RSS
 

گولی کاتا

1,192 views --بار دیکھا گیا

18 Mar 2014

ہمارے ایک ڈاکٹر اور  ادیب ٹائپ کے نیٹ فرینڈ ہیں جن کا وڑھنا  بچھونا لکھنا پڑھنا ھے  اور آجکل اپنے بلاگ سے زیادہ  ٹوئٹر پر پائے جاتے ہیں اپنی تازہ ترین ٹویٹ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ “مجھ سے بڑا پوستی کوئی نہیں ، آج حجام کی دکان پر حجامت بنوانے کے دوران سو گیا ” ۔ اگرچہ ان کےاس طرح سونے میں ان کی اپنی کوشش سے زیادہ حجام کی کارکردگی کا عمل دخل زیادہ نظر آتا ھے لیکن اس طرح کی بے فکری کسی کسی کے نصیب میں آتی ھے ۔ ان کی اس ٹویٹ سے مجھے ایک صاحب یاد آ گئے جنہیں ہم اپنی آسانی کے لیئے گل خان کا نام دے دیتے ہیں ۔

ہمارے دفتر سے کچھ کام ٹھیکے پر بھی کروایا جاتا ھے  اور ٹھیکوں کی طلب میں ہر طرح کے ٹھیکے دار دفتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں جن میں گل خان بھی شامل ہیں ۔ یہ موصوف بظاہر حلیئے سے تو کسی ڈرائی فروٹ کی دکان کے مالک زیادہ نظر آتے ہیں لیکن کروڑوں اربوں کے بڑے بڑے ٹھیکے اٹھاتے ہیں ۔ ان دنوں وہ دو چار دکانیں کرایہ پر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ کئی دفعہ چکر لگانے پر ہر دفعہ انہیں ہم سے قانون کا آموختہ سننے کو ملا تو ایک دن ہمارے باس کے دفتر میں بیٹھے بیٹھے تپ گئے ۔ اس دن ہم سب کو فرصت تھی اور  گل خان  بھی باتیں کرنے کے موڈ میں تھے ۔ کہنے لگے۔

“مجھے پتہ ہے آپ مجھے میرے حلیئے اور کم تعلیم کی وجہ سے زیادہ لفٹ نہیں کرواتے ورنہ اگر میری کل دولت کا تخمینہ سن لیں تو آپ کے پسینے چھوٹ جائیں ۔ یہ دو چار دکانیں تو محض میرا شغل ہیں ، یہ تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں ” ۔

تو عرض کیا  ، شغل کی کیا ضرورت پیش آ گئی ؟

فرمانے لگے اب میں اپنے دولت کمانے کے کیریئر میں اس مقام پر ہوں جہاں پیسہ کمانا ضرورت سے زیادہ ایک پُر لطف  شغل ہوتا ھے ۔ پیسہ گننا اچھا لگتا ھے ، میری جائیداد اتنی ہے کہ مجھے خود بھی نہیں پتہ کہ کونسی جائیداد کہاں پر ہے ۔

کیوں ؟

کاروبار کے شروع میں آہستہ آہستہ تھوڑی تھوڑی کر کے جائیداد خریدتا چلا گیا ۔ اب وہ اتنی ہو گئی ہیں کہ مجھ جیسے ان پڑھ بندے کے لیئے اس کا حساب رکھنا نا ممکن ہو گیا ہے ۔ دوسری وجہ اس کی یہ ہے کہ زیادہ تر جائیدادیں وہ ہیں جو قانون اور ٹیکس افسران کی نظر میں نہیں ہیں ، زندگی میں کامیابی کا احساس تو ھے لیکن اب آ کے کچھ سالوں سے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا ھے ۔

وہ کیا ؟

اب رات کو اس خوف سے نیند نہیں آتی کہ کسی دن قانون کا کوئی سر پھرا  رکھوالا میری دولت کی کھوج میں لگ گیا تو ساری دولت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں، دولت سے ہاتھ دھونے کا خوف اب میرا سب سے بڑا خوف ہے،   ساری رات بستر پر کروٹیں بدل بدل کر سونے کی کوشش کرتا ہوں لیکن نیند کی دیوی روٹھی رہتی ہے ۔ ڈاکٹر سے مشورہ کیا تو اس نے نیند کی گولیاں کھانے کا مشورہ دیا ۔

” اب ہم نیند کے لیئے گولی کاتا ، ڈاکٹر نے دو گولیوں کا کہا  لیکن ام  تین کاتا  اس سے نیند اچا آتا ”

فارسی کا ایک مقولہ ہے ” اے زر تو خدا  نےاست ولے بخدا ستاری و   عیو بی  و قاضی و حا جا تی”  یعنی اے زر دولت تو خدا تو نہیں ہے لیکن عیبوں کو چھپاتی ہے اور حاجتوں کو پورا کرتی ہے ۔دولت کا حصول کسے اچھا نہیں لگتا ، زیادہ تر انسان بچپن سے اپنی جائز ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے محنت اور کوشش کرتے ہیں جس کا حُکم بھی ھے ، لیکن بعض افراد اس رستے پر چلتے نہیں بلکہ دوڑ لگاتے ہیں ، سانس پھول پھول جاتی ھے ، ہر وقت دوسروں سے تقابل کرتے ہیں ، اس دوڑ میں دوسروں کواڑنگا لگا کر گرانا ، کہنی مار کر پیچھے کرنا ، قانون ،ضمیر اور دوسروں کے گرے ہوئے جُثے پر سے گذر جانا سب روا سمجھتے ہیں ۔  ایسے لوگ اپنے چہرے سے بآسانی پہچانے جاتے ہیں ۔ اول تو مسکراتے نہیں اگر مسکراتے  بھی ہیں تو ان کی آنکھیں نہیں مسکراتیں ، اندر مستقل برپا تشویش پیشانی پر اپنی لکیریں چھوڑ جاتی ہے ، کسی نہ کسی جسمانی و نفسیاتی بیماری میں مبتلا زندگی میں مسرت کی تلاش میں رہتے ہیں ۔

مسرت کیا ھے ؟ اس کا سیدھا سادھا جواب تو یہ ھے کہ دل کی وہ کیفیت جس میں انسان کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ کھیلنے لگتی ہے ، زندگی سہانی محسوس ہوتی ہے ، لیکن یہ کیفیت گریز پا ہو سکتی ہے  اسے ہم خوشی کا نام دے سکتے ہیں ، اچھا کھانا ، اچھا لباس ، ایک خوبصورت کھلونا خوشی کے لیئے کافی ہے ، خوشی آسانی سے ہاتھ آ سکتی ہے لیکن جلدی زائل بھی ہو سکتی ہے البتہ مسرت ایک مستقل اور لازوال کیفیت کا نام ھے جس میں خوشی سے زیادہ گیرائی اور پھیلاو ہوتا ھے ۔ اس کا انحصار بیرونی عوامل سے زیادہ انسان کے اندر ہوتا ھے یہ وہ کیفیت ھے جو ہر شے پر اپنا رنگ چڑھا دیتی ھے اور غم و الم کے سیاہ بادل پر بھی ایک نقرئی حاشیہ لگا دیتی ہے ۔ حقیقی مسرت ان اشخاص کے حصے میں آتی ہے جو زندگی کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور اعلی نصب العین کے حصول کے لیئے کوشاں رہتے ہیں ۔ مثلا اگر تعلیم محض روزی کے حصول کے لیئے حاصل کی جائے تو شاید محض زندگی میں چند خوشیاں لا سکے لیکن اگر مقصد تعمیر اور اور تخلیق بن جائے تو باعث مسرت ۔ مرزا غالب ساری عمر ساری عمر تنگدستی کا رونا روتے رہے لیکن ان نامساعد حالات میں بھی بے مثال شاعری تخلیق کی ۔  دوسرے لفطوں میں ہم ایثار ، قربانی ، فن کارانہ تخلیق ، فلسفیانہ تدبر اور تہذیب نفس سے ہی دائمی مسرت حاصل کر سکتے ہیں ۔

اگر پوسٹ زیادہ فلسفیانہ ہو گئی ہے تو میں ایک دوسرے صاحب کا ذکر کروں گا جنہیں ہم حاجی صاحب کا نام دے لیتے ہیں ۔ یہ بھی ٹھیکیدار ہیں بلکہ میری پیدائش سے پہلے کے اس دھندے میں ہیں ۔ خود کبھی نہیں آتے بلکہ فون کر کے بلانا پڑتا ھے۔ چمپئی رنگت ، گالوں پر جھلکتی سرخی ، سفید لمبی داڑھی ، ایماندار اور وعدے کے پکے ، معتدل قسم کا مذہبی ذہن۔ یہ بھی بڑے ٹھیکے اٹھاتے ہیں لیکن ان کا زبانی وعدہ ہی گارنٹی ہوتا ھے ۔ بیٹے پڑھ لکھ کر دوسرے شہروں اور ملکوں میں اپنا دھندہ کرتے ہیں لیکن یہ اکیلے اپنا بزنس چلاتے ہیں ۔ ان سے مل کر اور ان کی باتین سن کر مجھے ہمیشہ راحت محسوس ہوتی ہے ۔ ان کا فلسفہ زندگی بہت سادہ ہے کہ جو میرا رزق ہے وہ مجھے حلال طریقے سے بھی جائے گا میرا کام محض کوشش کرنا ھے میں کوئی ایسا ناجائز کام نہیں کروں گا جس پر میرا ضمیر مجھے ملامت کرے ۔یوں  سکون اور وقار  ان کے بشرے سے ٹپکتا ھے ۔

تو حاصل کلام یہ ھے کہ زندگی کی جدوجہد میں کہیں نہ کہیں ایک لکیر لگانا پڑتی ھے جہاں پہ جائز ضروریات کی حد ختم ہوتی ہے اور ہوس شروع ہوتی ھے ۔ اب انسان کی مرضی ہے کہ لکیر کے اس طرف رہنا ھے یا دوسری طرف جانا ہے ۔

یہ سطور لکھتے ہوئے مجھے یہ خیال بھی آرہا ھے کہ انسانوں کی ایک قسم ایسی بھی ہوتی ہے جن کا مسئلہ روپے پیسے کی بجائے کچھ اور قسم کا ہوتا ھے اور وہ جب سونے لیٹتے ہیں تو ان کے اندر سے آواز آنا شروع ہو جاتی ہے

نیندراں نئیں اوندیاں وے تیرے باہجوں نیندراں نئیں آوندیاں

Facebook Comments

 
  1. علی

    18/03/2014 at 3:42 AM

    ہائے ہائے قناعت پسندی بھی اللہ کی نعمت ہے جو ہمارے ہاں کم کم لوگوں میں پائی جاتی ہے

     
  2. جوانی پِٹّا

    18/03/2014 at 10:57 AM

    سر جی۔
    زندگی کے سفر میں تقابل کیے بغیر چلتے رھنا ناممکن ہے، کیونکہ یہی پریشان کردینے والا تقابل ہی ترقی اور بہتری کا باعث ھوتا ہے۔
    چونکہ “پیشے” کی وجہ سے آپ کی طرح میرا واسطہ بھی ان “بیوپاریوں” سے پڑتا رہا ہے، میرا اس بارے تجربہ ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی سطح پر خودغرض اور کرپٹ ھوتا ہی ہے۔ یہ سب سکون کی نیند سوتے ہیں۔ لیکن آپ اور مجھ جیسے “غرباء” کو زندگی کی معاشی ناکامیوں کے احساس ندامت سے بچانے کے لیے جھوٹا دلاسہ دیتے ہیں کہ ہم خوشحال ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں نیند نہیں آتی۔ یہ کتنے سکون کی نیند سوتے ہیں، کبھی ان کے زیرسایہ کام کرنے والوں‌سے پوچھیں۔
    جو “مذھبی”حلیے اور رویے والے “تجار” ہیں، یہ صرف آپ کو بتاتے ہیں کہ ہم حلال کماتے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر نے اپنی اپنی حلال کی تعریف بنا رکھی ہے۔ جو کہ اکثر الاسٹک ھوتی ہے۔ جدھر ان کا داؤ لگتا ہے، یہ کاٹ ڈالتے ہیں۔ فرق صرف یہ کہ ہر سال کہ ہر سال رمضان کے مہینے میں مدینے کی ٹھنڈی ھوائیں ان کی اگلے گیارہ مہینوں کے لیے ٹیوننگ کردیتی ہیں۔

    اس “زندگی میں‌سکون ھونا چاھیئے، اتنی دولت کیا کرنی ہے” کے مغالطے میں‌آنے سے ہمیشہ پرھیز کریں۔ اس کلیے پر عمل کرنے سے عموما آپ کے زیر سایہ لوگ ٹینشن میں‌رھتے ہیں اور نتیجتا آپ کا سکون بھی غارت ھو جاتا ہے۔

    یہ “زندگی میں صرف سکون، دولت کی کرنی اے” کے کلیے پر عمل کر کے سکون والی زندگی صرف نواب زادے گزارتے ہیں جو جدی پشتی دولت پر زندہ رہتے ہیں۔ اگر آپ کے پلے بھی ڈھیروں دولت ہے، تو بسم اللہ، شام سات بجے ہی سو جایا کریں۔ ورنہ اپنے آس پاس کے بیوپاریوں کی خودترسی پر مبنی نصیحتوں کو نظر انداز کرکے اپنی اور آل اولاد کی زندگی کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کرتے رھیں۔

     
  3. محمد ریاض شاہد

    19/03/2014 at 12:59 AM

    محترم جوانی پٹا صاحب
    میرا خیال ہے کہ آپ کے اٹھائے گئے نکات کے متعلق میں پوسٹ میں اظہار خیال کر چکا ہوں ۔ جہاں تک مکے مدینے جانے کی تعلق ھے تو اس بات سے کیا فرق پڑتا ھے کہ قاتل قتل کرنے کے بعد شراب کے نشے میں‌ڈوب کر احساس جرم کو دباتا ھے ، چرس کے سُوٹے لگاتا ھے ہے یا کسی کی آغوش میں‌جا گرتا ھے ، جرم کا ارتکاب انسان کے اندر احساس جرم پیدا کیئے بغیر رہ نہیں سکتا یہ نفسیات کا مانا ہوا اصول ھے ۔

     
  4. محمد اسلم فہیم

    19/03/2014 at 5:23 PM

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وصلعم نے ارشاد فرمایا
    ہوس کی آگ کو تو قبر کی مٹی ہی ختم کرسکتی ہے
    (اوکما قال علیہ السلام)

     
  5. Sarwat AJ

    19/03/2014 at 11:23 PM

    زبردست تشریح کی
    ایسے لوگ اپنے چہرے سے بآسانی پہچانے جاتے ہیں ۔ اول تو مسکراتے نہیں اگر مسکراتے بھی ہیں تو ان کی آنکھیں نہیں مسکراتیں
    بلاشبہ دل کا سکون ہی اصل کامیابی ہے۔ اِلا من اتٰی اللہ بقلبِِ سلیم
    دل کی پرسکون کیفیت ہی اصل فلاح ہے۔
    دعائیں

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی