RSS
 

غصے کی نئی فصل

1,547 views --بار دیکھا گیا

01 Mar 2014

خدا بھلا کرے ضیا محی الدین  کا جنہوں نے اپنی آواز میں  ، مسحور کن لہجے اور تلفظ کے ساتھ اردو ادب کے چند ادبی شہ پارے ریکارڈ کرا کے عوام تک پہنچائے جن سے عوام میں ان ادیبوں کا بھی تعارف ہوا جو لائبریری کی کتابوں کے اندر عرصے سے بند مرجھا رہے تھے مثلا محمد علی رودولوی کا ہما خانم کے نام خط اور اسد محمد خان تمغہ امتیاز  کا افسانہ باسودے کی مریم ۔ یوں تو محض باسودے کی مریم اور شہر کوفے کا ایک آدمی جیسے دو افسانے ہی اسد محمد خان  کے ادبی قدو قامت کو نمایاں رکھنے اور آخرت میں ان کی بخشش کے لیئے کافی ہوں گے لیکن غصے کی نئی فصل کا افسانہ (یا کہانی جو بھی اسے کہ لیں ) بھی خاصے کی چیز ھے ۔ یوں تو یہ کتاب 1997 میں چھپی تھی لیکن میری نظر اس پر دو ماہ قبل لاہور میں ریڈنگز نامی کتب فروش کی دکان پر پڑی تھی ۔ چکنے کاغذ پر چھپی  شوخ انگریزی کتب اور ناولوں  کے ہجوم میں گھری چند اردو کتب کے ساتھ سکڑی سہمی  ہوئی شرمندہ سی یہ کتاب اپنے عنوان اور اسد محمد خان کے نام کی وجہ سے دل کو بھائی   اور فورا خرید لی ۔Ghusay-Ki-Nai-Fasal

اسد محمد خان کی پیدائش پر یوں تو ان کے دادا نے اپنی ذاتی ڈائری یہ فقرہ لکھا تھا “ساعتِ نحس میں تولّد ہوا ، اللہ پاک اپنا کرم فرمائے ”  لیکن نحوست اگر ادب میں ایسی چاشنی بھرتی ہے تو ایسی نحو ست ہر ادیب چاہے گا ۔ اسد کے ہاں اچھوتا خیال ایک نئی ندرت کے ساتھ پوری دیانتدارانہ انداز میں بیان ہوتا ھے اور وہ اسے بیان کرنے سے کبھی جھجھکے نہیں اور نہ شرمائے ہیں  ۔ زیادہ تر تاریخی داستان کے انداز میں بیان کردہ  معاشرتی سچائیاں  اور یہی دیانت دارانہ انداز ان کے قارئین کو دل کو چھو لیتا ھے۔ کتاب کا ٹائٹل بھی کسی ادب فہم مصور کے موئے قلم کا  نتیجہ ہے ۔ سرخ رنگ کا اشتعال اور انسانوں کی آگ کی ماند بھڑکتی فصل جس پر بھتنے نما سائے لہرا رہے ہیں۔

یوں تو زیر تبصرہ مجموعے میں چودہ کہانیاں شامل ہیں جن میں ، ایک بے خوف آدمی کے بارے میں ، سے لون ، سرکس کی سادہ سی کہانی ، وقائع نگار ، دیوان جی ، سارنگ اور ریڈیو والے نواب صاحب وغیرہ  شامل ہیں لیکن غصے کی نئی فصل ان سب پر چھائی ہوئی ھے ۔ اور مجموعے میں دوسرے نمبر پر یہ کہانی پڑھ کر باقی کہانیاں قدرے کم متاثر کُن محسوس ہوتی ہیں  ۔

ایک ادبی شہ پارے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ھے کہ یہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو جاتا ھے ۔ اسے کسی بھی زمانے میں اور دنیا کے کسی بھی گوشے میں پڑھیں اس کی قوت میں فرق نہیں آتا ۔ اسد کی چنیدہ کہانیاں اور افسانے انہیں کافکا اور بورخیس کے برابر لا کھڑا کرتے ہیں لیکن اسد کے ہاں اپنے معاشرے ، مٹی اور مذہب کی جو محبت گندھی ہوئی ہے وہ انہیں ان سے بھی ممتاز کرتی ہے ۔ یہی بات ہے کہ 1997 میں چھپی یہ کہانی ابھی بھی تازہ محسوس ہوتی ہے ۔

“کہانی کا مرکزی کردار حافظ شکراللہ صاحب علم اور کم گو آدمی ہے جسے تفصیلات سے الجھن ہوتی ہے اور اپنے غصے کی وجہ سے حافظ گینڈا کے نام سے مشہور ہے اور  اپنے منہ پر گینڈا کہنے والوں کو زدوکوب کرنے سے گریز نہیں کرتا ۔ دوسرے مذہبوں مسلکوں سے خندہ پیشانی سے پیش آتا ھے ۔ کوہ سیلمان کے دامن میں دریائے گومل کے کنارے آباد گاوں کے حافظ گینڈے کو یہ شوق چُراتا ھے کہ کیوں نہ ہند کے بادشاہ وقت شیر شاہ سوری کے حضور کوئی نادر تحفہ پیش کیا جائے کہ آخر اس کے اجدد یہیں کے رہنے والے تھے ۔ اپنی آنکھوں سے سلطان کو دیکھنے کی چاہ میں حافظ دلی کی جانب چل پڑتا ھے اور اپنے گاوں کے قریب ٹیلے سے جہاں کبھی سوریوں کا حجرہ ہوا کرتا تھا  کچھ مٹی ایک ریشمی جزدان میں بھر کے بادشاہ کے لیئے بطور تحفہ ساتھ لے لیتا ھے ۔  دلی پہنچ کر وہ ایک سرائے میں ٹھہر جاتا ھے اور وقت گذارنے کے لیئے ایک قریبی کتب خانے میں دن کے وقت چلا جایا کرتا ھے جہاں اس کی ملاقات ایک دوسرے اجنبی سے ہو جاتی ہے جو اسی کی طرح مسافر تھا ۔

سرائے میں رات کو سوتے وقت حافظ کی آنکھ اچانک ایک شور سے کھل جاتی ہے اور وہ شور کے منبع کا تعاقب کرتا ہوا سرائے کی چھت پر چلا جاتا ہے اور اسے تعجب ہوتا ہے کہ سرائے کے سب ملازم اور مالکن وغیرہ ایک حلقہ بنا کر عجیب و غریب غیض و غضب سے پُر شور  آوازیں نکال ہیں ۔ وہ حافظ کو دیکھ کر اعتراض کرتے ہیں کہ اس حلقے میں ہتھیاروں کا داخلہ منع ہے اور ہتھیار چھوڑ کر وہ بھی اس حلقے میں شامل ہو سکتا ھے ۔ حافظ غصے میں ہاتھ چھڑا کر واپس اپنے کمرے میں چلا آتا ھے ۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ دوبارہ باہر نکلتا ھے تو ان  سب لوگوں کو چھت سے واپس آ کر اپنے اپنے معمول کے کاموں میں مصروف پاتا ھے ۔ وہ تمام اسے دیکھ کر مسکراتے ہیں اور خوش خلقی سے اس کی خدمت کرنے کا پوچھتے ہیں ۔

حافظ دوسرے دن کتب خانے میں جاتا ہے تو اس کا دوست مسافر اس کا رات کا احوال سن کر بتاتا ھے کہ یہ ایک فرقہ ہے جس کا نام مردوزی ھے اور جو شہروں میں پھل پھول رہا ھے – اس فرقے کا عقیدہ ہے کہ آدمی کا مزاج محبت، غصے اور نفرت سے مل کر تشکیل پاتا ھے لیکن انسان اپنی تمدنی مجبوریوں کی بنا پر اپنے غصے کا اظہار نہیں کر پاتا جس کی وجہ سے نفسیاتی فتور واقع ہوتا ھے اور نفرت مزاج کی سطح سے نیچے جا کر سڑنے لگتی ہے اور پھر یہ اندر ہی اندر پلتی رہتی  ہے لیکن آدمی یہ سمجھتا ھے کہ وہ غصے سے پاک ہو چکا ھے ۔  اس فرقے کا یہ ماننا ھے ہے کہ اگر غصے کو خارج کیا جائے تو ایک دن ایسا آئے گا کہ انسان واقعی غصے سے پاک ہو جائے گا ۔ اسی لیئے وہ رات کو حلقہ غیض و غضب بنا کر اپنا دن بھر کا غصہ نکال کر پھر سے شانت ہو جاتے ہیں اور یوں اپنی تعلیمات کی زبان میں “تکمیل ” تک پہنچتے ہیں ۔

حافظ گینڈا اس بات کو سن کر وہیں کتب خانے میں ہی ، دربار میں  اپنے ایک جاننے والے وزیر کو غصہ  بھرا خط لکھتا ہے اور اور اپنے ساتھ لائی ہوئی مٹی کو کتب خانے کے باغ میں لگی ہوئی  ایک کیاری میں جزدان کو  الٹ کر خالی کر دیتا ھے ۔ اگلی صبح جب مسافر کی نظر کتب خانے کے باہر پھولوں پر پڑتی ہے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ھے کہ پچھلی صبح جن پھولوں کا رنگ برف کی طرح  سفید تھا اب وہ لال انگارہ سرخ ہو چکے ہیں ۔”

پہاڑوں  میں بسنے والے انسانوں کے اندر غصہ کیوں بھرا ہوتا ھے اور ایسی سرگرمیوں میں کیوں ملوث ہوتے ہیں جو مروجہ انسانی اقدار کے خلاف ہیں ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا شافی جواب نہیں ملتا ۔ چند روز قبل ایک عالم دین نے اسے ان کا  قبائلی کلچر  قرار دیا ۔ ان کے اس خیال کو  عوام الناس خصؤصا ان علاقوں  کے باسیوں نے سخت ناپسند کیا  اور اس کا ظہار پوسٹوں اور کالمز کی شکل میں کیا۔ لیکن یہ بھی تاریخی حقیت ہے کہ انسانی تاریخ میں سرد پہاڑی علاقوں کے رہنے والوں نے میدانی علاقوں کے رہنے والوں پر تاریخ  میں بار بار حملے کیئے ہیں اور وحشت کا وہ بازار گرم کیا کہ جس کی مثال نہیں ملتی مثلا انگریزی زبان کا لفظ وینڈل ازم ، ونڈال قبیلے کی فرانس اور سپین پر  تباہی کا بازار گرم کرنے پر انگریزی زبان میں آیا ، وینڈل ازم کا مطلب ھے بے مقصد تباہی ۔ چنگیز خان ، ہلاکو خان ، ہن اور وسی گاتھ وغیرہ محض چند مثالیں ہیں جن کے طریق کار سے آج ہم بخوبی آگاہ ہیں ۔

ایک ماہر نفسیات سے اس سلسلے میں بات ہو رہی تھی کہ آخر اس غصے کی وجہ کیا ہے تو ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ پہاڑی علاقوں کی دشواری اور موسم کی حد سے زیادہ سختی رزق کے حصول کو بہت مشکل بنا دیتی ھے اور وہاں وہی زندہ رہتا ھے جو اسے چھین کر کھا سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ جن ادیان کا منبع پہاڑی علاقے ہیں وہ زیادہ متشدد ہیں اور جو مذہب میدانی علاقوں سے اٹھے وہ صلح ، امن اور آشتی کی تعلیمات لیئے ہوئے ہیں مثلا بدھ مت ۔

خیر اس نقطہ نظر سے اختلاف ہو سکتا ھے لیکن یہ بات بہرحال حقیت ہے اینگر مینجمنٹ بہت ضروری ھے اور اسلامی تعلیمات میں اسے حرام تک قرار دیا گیا ہے ایسے ہی جیسے کچھ کھانے والی چیزیں حرام ہیں ۔ ہمارے ایک دوست کے چچا کچھ سال پہلے ایس پی تھے ۔ آدمی دیانت دار تھے اور اوپر سے رانگڑ بھی چنانچہ کسی جگہ بھی انہیں ٹک کر بیٹھنا نصیب نہ ہوتا تھا ہر پانچ چھ ماہ بعد پوسٹنگ پر بوریا بستر گول کرنا پڑتا ۔ ہمارے دوست سنے ایک صاحب تصوف کے سامنے چچا کا نام لیا تو وہ چونک پڑے ۔ یہ صاحب نام سن کر نفسیاتی تجزیہ کرنے کی صلاحیت کا دعوی کرتے تھے۔  مسکراتے ہوئے کہنے لگے اپنے چچا سے کہو کہ تنہائی میں خوب گالیاں دیا کرے ۔ دوست نے حیرت سے پوچھا کہ کیوں ؟ انہوں نے کہا کہ اس کے اندر اس قدر غصہ بھرا ہے کہ اگر وہ نہیں نکلے گا تو کسی دن ہارٹ اٹیک سے مر جائے گا اور اس کے بعد اللہ کے چند رحمانی نام چچا کے لیئے بطور وظیفہ تجویز کیئے کہ ان سے شخصیت میں اعتدال آ جائے گا ۔

آج ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں انسانوں کے اندر غصہ بھرا ہوا ھے ، سڑک پر،  دفاتر میں ، بازاروں میں  ،تقریبات میں ، سوشل میڈیا پر منفی جذبوں کا اظہار اس قدر ہوتا ھے کہ ساری فضا دھواں دھواں محسوس ہوتی ہے ۔ کیا ہمارے ہاں بھی خواص و عوام کے لئے مغربی ملکوں کی طرح  اینگر مینجمنٹ کے کورسز متعارف کروانے کی ضرورت ھے یا اس کے لیئے کورسز سے زیادہ مذہب کا سہارا درکار ہو گ یا کچھ اور ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انگریزی زبان میں اس کہانی کا ترجمہ یہاں اس لنک پر پڑھا جا سکتا ھے جو پی ڈی ایف فارمیٹ میں ھے

Facebook Comments

 

Tags:

  1. راجہ اکرام

    01/03/2014 at 2:36 AM

    بہت خوب
    ایک کتاب کے تعارف کے ساتھ ساتھ ایک اہم مسئلہ کے بارے میں فکری غذا بھی فراہم کی۔
    یہ واقعی درست ہے کہ زمین اور علاقہ اپنی تاثیر رکھتا ہے۔ زمین یا مٹی کی سختی کا اثر عموما انسان کی فطرت اور رویے پر بھی پڑتا ہے۔ اس کا تجزیہ خود پاکستان کے مختلف علاقوں کے افراد کے مختلف رویوں کا جائزہ کے کر بھی کیا جا سکتا ہے۔

     
  2. یاسر خوامخواہ جاپانی

    01/03/2014 at 3:59 AM

    بہت اعلی جناب،

     
  3. صفی الدین اعوان

    01/03/2014 at 8:40 AM

    مزہ آگیا پڑھ کر زبردست۔۔

     
  4. Sarwat AJ

    01/03/2014 at 1:01 PM

    بہت خوب کتاب کا تجزیہ پیش کیا اور جہاں تک زمینی خدوخال اور مزاج کی بات ہے تو ایک ابتدائی سطح تک یہ بات بالکل درست ہے لیکن تھوڑا تحقیق اور گہرائی میں مطالعہ کریں تو وہ اقوام بھی حسد و حقد سے لبریز ہیں جو ٹھنڈی اور حسین جگہوں پہ رہتی ہیں۔
    یہ افراد اور اقوام کے انفرادی اور اجتماعی روئیے کا معاملہ بھی ہے، جس میں معاشرتی اور معاشی عوامل بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
    اور نہ جانے کیوں . . . .ہمارے ہاں کے سارے ہی عوامل عدم تحمل اور برداشت کی کمی کو جنم دے رہے ہیں۔ اللہ جانے کیا حل ہوگا۔

     
  5. محمودالحق

    03/03/2014 at 10:19 AM

    بہت خوب جناب موضوع اہم ہونے کے ساتھ ساتھ مسئلہ بھی زیادہ گھمبیر ہے عدم برداشت ، بے سکونی، عدم مساوات اور ان جیسے کئی عوامل نے مل کر عام آدمی کو غصہ میں ڈبو رکھا ہے۔ اس سے نجات کا بہترین حل مذہب ہی ہے۔ میں شہری اور میدانی علاقے کا باسی ہوں مگر غصہ پہاڑی فطرت پر رہتا رہا ہے۔ اس پر قابو کا طریقہ مذہب سے پایا ہے۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ہدایت کے ساتھ ساتھ طریقہ کار بھی وضع کرتا ہے تاکہ دنیا اور آخرت میں نقصان کی بجائے نفع کے حقدار ہوں۔

     
  6. محمد ریاض شاہد

    06/03/2014 at 12:24 AM

    جناب راجہ اکرام ، یاسر ، صفی الدین اعوان ، ثروت اے جے اور محمود الحق صاحب
    آپ سب کا بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی