RSS
 

دوسری شادی کا مسئلہ

5,269 views --بار دیکھا گیا

11 Mar 2014

ایسے وقت میں جبکہ عوام کی توجہ صوبہ  سندھ کے علاقے  تھر میں برپا قحط اور بیماریوں  کے نتیجے میں اموات اور حکومتی مشینری کی نااہلی کی طرف مبذول ھے اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے شہریوں کو درپیش اہم مسائل کے شرعی حل کی تلاش میں غلطاں  ھے ۔ فکر کے عمیق سمندر میں سے غوطہ لگانے کے بعد جو گوہر مراد کونسل  کے مقدس دماغوں سے برآمد ہوا ھے وہ دوسری شادی سے متعلق ھے ۔ کونسل کے چیئر  مین  مولانا شیرانی اور دوسرے ممبران  متفقہ طور پر   پاکستان کے مسلم  عائلی قوانین 1961ء کی شق نمبر 6   کو غیر شرعی قرار  دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دوسری شادی کیلئے شوہر کو پہلی بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں” بلکہ خاوند کو دونوں بیویوں کے درمیان عدل کرنے کا کہا گیا ہے ۔

مولانا محمد خان شیرانی   درس نظامی میں   کوئٹہ اور بنوں کے مدرسوں سے درجہ فضیلت   اور منجھے ہوئے سیاست دان ہونے کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ بھی کر چکے ہیں ۔ بلوچستان کے علاقے ژوب سے تعلق رکھتے ہیں اور سیاسی طور پر جے یو آئی (ایف ) سے متعلق ہیں ۔ انیس سو اٹھاسی سے قومی اسمبلی کے رکن ہونے کے علاوہ دفاعی پیداوار ، مذہب ، تعلیم اور مملکت اور سرحدی امور کی کمیٹیوں وغیرہ کے ممبر رہے ہیں ۔

مولانا شیرانی

مولانا شیرانی

ویسے تو کہاں مجھ جیسا  قانون اور فقہ  سے نابلد ہیچمدان اور کہاں تجربہ کار  چیئرمین اور کونسل ممبران جیسے “متبحر عالم” کہ اس مسئلے پر اظہار کروں لیکن ایک عام پاکستانی ہونے کے ناطے جو خیالات و سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں ان کا اظہار ضروری ہے ۔
مسلم عائلی قوانین کا نفاذ  آرڈننس  نمبر 8 کے ذریعے دو مارچ 1961 کو لاگو کیا گیا ۔ اس وقت  چونکہ کونسل کا فیصلہ مسلم عائلی قوانین  1961 کی شق چھ کو حذف کرنے کا ہے جو تعدد ازدواج سے متعلق ہے جس میں کسی شخص کو دوسری شادی کرنے کے لیئے پہلی بیوی سے تحریری اجازت لینے کا پابند کیا گیا ھے  اس لیئے صرف اسی شق کی ذیلی شقوں کا خلاصہ  ذیل میں نقل کیا جاتا ھے ۔
تعدد ازدواج
1 ۔ کوئی شخص جو پہلے سے شادی شدہ ھے مصالحتی کونسل کے سامنے تحریری اجازت پیش کیئے بغیر  اور کونسل کی تحریری اجازت کے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتا ۔
2 ۔  سب سیکشن ا کے تحت اجازت کے لیئے  تحریری طور پر  بمعہ فیس مدعی کونسل کے سامنے  تحریری طور پر دوسری شادی کی ضروری  وجوہات بیان کرے گا  اور پہلی بیوی کا تحریری اجازت نامہ بھی پیش کرے گا ۔
3۔  مدعی کی درخواست وصول ہونے پر چیئر مین  اس کی پہلی بیوی یا بیویوں ہر ایک کو اپنا وکیل(نمائندہ) مقرر کرنے کو کہے گا  اور کونسل کے اس بات پر مطمئن ہونے پر کہ شادی کی وجوہات جائز ہیں ، مدعی کو شادی کی اجازت دے دے گی ۔
4 ۔ کونسل اپنے تحریری فیصلے میں فیصلہ دینے کے حق میں دلائل تحریر کرے گی اور اگر کسی بھی فریق کو فیصلے سے اختلاف ہو تو وہ کلکٹر کو دعوی دائر کرے گا ۔ کلکٹر کا فیصلہ اس معاملے میں حتمی سمجھا جائے گا جس کے خلاف اپیل کسی بھی عدالت میں قابل شنوائی نہیں ہو گی ۔
5 ۔  کوئی بھی شخص جو کونسل کی تحریری اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر عدالت سے سزا پائے گا تو وہ
     ا ۔ پہلی بیوی یا بیویوں کے جہیز کی کل مالیت فورا یا قسطوں میں ادا کرے گا اور ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں محکمہ مال اس سے یہ رقم وصول کرے گا۔
     ب ۔ عدالت شوہر کو   زیادہ سے زیادہ ایک سال قید محض اور اور زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار تک جرمانے یا دونوں  کی سزا سنا سکتی ہے ۔
معزز ممبران کونسل نے بالتفصیل ان   دلائل کو مفاد عامہ کے لیئے عام نہیں کیا جس کی بنا پہ یہ فیصلہ کیا گیا ھے ورنہ شاید فقہ سے نابلد آدمی بھی اس کی وجوہات سمجھ سکتا ۔ آرڈننس پہ سب سے پہلا اعتراض تو یہ کیا جا سکتا ھے کہ یہ ایک آمر مطلق کی طرف سے من مانی تھی اور یہ کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون نہیں ۔ دوسرے اعتراض  میں بعض لوگ اسے ایوب خان کی ذاتی  خاندانی وجوہات کا شاخسانہ بھی قرار دیتے ہیں جس میں ان کے خاندان میں اس طرح کے ایک واقعہ ہونے  کے بعد شوہر کو  آرڈننس کے ذریعے قانونی طور پر پابند کیا گیا تھا لیکن اس واقعہ  کا کوئی تحریری ثبوت اس وقت موجود نہیں ۔
مسلمانوں کی تاریخ میں بالعموم اور بادشاہوں کے ہاں بالخصوص تعدد ازدواج ایک مسلمہ امر کے طور موجود رہا ہے جسے فقیہان اسلام کی اجازت حاصل رہی ہے ۔ لیکن اگر اس سے صرف نظر کرتے ہوئے قرآن میں دیکھا جائے تو  سورہ نساء میں دوسری شادی کا ذکر ہے ۔اس سورہ  کی  دوسری آیت یتیموں کے مال سے متعلق ھے
“یتیموں کے مال اُن کو واپس دو ، اچھے مال کو برے مال سے نہ بدل لو، اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ، یہ بہت بڑا گناہ ہے” 4/2۔
تیسری آیت یتیموں سے بے انصافی اور تعدد ازدواج سے متعلق ھے
“اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو  لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو  یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین صواب ہے”۔ 4/3
ان آیات کو ملا کر پڑھنے سے ایک بات تو واضح ہے کہ تعدد ازدواج کی اجازت مشروط ہے  اور وہ شرط یہ ھے کہ اگر تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے ۔
مسلمانوں کے مدینہ میں ابتدائی دور میں کافی جنگیں ہوئیں جن میں مسلمان شہید ہوئے ۔ ان کے شہید ہونے سے یا اپنے کافر خاوندوں کو چھوڑ کر  آنے والی عورتیں ،  یتیم بچے اور ان کی مائیں کافی تعداد مدینہ چلی آئیں جس سے ایک سماجی مسئلہ پیدا ہو گیا کہ ان یتیموں کا ڈسپوزل کیا کیا جائے ؟۔اگر یہ سوال محض خوردو نوش کا ہوتا تو حل سوچا جا سکتا تھا لیکن اصل سوال ان یتیم لڑکیوں اور بیواوں کا تھا جن کی شادی مسلمانوں سے باہر نہیں ہو سکتی تھی ۔ یہ وہ ہنگامی حالات تھے جن سے  دوسری شادی کی  رہ نمائی ملی ۔ یعنی کبھی بھی سٹیٹ میں ایسے حالات پیدا ہو جائیں تو اس کا مناسب  طریقہ یہی ہے کہ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کر لیں تاکہ  معاشرے کو ان خرابیوں سے بچایا جا سکے  جو ان بچیوں  کو بلا سرپرست چھوڑنے سے نمودار ہو سکتی ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی فرما دیا گیا  کہ اگر تم عدل نہیں کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو ۔
مذکورہ بالا آرڈننس میں تعدد ازدواج کے علاوہ ایک ہی سانس میں تین طلاق دینے پر پابندی عائد کی گئی ۔ اس سے پہلے شوہر خفیہ طور پر دوسری  شادی کر لیتے تھے جس سے پہلی بیویاں اور ان کے بچے نان و نفقہ کے محتاج ہو جاتے تھے کیونکہ میاں کی توجہ دوسری بیوی کی جانب زیادہ ہوتی تھی ۔ نتیجتا پہلی بیوی یا تو گھر میں میاں کی راہ تکتی بیٹھی رہتی یا پھر  لڑ جھگڑ کر ایک ہی سانس میں  میاں سے تین طلاق لے کر اپنے والدین کےہاں آجاتی تھی  لیکن اس آرڈننس کے آنے سے دوسری شادی کے بے لگام رحجان پر بریک لگ گیا ۔
میری اپنی ایک دور پار کی عزیزہ کے میاں نے کوئی چھ سات سال پہلے اپنی  پہلی بیوی کو بتائے بغیر دوسری شادی کر لی حالانکہ لڑکے کی والدہ اور  پہلی بیوی کی  والدہ آپس میں سگی بہنیں تھیں۔ بات کچھ عرصہ تو خفیہ رہی لیکن پھر کھل گئی تو میاں نے اعتراف کیا کہ ہاں دوسری شادی کی ہوئی ھے ۔ پہلی بیوی نے بھی اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا ۔ لیکن میاں کا سلوک پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ بے اعتنائی کا ہو گیا اور بعد میں بیوی پر آئے دن معمولی باتوں پر جسمانی تشدد اور طلاق کی دھمکیوں تک بات پہنچ گئی ۔ ایک دن لڑائی کے دوران میاں نے غصے میں ایک طلاق دے دی ۔ بعد میں رشتہ داروں کے بیچ بچاو کرا دیا ۔ کچھ عرصہ بعد پھر لڑائی میں دوسری طلاق دے دی اور پھر اسی طرح تیسری بھی واقع ہو گئی ۔ بیوی نے  روتے پیٹتے بچوں کو ساتھ  لیا اور اپنے والدین کے ہاں پہنچ گئی کہ تین طلاق واقع ہو گئیں ہیں ۔ میاں سے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں نے تیسری طلاق تو نہیں دی ۔ علمائے کرام سے پوچھا تو انہوں نے تحریری فتوی دیا کہ تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی ہے ۔ میاں صاحب اپنے موقف پر قائم رہے انہیں کسی نے بتا دیا تھا کہ قانونی طور پر اب وہ اپنے بچوں اور بیوی کو نان و نفقہ دینے کے پابند ہیں ۔ آخر معاملہ عدالت میں گیا تو عدالت نے میاں کو نان و نفقہ دینے کا حکم دیا ۔ میاں نے کہا کہ میری تو اتنی آمدنی ہی نہیں کہ یہ خرچ میں اٹھا سکوں تو عدالت نے کہا کہ یہ بات آپ کی سمجھ میں پہلے کیوں نہیں آئی ؟
 میاں دل کے مریض بھی تھے سنا ہے کہ عدالت کے احاطے میں انہیں دل کے مقام پر شدید درد اٹھا اور ہسپتال لے جائے گے ۔ کچھ عرصہ بعد  ان خاتون سے بھی اللہ کے ایک نیک بندے نے شادی کر لی اور اب وہ خوش و خرم ہیں ۔
اگر آپ ایسی خواتین کی حالت زار کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو کبھی فیملی کورٹس کا چکر لگا کر دیکھ لیں کہ کیسے پردہ دار خواتین اپنے شوہروں سے خلع حاصل کرنے ، طلاق اور نان و نفقہ کے مسائل کو حل کروانے میں نہ صرف  سالوں ذلیل خوار ہوتی رہتی ہیں بلکہ مالی طور پر بھی بے جا زیر بار ہوتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آئیڈیالوجی کونسل ہمارے ملک کی خواتین کے کمزور طبقے کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے ان کے حق میں قوانین بناتی  لیکن انہیں اب مزید قانونی حقوق سے محروم ہونا پڑے گا ۔ اگر دوسری شادی کا بغیر پہلی بیوی کی تحریری اجازت کے مان بھی لیا جائے تو اس کے لیئے معاشرے میں صالح افراد کی اکثریت کا ہونا ضروی ہونا چاہئیے جو اپنے زیر کفالت افراد پر زیادتی کا رحجان نہ رکھتے ہوں بلکہ عدل کی ڈور تھامنا زیادہ مناسب خیال کرتے ہوں ۔ پہلی ترجیح  معاشرے کی تعلیم ، تربیت اور اصلاح کا کام ہونا چاہئیے اور میرے خیال اس وقت اس مسئلے کو چھیڑنا سیاسی طور پر فائدہ حاصل کرنے کے مترادف ھے ۔

Facebook Comments

 
  1. مصطفیٰ ملک

    11/03/2014 at 12:56 AM

    اب اگر اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی “ایسے ” لوگوں کے “حصہ” میں آئے گی تو فیصلہ بھی ایسے ہیں ہوں گے ، حکمران آدھے تیتر آدھے بٹیر کا نمونہ بنے ہوئے ہیں ، ایک طرف اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے یوم خواتین مناتے ہیں اور 33 فیصد نمائند گی دینے کے دعوے دار بنے پھرتے ہیں دوسری طرف “دودھ” کی رکھوالی پر ایسے بلے بٹھائے جارہے ہیں

     
  2. عاطف بٹ

    11/03/2014 at 1:03 AM

    بہت اچھی تحریر ہے اور ایک اہم مسئلے کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ تعلیم، تربیت اور اصلاح واقعی بنیادی نوعیت کے مسائل ہیں اور ان پر زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ یہاں صرف ایک وضاحت کرنا چاہوں گا کہ تعددِ ازواج کے ذیل میں علماء و فقہاء کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ ہماری عائلی قوانین میں بہت سی خرابیاں موجود ہیں جنہیں درست کیا جانا چاہئے لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کو انسانی زندگی سے جڑے ان مسائل پر بھی توجہ دینی چاہئے جو تعددِ ازواج کے مسئلے سے بھی زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

     
  3. مانی

    11/03/2014 at 1:09 AM

    حضرت غامدی کی رائے بھی مولانا شیرانی والی ہے

    http://www.al-mawrid.org/pages/questions_urdu_detail.php?qid=1207&cid=278

     
  4. منیر عباسی

    11/03/2014 at 1:54 AM

    ڈرتا ہوں کہ وہ بات نہ ہو جائے کہ چسکے والی پوسٹ پہ تبصرہ کرتا رہتا ہوں۔

    آپ کے پر فکر دلائل اپنی جگہ پر، مگر ہمارا معاشرہ اس وقت دو انتہاؤں میں منقسم ہے۔ ایک انتہا وہ ہے جو بقول فرید زکریا کے، ” مارکیٹ اکانومی” کے زیر اثر ہے۔ یہ وہی انتہا ہے، جو ہمیں موجودہ کئی قسم کے، اچھے یا بُرے ، عالمی قوانین کی پاسداری پر مجبور کرتی ہے۔

    اس وقت چونکہ طاقت ور تہذیب یا سوچ مغربی ہے، اس لئے ہر وہ بات جو کہ اس طاقت ور سوچ سے مطابقت نہیں رکھتی ، وہ عجیب لگتی ہے۔
    مغربی تہذیب میں ہی یک زوجگی کا زیادہ اثر رہا ہے اور شادی جیسے رشتے کو طاقت ور بنانے کے لئے انھوں نے ایسے سخت قوانین بنائے ہیں کہ اب لوگ شادی کرتے ہی نہیں۔ لِو اِ ن والی سچویشن ہے۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ جنسی آزادی اور ہمارے حساب سے بے راہ روی کی اُس معاشرے میں بہت سی اور بھی اہم وجہات ہوں گی، مگر شادی اور اس کے بعد طلاق کے نتیجے میں جتنا بوجھ مرد پر اُن کے قوانین میں ڈالا گیا ہے وہ ان لوگوں کو آزدی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے۔

    ہم جس فکر زندگی کو فالو کرتے ہیں وہ بڑی لچک دار قسم کی فکر ہے۔ یہ فکر ، جسے اسلام بھی کہا جاتا ہے زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہے۔ اگر آپ ایک گیر جانبدار زاوئے سے دیکھیں تو تعدد ازواج اتنی بُری بھی شے نہیں جتنا اس کو برا بنا دیا گیا ہے۔

    اگر تعدد ازواج بُری شے ہے تو دوسری طرف نکاح متعہ کے نام پر جو کھیل اکثر کھیلا جاتا ہے وہ بھی ایک عدد مِس یوز ہی ہے۔
    میں نے محسوس کیا کہ آپ نے بار بار عدل پر زور دیا کہ اگر عدل کر سکتے ہو تو دوسری شادی کرو۔ اور احکامات کا حوالہ بھی دیا، مگر عدل کا حکم تو صرف دوسری شادی کے معاملے میں نہیں دیا بلکہ بہت سے دوسرے معاملات بھی ایسے اپ کو مل جائیں گے جن میں ایمان والوں کو عدل کا حکم دیا گیا تھا۔ مثلا ایک حکم جو کہ اس وقت میرے ذہن میں آ رہا ہے وہ یہ تھا کہ کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر مجبور نہ کردے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو کہ وہ تقویٰ کے قریب تر ہے۔ یہ الفاظ قران کی ایک آیت کا ترجمہ سا ہیں۔ اہل علم حضرات کے ذہن میں آیت کے عربی الفاظ اور اس کا مقام آ گئے ہوں گے۔ اس وقت میں بوجوہ یہ مقام تلاش کر کے نہیں لکھ سکتا۔

    تو ، صاحب، جب ہم دوسرے مقامات پر عدل نہیں کرتے تو یہاں عدل پہ اتنا زور کیوں؟ صرف اس وجہ سے کہ عدل نہ ہو سکے گا تو آپ ایک جائز چیز کو ناجائز ٹھہرا دیں گےِ؟ کیا آپ کے خیال میں کسی کو نکیل دینے کے لئے ایسا قانون مددگار ثابت ہو سکے گا؟

    جی نہیں۔ جس مرد کی خواہش صرف ایک عورت سے پوری نہیں ہو گی، وہ اگر جائز راستہ نہ ملا تو ناجائز راستہ اختیار کرے گا۔ اور اس ناجائز راستے کے اختیار کرنے میں قباحتیں بہت ہیں، نقصانات بھی بہت ہیں۔

    بات گھوم پھر کر مارکیٹ اکانومی والی بات کی طرف آ جاتی ہے۔ دنیا کے حکمرانوں کا مزاج اس وقت تعدد ازواج کے خلاف ہے ، لہٰذا ہمارے دانش ور بھی ایسا سوچیں گے کہ اسی میں بھلائی ہے۔

    جہاں تک آپ نے بات کی اس فیصلے کی وقت کے لحاظ سے ناموزونیت کی، میں ایک حد تک آپ سے متفق ہو سکتا ہوں، بالکل اتفاق بہت مشکل ہے۔ تھر میں ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری اسلامی نظریاتی کونسل پر نہیں ہے ، اس کی ذمہ داری حکمرانوں پر ہے۔
    یہ کونسل اپنا کام کار رہی ہے اور محض بدقسمتی ہی ہے کہ اس کا فیصلہ ایسے وقت میں ایا جب ہمارے حکمرانوں کی نالائقیوں کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔

    ایک عربی مقولہ ہے کہ، اعمالُکُم عُمالُکُم
    تمھارے اعمال ہی تمھارے حکمران ہوتے ہیں/ ہوں گے۔

     
  5. انکل ٹام

    11/03/2014 at 2:24 AM

    اصل میں‌ عدل کی بھی تفصیل ہے کہ یہاں‌عدل سے مراد کیا ہے، عدل سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی حثیت کے مطابق دونوں کو برابر کے حقوق دے سکے، یعنی اگر اتنی حثیت ہے کہ الگ الگ گھر دے سکتا ہے تو الگ الگ گھر دے، اگر اتنی حثیت ہے کہ الگ الگ کمرہ دے سکتا ہے تو الگ الگ کمرہ دے۔ میں‌اکثر لوگوں‌سے سوال کرتا ہوں‌کہ عدل تو بچوں‌کے درمیان بھی کرنا ہوتا ہے تو کتنے لوگ ہیں‌جو کہتے ہیں‌کہ ہم ایک سے زیادہ بچہ پیدا نہیں‌کریں‌گے کیونکہ ہمیں‌خوف ہے کہ ہم انکے درمیان عدل نہیں‌کر سکیں‌گے ؟

    اسلام میں‌اس چیز کی کوئی قید نہیں‌ہے کہ صرف مخصوص حالات میں‌ہی دوسری شادی کی اجازت دی جائے، عام حالت میں‌بھی اجازت ہے اور اسلامی تاریخ ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں‌نے عام حالت میں‌بھی دوسری شادی کی ۔

    تیسری چیز ظاہری حالات اور اسباب ایک طرف مسلمان کا ایمان ہونا چاہئیے کہ رازق صرف اللہ کی ذات ہے ۔ بچے پیدا کرتے وقت بھی اور شادی کرتے وقت بھی ۔ وگرنہ ہمارے نبی صلیٰ‌اللہ علیہ وسلم کے عقد میں‌ کافی بیویاں تھیں‌لیکن وہ کوئی امیر کبیر شخص نہیں‌رہے اکثر گھروں میں‌فاقے بھی رہا ہے انکے ۔

    جہاں تک رہی دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کے ساتھ برا سلوک تو ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں‌سے بھی بھرا پڑا ہے جنکی ایک ہی بیوی ہوتی ہے اور وہ اسی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں‌کرتے اسکے حقوق ادا نہیں کرتے ۔ ایک ہی بیوی سے بچے ہوتے ہیں‌وہ ان بچوں کے حقوق ادا نہیں‌کرتے ۔

    اسلام میں‌نکاح کا مسئلہ بہت سادہ ہے اور کوئی کامپلیکیٹیڈ نہیں‌ہے، لوگوں نے اسکو بہت کامپلیکیٹیڈ بنا دیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں کا بال سفید کروا کر بھی گھر بیٹھے رہنے میں‌ایک یہ ہی وجہ شامل ہے کہ معاشرے میں دوسری شادیوں‌کا رواج نہیں‌ہے۔ لہذا بہت سی عورتیں‌طلاق کا سن کر مرگ جیسی اداسی میں مبتلا ہو جاتی ہیں، آپ پہلے کی اسلامی تاریخ میں اٹھا کر دیکھ لیں‌ کوئی ایک واقعہ ایسا نہیں‌ملے گا جہاں‌عورت طلاق سے اس وجہ سے خوف زدہ ہوئی ہو کہ مجھ سے پھر کوئی شادی نہیں‌کرے گا۔ بلکہ ایسے ایسے واقعات موجود ہیں کہ جلیل القدر صحابہ کو صحابیہ نے نکاح‌سے انکار کر دیا کیونکہ تعدد ازواج کی وجہ سے اس معاشرے کی عورتوں کو یہ خوف ہی نہیں تھا ۔

     
  6. ثروت ع ج

    11/03/2014 at 7:53 AM

    اچھا لکها، لیکن معاشرے میں ایسا سوچنے والے بہت کم ہیں-

     
  7. نورین تبسم

    11/03/2014 at 10:30 AM

    عورت جتنی کمزور دکھتی ہے اُتنی ہی طاقتور بھی ہے۔ ہرخانگی مسئلے کی جڑ گھر کے اندر بند کمرے سے نکلتی ہے۔ غلطی چاہے عورت کی ہو یا مرد کی لیکن اس کا احساس عورت کر لے تو بات اتنی نہیں بڑھتی۔ بچے ہونے کے بعد تو سراسر ذمہ داری عورت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کس طرح اپنا گھر بچانے کی جدودجہد کرتی ہے۔ گھر بچانے کے ہزار طریقے ہیں ایک طریقہ مرد کی جگہ پر جا کر اسکے ذہن سے سوچنے کا بھی ہے اور گھر بچانے کے لیے اپنی ذات اپنی انا کی قربانی دینا سب سے پہلا سبق ہے۔اور مرد کا دوسری شادی کرنا یا اس کی خواہش کرنا اور عورت کا اسے قبول بھی کر لینا اس قربانی کے سامنے کچھ بھی نہیں ۔

     
  8. افتخار اجمل بھوپال

    11/03/2014 at 2:17 PM

    جناب میں کوئی غلطی ہو جائے تو شفقت برتی جائے ۔ میرا پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ اس قوصل یا کونسل کو صرف ایک یہی خرابی قانون میں نظر آئی ہے ؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہمارا قانون کا پورا ڈھانچہ ہی غیر اسلامی ہے اور طریقہ کار اسلام دشمنی پر مبنی کہا جاسکتا ہے ۔ جہاں عدالت میں پیشہ ور گواہ وکیل مہیاء کرتے ہوں جہاں تفتیش کار اپنی جیب کے حساب سے مقدمہ تیار کرتے ہوں وہاں کس عدل کی بات کی جا سکتی ہے ؟
    دوسری بات یہ ہے کہ دوسری شادی ملک کے مسلمانوں میں سے زیادہ سے زیادہ 10 فیصد لوگوں کا مسئلہ ہو گا ۔ جن قوانین سے ملک کے 100 فیصد مسلمان متاءثر ہوتے ہیں اُسے کوئی نہیں چھیڑتا اور وہ ہے قانون شہادت اور اس کا شیطانی استعمال ۔
    جہاں تک مجھے یاد ہے عائلی قوانین کا نفاذعام مناظر میں نظر انے والی خواتین کے مطالبہ پر کیا گیا تھا جو غریب عورتوں کے حق میں قیمتی کپڑے پہن کر فائیو سٹار ہوٹلوں میں تقریریں کرتی ہیں اور اپنے گھروں کو واپس لوٹ کر اپنی ملازماؤں کو اُن کے حقوق دیانا تو بڑی بات اُن پر ظُلم کرتی ہیں
    باقی ڈاکٹر منیر عباسی صاحب تامے چاچا صاحب اور نورین تبسم صاحبہ نے بھی درست لکھا ہے

     
  9. بنیاد پرست

    11/03/2014 at 6:06 PM

    منیر عباسی صاحب اور انکل ٹام نے بہت اچھی وضاحت کی۔
    میرے خیال میں اسلامی نظریاتی کونسل کا کام ہی ان مسائل میں اسلام کے موقف کی وضاحت کرنا اور اجتہاد کرنا ہے اس لیے عائلی قوانین کیا کہتے ہیں یا اس فیصلے سے انکی مخالفت ہورہی ہے، یہ اہم نہیں۔ اہم اسلامی شریعت ہے اور دوسری شادی کی اجازت کے لیے اسلام نے اس کے لیے صرف وسعت و عدل کی شرط لگائی ہے، بیوی سے پوچھنے کی شرط کا قرآن و حدیث میں تذکرہ نہیں نا خیر القرون میں ایسی کوئی مثال موجود ہے۔ باقی حالات کی وجہ سے دوسری شادی کی اجازت کی جہاں تک بات ہے میرے خیال میں اس وقت حالات سب سے ذیادہ تقاضا اسکا کررہے ہیں کہ وسعت والے مرد دوسری شادی کریں۔ عاقل بالغ ہونے کی شرط کے علاوہ شادی کی ہر شرط کو ختم کرکےاسکو بالکل آسان بنا دیا جانا چاہیے اور دوسری شادی کی ذیادہ سے ذیادہ ترغیب دینی چاہیے، اسوقت بھی ہمارے معاشرے میں لڑکیاں لڑکوں سے ذیادہ ہیں اور میڈیا کے راستے جو بے حیائی کا طوفان آیا ہے اور شہوت جو جس لیول تک بڑھا دیا گیا ہے اس کے نقصانات سے بچنے کا یہی ایک واحد راستہ ہے، اسی سے تمام کنواری اور بیوہ عورتوں کی شادی ہوسکتی ہے۔
    عدل نہیں کر سکوں گے، عدل نہیں‌کرسکوں’ کے ڈرواے دے دے کردوسری شادی سے تو روک لیا گیا ہے لیکن زنا کے دروازوں کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہزاروں شادی شدہ لیکن غیر مطمئن جوانوں کو عدل نہ کرنے کے ‘بڑے’ گناہ سےتو بچا لیا گیا ہے لیکن وہ زنا کے ‘چھوٹے’ سے گناہ سے نہیں بچ سکے۔۔ ترغیب یہی ہے کہ دوسری شادی نہیں کرنی، بیوی سے اگر ضرورت پوری نہیں ہورہی تو گرل فرینڈز رکھ لو، طوائفوں کے ساتھ اپنی ضرورت پوری کر لو ، اس کے لیے کوئی عدل کی شرط بھی نہیں ہے نہ کوئی اور شرط ہے۔
    شریعت کی دی گئی لچک کے باوجود اگر ہم اسی طرح پہلی اور دوسری شادی کی خودساختہ سخت شرائط کی بحثوں میں الجھے رہے اور شادی کی ذمہ داریوں کو اتنا بڑھا کر پیش کیا جاتا رہا تو ایک وقت آئے گا شادی ایک مقدس فریضہ بن کر رہ جائے گی ، کوئی اس مقدس کام کے قریب بھی نہ پھٹکے۔ شادی کا نام سنتے ہی جوانوں کی نگاہیں احترام سے جھک جایا کریں گی کہ ہمارے بڑے یہ کام کیا کرتے تھے ہم تو اسکے اہل ہی نہیں ۔ ۔

     
  10. عامر خاکوانی

    11/03/2014 at 8:44 PM

    جہاں‌تک اس معاملے کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے ، میں اس بارے میں زیادہ نہیں‌جانتا، اندازہ یہی ہے کہ اصولی طور پر مولوی صاحب کی بات درست ہے، اگر غامدی صاحب بھی یہی رائے رکھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں رخصت بھی موجود نہیں، اگرچہ اس کے عملی تقاضے مختلف ہیں، بہت سی عملی مشکلات ہیں، جن کے بارے میں‌آپ نے نشاندہی کی۔ ہمیں‌اپنے سسٹم کو بہتر اور مضبوط کرنا ہوگا ورنہ قوانین کا یوں ہی مذاق اڑایا جاتا رہے گا۔ البتہ ایک اہم نقطہ یاد رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی آرا کی عملی طور پر کوئی حیثیت نہیں، یہ سپریم کورٹ کے کسی بنچ کا فیصلہ نہیں کہ آج سے اس کی قانونی حیثیت بن جائے گی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے بے شمار آرا ایسی ہیں، جو پارلیمنٹ کی توثیق کی محتاج پڑی ہیں، انہیں برسوں سے کسی نے لفٹ ہی نہیں کرائی۔ اس لئے پینک میں آنے اور پریشان ہونے کے بجائے ٹھنڈے دل ودماغ سے اس پر سوچنا اور بات کرنی ہوگی۔ یہ تو خیر حقیقت ہے کہ دس ہزار میں سے کوئی ایک خاتون ہی ایسی ہوگی جو دوسری شادی کی اجازت دے گی یا پھر اس کے لئے آمادہ ہوگی۔ ایسی چندخواتین کے قصے سنائے جاتے ہیں ،جنہوں‌نے اولاد نہ ہونے یا کسی اور وجہ سے اپنے خاوند کو نہ صرف اجازت دی بلکہ خود شادی کرائی۔ مجھے تو خیر ایسی سب باتیں قصے کہانیاں ہی لگتی ہیں، ہمارے مشاہدے میں توکوئی ایسی خاتون نہیں‌آئی۔ ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ عدل اور انصاف کے تقاضے بھی اگر پورے کر دئیے جائیں‌،یعنی اگر کوئی مرد جری ایسا کر بھی دے ، تب بھی کوئی عورت سوکن کو برداشت نہیں‌کرے گی۔ واضح رہے کہ میں پاک وہند کے معاشرے کو سامنے رکھ کر کہہ رہا ہوں۔ عرب معاشرے کا مجھے براہ راست تجربہ یا مشاہدہ حاصل نہیں، مگر کئی ذمہ دار دوست یہ کہتے اور بتلاتے ہیں‌کہ عرب عورت اس کو اتنا بڑا ایشو نہیں‌بناتی، وہاں کثرت ازدواج زندگی موت کا مسئلہ نہیں‌ہے۔ ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ خاوند حضرات اگرچہ دوسری شادی کا سن کر خوش ہوتے ہیں، مگر دو بیویوں کو برداشت کرنا آسان نہیں، جو اس کیفیت سے گزر رہے ہیں، وہی بتا سکتے ہیں، انسان کی پوری شخصیت نہ صرف تقسیم ہوجاتی ہے بلکہ مسلسل ایک کشمکش رہتی ہے، دونوں بیویوں اور ان کی اولادوں اور خاوند محترم میں۔

     
  11. حسیب احمد حسیب

    11/03/2014 at 9:14 PM

    مناسب تحریر ہے اور صاحب تحریر کا مقصود خواتین کے حقوق کے حوالے سے کچھ اہم امور کی جانب متوجہ کرنا ہے صاحب تحریر کا خلوص اپنی جگہ لیکن چند اہم چیزوں سے صرف نظر کر دینا کبھی بھی کسی مسلے کا پائیدار حل نہیں بن سکتا …..
    پاکستان کا قانون جو انڈین ایکٹ سے ماخوز ہے اور جسے اسلامی کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور اسلامی قانون دونوں میں جوہری فرق ہے اسلامی قانون براہ راست قرآن و سنت سے لیا گیا ہے اور پاکستانی قانون اسلامی قانون کی ایک من پسند تعبیر سے زیادہ کچھ نہیں ….

    اگر ہم اپنے موجود معاشرے کا مشاہدہ کریں تو صاحب قوت و ثروت حضرات دوسری شادی تو کجا بغیر نکاح کے بھی دوسری عورتوں میں مبتلاء ہوتے ہیں اور انھیں روکنے والا کوئی نہیں
    دوسری بات وہ لوگ جو دوسری شادی کی ٹھان لیں انکا ہاتھ کون روک سکتا ہے اس معاشرے میں عورت سے اپنی مرضی منوا لینا کچھ زیادہ مشکل نہیں جو لوگ بھی دوسری شادی سے رکتے ہیں یا تو مالی مسائل یا پھر خاندانی یا معاشرتی رسوم و رواج کی جکڑ بندیاں انکی راہ میں حائل ہوتی ہیں ………
    اس عمومی معاشرتی رویہ کی وجہ ہمارا ہندو کلچر سے متاثر ہونا اور انکے معاشرتی اثرات کا ہم پر ہونا ہے جو انکے ساتھ صدیوں رہنے کی وجہ سے ہم پر پڑے ہیں سب سے کم دوسری شادیاں اردو بولنے والے طبقے میں ہوتی ہیں جبکہ دوسرے طبقات میں یہ اتنا زیادہ بڑا مسلہ کبھی نہیں رہا ……
    پورے عالم اسلام کی تاریخ پر نگاہ ڈالیے دوسری شادی پر پابندی سے ہماری تاریخ یکسر نا واقف ہے
    یہاں بنیادی اعتراض اس قانون پر ہمیں یہ ہے کہ اوامر و نواہی کا اختیار شریعت کے پاس ہے اور جو پابندی شریعت نے نہیں لگائی کسی بھی ملکی عائلی قانون ساز ادارے کو اس بات کا کیا اختیار ہے کہ اس میں دخیل ہو
    ایک مثال تاریخ اسلامی سے پیش کرتا ہوں

    حضرت عمر فاروق رض کے دور خلافت میں بطور خلیفہ آپ نے ایک حکم صادر کیا کہ اپ شادیوں میں مہر زیادہ رکھنے پر پابندی ہوگی تاکہ نکاح میں آسانی پیدہ کی جا سکے
    انکی دلیل تھی
    … ”حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: دیکھو! عورتوں کے مہر زیادہ نہ بڑھایا کرو، کیونکہ اگر یہ دُنیا میں عزّت کا موجب اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقویٰ کی چیز ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ اس کے مستحق تھے۔ مجھے علم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواجِ مطہرات میں سے کسی سے بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر پر نکاح کیا ہو، یا اپنی صاحب زادیوں میں سے کسی کا نکاح اس سے زیادہ مہر پر کیا ہو۔“ (مشکوٰة شریف)

    اسوقت ایک خاتوں صحابیہ رض اعتراض وارد کیا کہ جس چیز پر الله کے رسول علیہ سلام نے پابندی نہیں لگائی اور خواتین کو زیادہ مہر طلب کرنے کا حق دیا ہے تو آپ اسے کیسے روک سکتے ہیں سو حضرت عمر رض کو اپنا یہ فیصلہ واپس لینا پڑا

    یہاں دوسری شادی کا وہ اختیار جو شریعت نے دیا ہے اسے کوئی بھی ملکی قانون کیسے روک سکتا ہے

    اب ملاحظہ کیا اسلام کی عدل کی شرط سو کوئی بھی یہ کیسے چیک کر سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنی ہونے والی بیوی سے عدل نہیں کرے گا کیا کوئی ایسا آلہ ایجاد ہو چکا ہے جو کسی کو قبل از وقت
    یہ بتا دے کہ یہ شخص عادل نہیں ہوگا
    لازمی بات ہے یہ چیز نا ممکنات میں سے ہے سو عدل کرنا لازم ہے لیکی اس بنیاد پر دوسری شادی پر ہی پابندی عائد کر دینا کہ یہ عدل نہیں کرے گا غیر منطقی اور خلاف عقل ہے کیونکہ ایسا کوئی قرینہ ہی موجود نہیں جو آپ کو یہ بتا سکے کہ فلاں شخص دوسری شادی کے بعد غیر منصف ہو جاوے گا
    اور پھر اگر عدل ہی شرط ٹھہرا تو ایک کثیر تعداد پہلی بیوی کے ساتھ بھی عدل نہیں کر پاتی تو کیا ان لوگوں پر سرے سے شادی پر ہی پابندی لگا دینی چاہئیے اور اگر ایسا ہو تو معاشرے پر جنسی آسودگی حاصل کرنے والے اس جائز میڈیم پر پابندی سے کون کون سے ناجائز راستے کھل جائینگے یہ کسی بھی صاحب نظر اور صاحب بصیرت کیلئے جان لینا مشکل نہیں
    سو جس علت کی بنیاد پر دوسری شادی پر پابندی ہے وہی علت پہلی شادی میں بھی کار فرما ہوتی ہے

    اب اسلام کا مزاج ملاحظہ کیجئے

    دُوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی رضامندی شرعاً شرط نہیں، لیکن دونوں بیویوں کے درمیان عدل و مساوات رکھنا ضروری ہے۔ چونکہ عورتوں کی طبیعت کمزور ہوتی ہے اور گھریلو جھگڑا فساد سے آدمی کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، اس لئے عافیت اسی میں ہے کہ دُوسری شادی حتی الوسع نہ کی جائے، اور اگر کی جائے تو دونوں کو الگ الگ مکان میں رکھے اور دونوں کے حقوق برابر ادا کرتا رہے، ایک طرف جھکاوٴ اور ترجیحی سلوک کا وبال بڑا ہی سخت ہے، حدیث شریف میں ہے کہ:

    ”جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان برابری نہ کرے تو وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ ساقط اور مفلوج ہوگا۔“ (مشکوٰة شریف ص:۲۷۹)

    الله کے رسول علیہ سلام اصحاب رض اور سلف میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا عمومی رواج تھا ان میں ہر طرح کی مالی حالت اور معاشرتی طبقے کے لوگ موجود تھے امیر غریب تمام اور ایک سے زیادہ شادیوں میں کبھی عدل کی بنیاد پر پہلی بیوی سے اجازت کی شق عائد نہیں کی گئی

    ایک عورت قانون عدل کی بنیاد پر اپنے حقوق کا مطالبہ تو کر سکتی ہے لیکن صرف اس ڈر سے کہ دوسری شادی کے بعد شوہر عدل نہیں کرے گا پہلی بیوی سے اجازت کا کوئی جواز نہیں کیوں کہ شوہر دوسری شادی نہ کرنے کی صورت میں بھی غیر عادل ہو سکتا ہے ……

    بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ امام حسن رض پے درپے شادیاں کرتے اور طلاق دیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ اس حد تک جاری رہا کہ کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے کوفہ کے عوام سے فرمایا: اے اہل کوفہ! اپنے بیٹیاں میرے بیٹے حسن سے مت بیاہو کیونکہ وہ بہت زیادہ طلاق دینے والے ہیں!
    قبیلۂ ہمدان کے ایک فرد نے اٹھ کر کہا: ہم ان کو بیٹیاں دیں گے چاہے انہیں رکھ لیں چاہیں انہيں طلاق دیں۔ (كافى، ج 6، ص 56)

    یہ تھا اس معاشرے کا عمومی مزاج تعدد ازواج کے حوالے سے اب مجھے نہیں معلوم کہ وہ لوگ قرآن سے ہم سے زیادہ واقف تھے یا ہم آج زیادہ سمجھ لیا ہے

    وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

     
  12. mdnoor7

    11/03/2014 at 10:28 PM

    سورة النساء :[4:3]
    اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین صواب ہے (ترجمہ مولانا مودودی)
    ا ور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او ر چار چار پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو( ترجمہ احمد رضا خان)
    اور اگر تم یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہوتوجوعورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو جو لونڈی تمہارے ملک میں ہو وہی سہی یہ طریقہ بے انصافی سے بچنے کے لیے زیادہ قریب ہے( ترجمہ احمد علی)
    اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے( ترجمہ جالندھری )
    اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لئے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے)، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں، یہ بات اس سے قریب تر ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو،( ترجمہ طاہر القادری)
    اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیاده قریب ہے، کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ (محمد جونا گڑھی)
    اور اگر یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکنے کا خطرہ ہے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہیں دو. تین. چار ان سے نکاح کرلو اور اگر ان میں بھی انصاف نہ کرسکنے کا خطرہ ہے تو صرف ایک… یا جو کنیزیں تمہارے ہاتھ کی ملکیت ہیں, یہ بات انصاف سے تجاوز نہ کرنے سے قریب تر ہے (ترجمہ علمامہ جوادی: اہل تشعیع
    اجازت نہ پہلی سے ،نہ دوسری سے نہ ہی تیسری بیوی سے لینے کا ذکر ہے
    ۔۔
    چونکہ اِس آیت میں انصاف ، عدل کی بات پر زیادہ زور ہے ۔اسلئیے زیادہ سے زیادہ مکتبِ فکر کے ترجمے دے رہاہوں ۔۔ یعنی مجھ سے جتنا عدل ہوسکتا تھا اپنی سی کوشش کی ہے ۔۔ اجازت نہ پہلی سے ،نہ دوسری سے نہ ہی تیسری بیوی سے لینے کا ذکر ہے ۔اب اجازت دیں ۔۔۔بُہت شکریہ۔۔۔

     
  13. محمد ریاض شاہد

    12/03/2014 at 10:41 PM

    جس دلچسپی سے تمام احباب نے اس پوسٹ کو پڑھا اور تبصروں کی صورت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا وہ قابل تحسین ہے اور میں تمام احباب کا مشکور ہوں ۔ اس باب میں میرا اب مزید کچھ کہنا مناسب نہیں ہو گا کیونکہ اس کے بعد بحث فقہی میدان میں چلی جائے گی ۔ البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ قرآن ہمین ایک فریمورک دیتا ہے اور معاشرے کے تمام افراد کے ساتھ یکساں انصاف پر زور دیتا ھے ۔ شریعت کی تشریح و تعبیر میں معاشرے کےتمام افراد کے مسائل کو سامنے اسی طرح رکھنا چاہئیے جو کہ خلفائے راشدین کا دستور تھا ۔

     
  14. سہیل جمالی

    04/04/2014 at 2:56 AM

    جسے دوسری شادی کرنی ہے وہ تو ضرور کرے گا۔ یہ اس بر صغیر کا مسئلہ ہے جس کی بنیاد ہندووں سے میل ملاپ کے نتیجے میں ان کا اثر قبول کرنا ہے۔ متحدہ ہندستان میں جہاں مسلم اکثریت تھی یا مسلم اقتدار تھا وہاں دوسری شادی کو عیب نہیں سمجھا گیا۔ حسیب خان نے بہت آسان الفاظ میں اسلامی تعلیمات کا عرق پیش کردیا ہے

     
  15. علی احمد

    27/07/2014 at 7:40 PM

    میرا صرف یہ سوال ہے کہ کیا آپ اپنی بیوی کو کسی کے ساتھ شیئر کرنا پسند کریں گے؟ ہر گز نہیں۔۔۔۔۔ پھر عورت کے دل پہ کیا گزرتی ہے جب مرد دوسرے عورت کے ساتھ بھی سوئے؟؟؟؟؟؟؟ مذہبی بہانے بازی بیچ میں لانے کی ضرورت نہیں، صرف اپنے دل سے پوچھ کےبتائیں آپکی بیوی کسی کے ساتھ سوئے کیسا لگے گا۔

     
  16. مسلمان

    02/11/2015 at 12:24 PM

    ہمارے محلے میں خان صاحب رہتے ہیں۔ اچھے آدمی ہیں ان کی دو بیویاں ہیں دونوں ایک ساتھ رہتی ہیں تقریباِ دس سال مجھے دیکھتے ہوئے ہو گے ہیں آج تک ان کی کبھی لڑائی نہیں ہوئی دونوں عورتیں بہت اتفاق سے رہتی ہیں خان صاحب کوئی بہت امیر انسان نہیں ہیں – — میں ہمشہ سوچ کر حیران ہو جاتا ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ میرے چچا کے لڑکے نے بتایا کے ان کے گھر کے قریب پٹھان نوجوان لڑکا ہے اس کی تین بیویاں ہے۔ میں تو اور زیادہ حیران ہو گا یہ کیا۔۔۔ ہمارے ایک رشتہ دارہے انہوں نے دو شادیاں کی ہیں تقریبا 26 سال ہوگے ہیں انہوں نے اپنی دونوں بیویوں کو ایک ایک کمرہ دیا ہے پہلی بیوی کے ہاں اولاد ہے جبکہ دوسری کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہے ان کے پانچ بچے ہیں جو سب پہلی بیوی سے ہی ہوئے ہیں ان دونوں عورتوں کے درمیان کبھی کبھار ہلکی پھلکی لڑائی بھی ہوتی ہے جو کہ کچھ دوسرے لوگوں کی سازش اور شرارت کی وجہ سےہےجبکہ ان کے بچے اپنی اصل ماں کے بجائے سوتیلی ماں سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں انکی سوتیلی ماں ایک بہت لمبے عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا ہے لیکن بچوں اور ماں کے درمیان پیار بڑا مثالی ہے ایک دفعہ ان بچوں کی اس سوتیلی ماں کی بیماری کا سن کر ایک عورت اس کو دیکھے آئی اور اس عورت نے کہا کے اس گلاس میں مجھے پانی نہ دینا جس میں اس بیمار کو دیا ہے یہ بات سن کر اس کی بیٹی آگ بگولا ہوگی کہ آخر تم نے یہ بات کیوں بولی ہم تو اسی گلاس میں پانی پیتے ہیں ہم کو آج تک کچھ نہ ہوا وہ لڑکے اور لڑکیاں اپنی اس سوتیلی ماں کی بہت خدمت کرتے ہیں اور میں اس وقت بہت حیران ہوگیا کہ جب انکی وہ سوتیلی ماں فوت ہوئی تو جتنے وہ بچے افسردہ دیکھائی دیئے اتنا کوئی دوسرا نہیں ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، جب میں چھوٹا تھا تو ہمارے گھر کے قریب ایک ہندوستانی فیملی رہتی تھی وہ اردو سپیکنگ لوگ تھے وہاں ایک بڑے میاں رہتے تھے جن کی دو بیویاں تھیں اور دونوں کے بچے بھی تھے جو ہمارے ساتھ کھیلا کرتے تھے ان کے یہاں کوئی لڑائی نہ تھی۔ اور آپ کو کس کس کے بارے میں بتاؤں بات بہت لمبی ہو جائے گی۔۔۔۔ دراصل ہماری ذہنی کیفیت ایک نئے رخ پر آ گی ہے اور میڈیا ٹی وی ڈرامے فلم خبروں وغیرہ میں دوسری شادی کو ایک ظلم ٖفساد تشدد بے انصافی عیش پرستی اور ڈرونا بنا کر دیکھایا جاتا ہے جس کی وجہ لوگوں کی ایک خاص قسم کی ذہن سازی ہوگی ہے اب اگر کوئی دوسری شادی کا نام لے لے اسکی توشامت آ جاتی ہے لوگ اسکو کمینا عیاش ظالم اور نہ جانے کیا کیا سمجھتے ہیں ۔اب ہمارا معاشرہ برائی کی حدوں تک پہنچ گیا ہے ہر شہر میں جگہ جگہ برائی کے اڈے موجود ہیں پچھلے دنوں میں اے آر وائی، سما ٹی وی،دوسرے بہت سے چینلز کے کچھ خاص پروگرام کو انٹرنیٹ کے ذریعے دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں یہ دیکھایا گیا کے پولیس والے کسطرح پیسے لے کر برائی کا کام کرنے والے مرد وں اور عورتوں کو سہولت حفاظت اور سہارا فراہم کرتے ہیں عورتوں اور لڑکیوں کو پانچ سو سے لے کر ہزار وں روپے کے بدلے برائی کےلیے فراہم کیا جاتا ہے مطلب یہ کے اب زنا بہت سستا ہو گیا ہے اور نکاح بہت مہنگا ہوگیا ہے اور یاد رکھو جو چیز سستی ہوتی ہے لوگ اس کی طرف بھاگتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس چیز کو سستا کر رہے ہیں اور کس چیز کو مہنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے بہت سے لوگ ہیں جو شادی شدہ اور بال بچے دار ہونے کے باوجود باہر جا کر اپنے لاکھوں ہزاروں روپے خرچ کر کے برائی اور زنا میں مبتلا ہوتے ہیں اور اگر ان کے رشتہ داروں دوستوں اور حتٰی کے بیوی کو بھی اس بات کا پتا چل جائے تو وہ اس بات کو شغل مزاق اور موج مستی کہہ کر ٹال دیتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص اپنے نفس کی شرافت کی وجہ سے دوسری شادی کا نام بھی لے لے تو اسکے دوست احباب رشتہ دار بیوی بچے اسکو مجرم سمجھ کر اسطرح گھیر لیتے ہیں جسطرح پولیس والے کسی چور اور ڈاکو کو گھیر لیتے ہیں”””””””””””’ممکن ہے کہ کوئی جاہل انسان اپنی ایک بیوی کے ہوتے ہوئے کسی بھولی بھالی نادان لڑکی کو اپنی مکاری سے پھنسا لے یا بھگا لے اور اس سے اپنامطلب پورا ہو جانے کے کچھ سالوں یا مہینوں بعد چھوڑ دےاور ایسا وہ کئی لڑکیوں کے ساتھ کئی دفعہ کر چکا ہو ،بلا شبہ ایسے کئی دھوکے باز افراد بھی ہونگے جو دوسری شادی کانام لے انتہائی عیاری اور مکاری سے کام لیتے ہونگے اب ایسے افراد کو دیکھنے والے لوگ کہیں گے دیکھو یہ دوسری شادی کتنی بری چیز ہے یہ تو بلکل ایسے ہی ہے جیسے ایک علاقے کے سارے شریف اور صاحب حیثیت لوگ نماز پرھنا چھوڑ پڑھنا دیں،اور اس علاقے کے کچھ ڈاکو اور چور نماز پڑھنا شروع کر دیں تو دیکھنے والا کہے دیکھو نماز کتنی بری چیز ہے اب تو چوروں اور ڈکیتوں نےپڑھنا شروع کر دی ہے ہم ایسے لوگوں کی وجہ سے نماز کو کھبی بھی برا نہیں کہہ سکتے اسی طرح ہم کچھ لوگوں کےفعلِ بد کی وجہ سے دوسری شادی کو برا نہیں کہہ سکتے”””””””’ ہاں اب یہ بھی ممکن کے کو ئی شخص دوسری شادی کرے اور پہلی بیوی کے ساتھ انتہائی برا اور نامناسب سلوک کرے اور انتہائی تشدد اورستم کا رویہ اپنائے، یہاں بنیادی بات یہ ہے ہمارے معاشرے کی کوئی بھی عورت یہ نہیں چاہے گی کہ اسکا شوہر دوسری شادی کرے بلکہ آج تو ہر عورت کی یہی خواہش ہوگی میں اپنے شوہر کے ساتھ بلکل اکیلی رہوں( کسی حد تک اسکا حق بھی ہے) شوہر کے ماں باپ بہن بھائی رشتہ دار کوئی بھی ہمارے ساتھ نہ رہے بلکہ جتنا دور ہو اتنا ہی اچھا ہے اور خود بیوی کے ماں باپ بہن بھائی اور رشتہ دار جتنا قریب ہوں اتنا ہی اچھا ہے”اب ایسے ماحول میں ایک شخص دوسری شادی کر لے تو وہ تو غصے اور غم میں پاگل ہوجائے گی، انتہائی حسد اور دکھ میں ہونے کی وجہ سے اسکا اپنے شوہر سے پہلا مطالبہ تو طلاق کا ہی ہو گا اور اگر نوبت کسی مجبوری یا کسی اور وجہ سےطلاق تک نہ بھی پہنچے تو اب وہ اپنے شوہر سے اب نفرت انگیز لہجے میں بات کرنے لگے گی چھوٹی چھوٹی بات کا بتنگڑ بنانے لگے گی شدد بدتمیزی اور بدزبانی کرتے ہوئے اپنے شوہر کو اس بات کا احساس دلائے گی کہ اس نے دوسری شادی کر کے بہت ہی نیچ کھٹیا اور برا کام کیا ہے، لازمی بات کہ شوہر غصے اور عدم برداشت کی وجہ اب عورت پر ہاتھ اٹھائے گا تو وہ اور زیادہ زور سے چیخے چلائے گی کہ میری محبت اب میرے شوہر کے دل میں نہیں رہی اور یہ شور شرابا روز بروز بڑھتا ہی جائے گا ،،شوہر بھی اب لاعلم جاہل ہونے کی وجہ سےتوجہ کم کر دے گا اور یوں سارا کا سارا معاملہ بگڑ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کے برعکس ایک شخص دوسری شادی کرتا ہے اس کی پہلے سے موجود بیوی اپنے شوہر کے اس فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرتی ہے اور اپنے شوہر سے یہ کہتی ہے کہ آپ نے دوسری شادی کی ضرورت کومحسوس کرتے ہوئے شادی کر کے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے اور میں آپ کے اس فیصلے سے بہت خوش ہوں، امید ہے کہ آپ مجھ سے پہلے ہی کی طرح محبت کریں گے اللہ کا بڑا کرم ہےآپ پے کہ آپ نے زنا والے راستے سے بچتے ہوئے نکاح والے راستے کو اختیار کیا ہے اور اس کے بعد کسی بزرگ عزیز صاحبِ علم شخص کو بیچ لا کر ان کو یہ کہے کہ میرے شوہر نے دوسری شادی کی ہے لہذا آپ ان کو بہتر انداز میں اس سے متعلق کچھ نصیحت اور ہدایت کریں، اور ایسے موقع پر باہم معاملات کو سلجھانے کی تدابیر سے آگاہ کریں۔اور وہ علم سے واقف شخص ان شوہر صاحب کو ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان عدل، انصاف، حسنِ معاملات، اتفاق اور انبیاء ؑ خاتم الانبیاء ﷺ، صحابہؓ، اولیاء فقہا،صالحین،علماء کے اپنی بیویوں کے درمیان عدل اور انصاف کےواقعات کو بیان کریں۔ اور تھوڑے عرصے بعد ان کے حال احوال پوچھتے رہیں اور نصیحت و رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھیں۔ اس سب کے بعد نہیں لگتا کہ حالات خراب ہوں اوربات بگڑے۔ سچ ہے یہ بھی کہ تقدیرکے لکھے کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔