رکھتے ہیں۔ جب تک یہاں ایک مکمل انقلاب نہیں‌آتا کوئی بھی سیدھی راہ نہیں‌چلے گا۔ یہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون نافذ ہے۔ ہم لوگ اخلاقی طور پر اتنے گرے ہوئے ہیں‌کہ اپنی جھوٹی انا ورعب کی خاطر کسی کی زندگی کا چراغ گل کرنا کوئی بڑا کام نہیں، ماضی قریب و بعید میں‌بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔

     
  4. محمد ریاض شاہد

    11/10/2014 at 12:01 PM

    نعیم خان صاحب
    بجا فرمایا ۔ شکریہ

     
  5. کاشف

    12/10/2014 at 10:56 AM

    پیر خود نہیں اڑتا، اس کے مرید اس کو اڑاتے ہیں۔

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی