RSS
 

ابن مریم ہوا کرے کوئی

1,177 views --بار دیکھا گیا

07 Mar 2014

چند روز قبل اخبارات میں ایک خبر چھپی جس میں ایک ماں نے اپنے دو بچوں کو جان سے مار دیا ۔ ملزمہ کا کہنا ہے کہ  “اس کا شوہر نشہ کرتا ہے، وہ غربت اور فاقہ کشی کے ہاتھوں بہت تنگ تھی” ۔ ہمارے ملک میں جس بھی فرد نے  یہ خبر پڑھی اس کا دل پگھل گیا ۔ سوشل میڈیا  پر لوگوں نے تنقید کی اور حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا کہ وہ غریبوں کی مدد کی بجائے بڑے منصوبوں اور یوتھ فیسٹیول جیسے غیر پیداواری کاموں پر عوام کا پیسہ ضائع کر رہی ہے ۔  لاہور میں ہونے والا یہ واقعہ نیا نہیں ہے اور اس سے پہلے بھی اس قسم کے کئی واقعات ہو چکے ہیں ۔ اس طرح کے واقعات کی میری نظر میں غربت کے علاوہ  کئی دوسری وجوہات بھی ہیں جنہیں بیان کرنا ضروری ہے ۔

میری ایک پرانی پوسٹ ترقی کے گھوڑے میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ کس طرح جنرل ایوب کے دور میں حکومتی کوششوں سے گاوں کا آزاد یونٹ توڑا گیا تھا جس کے  زراعتی معاشرے میں گاوں کے ہر فرد کا کردار متعین تھا ، زمیندار ، مزارع  ، جولاہا ، لوہار اور ترکھان کا وغیرہ میں کاموں کی تقسیم واضح تھی  ۔ ہر شخص برابر نہیں تھا ، شخصی اہمیت کا معیار شجرہ ، زمین کی کم یا زیادہ  ملکیت ، پیشے ، ہنر مندی کی نوعیت اور خاندان کے افراد کی تعداد سے متعین ہوتی تھی۔ ہنر مند افراد اور خدمت گار  اس سیڑھی پر سب سے کم تر درجے پر تھے۔ مزارع کا حصہ زمین میں سے طے شدہ معاہدے کے مطابق تھا تو باقی ہنر مندوں کو بھی کام کے لحاظ سے سال بھر کی گندم میسر ہو جاتی تھی۔ گاوں میں روپے پیسے کے ساتھ بارٹر سسٹم کا بھی رواج تھا ۔ یعنی زمین دار ہنر مندوں اور مزدوروں کے رزق کا ذمہ دار تھا ۔ زیادہ تر لوگ سادہ زندگی بسر کرتے تھے ، ہر شے کو ری سائکل کرنے کا رواج تھا ، اسراف صرف متمول زمین داروں کا خاصہ تھا جس کا مظاہرہ بھی وہ صرف شادیوں اور میلوں ٹھیلوں پر کرتے تھے۔ عام لوگ ایک یا دو جوڑوں میں پورا سال گذار دیتے تھے ۔ غریبوں سے نا انصافی اس دور میں بھی ہوتی تھی لیکں  اس زمانے میں کم از کم اس بات کا یقین ہوتا تھا کہ کوئی بہر حال بھوک کے ہاتھوں نہیں مرے گا  اور غریب سے غریب فرد کو بھی کھانے میں دو روٹیاں ، ایک پیاز اور لسی کے دو گلاس مل جاتے تھے ۔

جب  چالیس پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں جدیدیت یا ماڈرنائیزیشن آئی تو وہ اپنے ساتھ نئے تصورا ت بھی لے کر جس میں سب سے اہم تصور یہ تھا کہ تمام افراد برابر ہیں ۔ اس سے پہلے یہ تصور تھا کہ جولاہے کا بیٹا جولاہا ہی بنے گا ، لوہار کا لوہار اور میراثی کا میراثی ۔ لیکن اب نئے تصور کے تحت وہ سب برابر قرار پائے ، چنانچہ اب جولاہے کا بیٹا پڑھ لکھ کر ، سکول ماسٹر ،اے سی یا تھانیدار بھی لگ سکتا تھا ، کوئی نیا پیشہ اپنا سکتا تھا اور نئی جگہ جا کر کاروبار شروع کر سکتا تھا ۔ اگرچہ یہ تصور بہت اچھا تھا لیکن اس نے زمیندار کو گاوں میں اپنے زیر سایہ افراد کو رزق کی فراہمی سے آزاد کر دیا ۔ پہلے اگر کسی کمزور آدمی کی بیٹی سے شادی سر پر آن پڑتی تھی تو وہ زمیں دار سے قرض یا امداد لے سکتا تھا ، اپنی ذات برادری کے لوگ بھی شادی کے موقع پر نیوتہ کے ذریعے کوآپریٹو سپرٹ کا مظاہرہ کر کے باعزت قرضہ فرہم کرتے تھے لیکن اب یہ منظر نامہ بدل گیا تھا ۔ اب بنک بغیر ضمانت کے قرض نہیں دیتا تھا جو اس کے پاس موجود نہیں ہوتی تھی ۔

یہ سطریں لکھتے ہوئے میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں کسی نظام کو اچھا یا بُرا ثابت کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ اپنے تئیں اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ نوبت اس صورتحال تک کیسے پہنچی ۔ ترقی کے نئے تصور نے ذرائع پیداوار کے طریقے بھی بدل ڈالے ۔ پہلے اگر گھر کی ضرورت کی چیزیں حاصل کرنے کے لیئے ہاتھ سے کام کرنے والے ہنر مندوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا تو اب نئی مصنوعات مشین سے بنی ہوئی بازار میں آسانی سے دستیاب تھیں ۔

تصویر بشکریہ ۔ http://www.yalescientific.org/

تصویر بشکریہ ۔ http://www.yalescientific.org/

جولاہے کے بنے ہوئے کھیسوں کی جگہ کورین کمبل دستیاب تھے تو زرعی آلات اب لوہار کی بجائے فیکٹریوں سے تیار ملتے تھے ۔  مہمان کی تواضع اب لسی کی جگہ سیون اپ اور گھر کی بنی موٹی سویوں کی جگہ پتلی مشینی سویوں سے ہوتیں اور  یہ نئی فیکٹریاں ان سرمایہ داروں کی تھیں جن کا مفاد نئے نظام سے وابستہ تھا ۔ پرانے انداز میں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد ان کے اتنی اہمیت اور کام کے نہیں تھے  جتنے وہ گاوں کی پرانی زندگی میں تھے،  انہیں کچھ اور طرح کے افراد درکار تھے ۔

ستر اور اسی کی دہائی اور آنے والے زمانے  میں پاکستان میں آبادی میں شرح افزائش میں اضافے  اور وراثتی  تقسیم در تقسیم کے نتیجے میں زمینیں سکڑنا شروع ہو گئیں ۔ زمین دار پہلے ہی غیر زمیں دار ہنر مند افراد کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو چکا تھا جس کے نتیجے میں ان افراد نے بہتر مستقبل کی تلاش میں  شہروں کا رخ کیا جس کے کلچر اور ذرائع پیداوار کے طریقوں سے وہ  نا بلد تھے ۔ اچھی ملازمتوں کے لیئے یہ افراد نئی تکنیک سے مسلح بھی نہیں تھے ۔ گاوں کی زندگی میں یہ اپنے ماحول سے بہت اچھی طرح واقف ہوتے تھے جو ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کیئے رکھتی تھی لیکن نئے ماحول میں ان کے پاس کسی  مزدوری یا چھوٹی موٹی ملازمتوں کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔ گاوں میں جسمانی بیماریوں کا علاج حکیم صاحب کے پاس تھا جو سستا بھی تھا اور  ضرورت پڑنے  ادھار بھی کر لیتا تھا بلکی اگر مریض زیادہ غریب ہو تو مفت علاج بھی کر دیتا تھا کیونکہ اس کی دوائیاں بنانے کے اجزا اس کے اپنے ماحول کے اندر آسانی سے  مل جاتے تھے ۔ مثلا صرف برگد کے درخت کے مختلف اجزا سے سو مختلف دوائیاں بنتی تھیں ۔گاوں کی زندگی میں ایسے نفسیاتی مسائل جن کا کوئی علاج نہیں تھا اس کے لیئے وہ مولوی صاحب سے دعا کرا کے ،  پیر تُوڑی شاہ مرحوم  کے مزار پر دعا مانگ یا  درخت پر منت کا دھاگہ باندھ کر  قدرے شانت ہو جاتے تھے ۔ شہر میں کوئی ایسا نفسیاتی معالج نہیں تھا جو ان کے غم کا مداوا بغیر گراں فیس لیئے کر سکے ۔

اس سارے معاملے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں جب یہ تبدیلیاں زور پکڑ رہی تھی تو اس کے ساتھ ہی شدت پسندی کا زور بھی ہو رہا تھا ۔ سری لنکا کی تامل مومونٹ 1983 میں شروع ہوئی ، خالصتان کی مومنٹ میں زور اسی کی دہائی میں ہوا اور پاکستان میں بھی اسی دہائی میں ۔ جب گاوں کے نوجوان شہر میں آ کر غربت بھری کٹھن زندگی گذارتے اور اپنے ارد گرد نئی گاڑیوں اور بڑی بڑی کوٹھیوں ، سامان سے بھری مارکیٹوں اور افلوئنس کی زندگی کو دیکھتے جو ان کی دسترس میں کبھی آنے کا امکان نہیں تھا تو وہ ہر ایسے انسان اور نظام کے خلاف ہونا شروع ہو گئے جس کا وہ حصہ اپنے آپ کو محسوس نہیں کرتے تھے ۔ رہی سہی کسر ہمارے ملک میں مسلسل مارشل لاز نے پوری کر دی ۔

گاوں میں ہر شخص دوسرے کو نہ صرف جانتا تھا بلکہ بلکہ اس کے باپ دادا کو بھی جانتا تھا ۔ ٌ کسی جرم کے وقوع پذیر ہونے کی صورت میں پولیس کا مخبروں پر مشتمل ایک نیٹ ورک ہوتا تھا جس میں خصوصا وہ افراد شامل ہوتے تھے جن کی حیثیت نیم سرکاری قسم کی ہوتی تھی ، ذیلدار ، نمبر دار ، سفید پوش ، چوکیدار اور گھروں میں کام کرنے والی خواتین وغیرہ ہوتی تھیں جس کی وجہ سے جرم واقع ہونے کے تھوڑے ہی عرصے میں مجرم کا سراغ لگ جاتا تھا۔ شہر کی زندگی میں ایسا کچھ نہیں تھا ۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد اور ان کا مہاجر کیمپوں سے نکل کر شہر اور مضافاتی بستیوں میں آباد ہونا اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا ۔ شہروں میں جرائم کی شرح خطرناک تک بڑھ گئی اور عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ۔ گاوں کسی پر مصیبت پڑتی تھی ساری برادری اکٹھی ہو جاتی تھی جس سے نفسیاتی اور مالی سہارا ملتا تھا لیکن شہر میں اب فرد اکیلا تھا اسے یہ سارا بوجھ خود ہی اٹھانا تھا ۔ اسے اس بات کا یقین نہیں رہا تھا کہ آنے والے کل کو اسے روٹی نصیب ہو گی  ۔

گاوں کا فرد مٹی سے جڑا ہوتا تھا ، اسے یقین ہوتا تھا کہ وہ اپنی محنت کے بل پر اس مٹی کو سونا بنا سکتاھے ۔ مٹی سے وہ اپنے گھر بناتا تھااس سے رزق حاصل کرتا تھا ،  اس کے شعر ، گیت ، آرزوں اور امنگوں  کی سطح مٹی سے زیادہ بلند نہیں ہوتی تھی اور اس طرح وہ اپنے آپ کو نیچر کے زیادہ قریب رہ کر زندگی کو قدرتی مومینٹم سے گذار کر آسائش محسوس کرتا تھا  ۔ لیکن شہر کی سنگلاخ سڑکیں اور کنکریٹ کے  تنگ اور غلیظ مکانات اسے اجنبی ، گرمیوں کے موسم میں سخت گرم اور سردیوں کے موسم میں سخت سرد بن کر جہنم کا پر تو محسوس ہوتے تھے ۔ ایسے اجنبی دیس میں ، بھاگتے دوڑتے مصروف انسانوں کے درمیان جہاں انسان کی قدروقیمت کا تعین محض پیسے سے ہوتا تھا وہاں وہ اپنے آپ کو بہت بے قیمت محسوس کر کے ایسی تنہائی محسوس کرتا جو  اس کے اندر اپنے پنجے بہت گہرے گاڑ لیتی اور اس کی حیثیت محض کولھو کے بیل کی رہ جاتی ۔

واپس خود کشی کے واقعات کی طرف آتے ہیں ، کوئی بھی انسان اس وقت خود کشی کرتا ھے جب وہ اپنے ارد گرد کے انسانوں سے کٹ کر دلبرداشتہ اور خدا سے بالکل مایوس ہو جاتا ھے ۔ اگر ہمارے ارد گرد ایسے افراد خود کشی کر رہے ہیں تو یہ گورنمنٹ کے علاوہ معاشرے کے تمام افراد کے لیئے لمحہ فکریہ ہے ۔  ۔ اس معاملے میں سب سے سنگدلانہ کردار  معاشرے کے دوسرے افراد کے علاوہ حکومتوں اور مذہبی افراد کا  رہا ھے ہے جن کا کام معاشرے میں خیر پھیلانا ہوتا ھے  ۔ مغربی معاشروں میں جب پاپائیت کے ہاتھ سے اقتدار کی رسی نکل گئی تو انہوں نے نئے سرے سے اپنا کردار متعین کر کے ایسے فلاحی اداروں کو بنانے کی طرف دھیان دیا جہاں بے کسوں کا مفت علاج ، خوراک ، دوا اور کپڑے وغیرہ مل جاتے تھے اور ملازمت حاصل کرنے کا کوئی ہنر بھی سکھا دیا جاتا تھا  ۔ لیکن ہمارے ہاں مذہبی طبقے اور گورنمنٹ نے اس پہلو پر کوئی دھیان نہ دیا بلکہ اپنے حلقہ اقتدار کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھی ۔ اگر کچھ کوششیں ہوئیں تو وہ لیپا پوتی تک محدود رہیں اور اس کے اثرات معاشرے کے تمام افراد تک نہ پہنچ پائے ۔ آج معاشرے میں غریب اور امیر کے درمیان تفاوت بہت زیادہ بڑھ گیا ھے جس کے ساتھ ہی امیر افراد میں ان غریب افراد سے ہمدردی کا جذبہ بھی کم ہو گیا ہے وہ ان کے لیئے محض زمین پر رینگنے والی مخلوق کا درجہ اختیار کر گئے ہیں جنہیں لیبارٹری میں تجربات کے لیئے استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جا سکے ۔

ایک حدیث ہے کہ مومن کا پڑوس اس کے ارد گرد کی چہار سمتوں میں واقع چالیس گھروں تک پھیلا ہوتا ھے اور پڑوسی کے حقوق کے متعلق ہم تمام مسلمان آگاہ ہیں  ۔ اگرچہ تصوف اس دور میں پٹ چکا ہے اور اس کا نام لینے والا تنقید کی زد میں آتا ھے لیکن میں ، ماضی میں برصغیر میں مسلمان صوفیاء کے کردار کا معترف ہوں کہ ان کے آستانے پر آنے والے سب سے پہلے لنگر سے  کھانا ملتا تھا اس کے بعد اس کی مصیبت کا  تفصیلی احوال محفل یا تنہائی میں سنا جاتا تھا اور درد کی دوا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اور سب سے آخر میں جب اس کا مسئلہ حل ہو جاتا تھا تو کوئی ایک چھوٹی سی دینی نصیحت بھی کر دی جاتی تھی ۔ آج ہمارے ہاں مسجدوں کے سپیکروں  اور ہر قسم کے میڈیا سے دن رات  خیر کی مجاہدانہ جذبے سے بہت تشہیر کی جاتی ہے لیکن آج ایسی  تشہیر سے زیادہ ایسی تعلیمات پر خود عمل کرنے کی ضرورت زیادہ ھے اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو حدیث کے مطابق  صدقے کا کمتر ترین درجہ کسی کے درد کا حال سن کر اسے  اپنی مسکراہٹ سے بھی نہیں نواز سکتے ؟۔

تو کوئی ہے جو سوچے اور عمل کرے ؟ ۔

Facebook Comments

 

Tags:

  1. مانی

    07/03/2014 at 3:04 AM

    خوب، پیارے سرکار۔ قدرے مختلف پہلوئوں سے معاملات پر روشنی ڈالنے کا شکریہ،
    گو کچھ زاویوں سے اختلاف ہے،
    ستر، اسی کی دہائیوں میں شدت پسندی کا معاملہ (معاشرتی، معاشی تبدیلیاں اور سماج میں رونما تغیرات گو ایک حد تک اس کی وجہ تھے، لیکن مکمل بنیاد نہیں۔)
    “مذہب پسند” طبقات پر کسی حد تک الزام درست۔ لیکن “مذہب پسندوں” کو کریڈیٹ بہرحال جاتا کہ اس سارے متغیر پذیر زمانے میں انہوں نے اپنی سی کر کے رکھی اور جہاں تک ممکن ہو سکا سماج سیوا کے لئے دامے درمے سُخنے کوشاں رہے، اس کی مثالیں آپ کی عمیق نظروں سے کہاں چھپی ہوں گی۔۔ اور یقینا آپ اس کی گواہی بھی دیں گے۔
    آپ کی تحریر میں موجود توضیحات کے لئے ایک دفعہ پھر بہت شکریہ

     
  2. عمار ابنِ ضیا

    07/03/2014 at 11:50 AM

    بہت عمدگی سے تجزیہ کیا ہے اس تمام تر صورتِ حال کا۔ خصوصاً شہروں کے مختلف طرزِ زندگی سے جنم لینے والے مسائل، شہری زندگی میں بے سکونی، بے گانگی اور نفسانفسی وہ عناصر ہیں جس کی وجہ سے میں جدی پشتی شہری ہونے کے باوجود دیہاتی ہونا چاہتا ہوں۔

     
  3. علی

    07/03/2014 at 2:51 PM

    بہت لاجواب
    ایک چیز میرے خیال میں اور بھی اہم ہے کہ ہم نے آزادی اور ترقی تو دینا شروع کی لیکن تعلیم اور شعور نہ دیا جس کی وجہ سے ہر شخص کے دل میں امنگ یہی رہی کہ وہ گاؤں کے چوہدری سا بن جائے اور جس کو جو جو کرسی یا عہدہ ملا اس نے باقیوں کو کمی ہی بنا ڈالا۔اور یہ معاشرتی بگاڑ اب بھرپور قوت سے سامنے آ کھڑا ہے

     
  4. محمد اسلم فہیم

    07/03/2014 at 7:39 PM

    ایک خوبصورت تحریر پڑھنے کو ملی۔ اگر اسلام کی تعلیمات کے مطابق معاشرے کی تعمیر ہوجائے تو کچھ بعید نہیں کہ ایک بار پھر لوگ زکٰوۃ لے کر گلیوں میں تقسیم کرنے نکلیں اور کوئی لینے والا نہ ملے، لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آج ہم نے اسلام کو صرف مسجدوں تک محدود کر دیا

     
  5. محمد ریاض شاہد

    08/03/2014 at 8:15 PM

    محترم مانی صاحب
    پوسٹ کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ جب ذرائع پیداوار کے طریق بدلتے ہیں تو معاشرے میں تبدیلیوں کے دھارے پھوٹتے ہیں جن میں سے ایک دھارا شدت پسندی کا بھی ہوتا ھےلیکن مسلمانوں میں شدت پسندی کی وجہ جو بھی ہو اسے مذہب کا لبادہ اوڑھا دیا جاتا ھے اگر کہیں تو مسلم تاریخ سے مثالیں پیش کر سکتا ہوں ۔
    محترم علی صاحب
    تعلیم سے کیا ہوتا ھے البتہ شعور واقعی ہی نہیں پہنچا عوام تک اور اس کی وجہ یہی ھے کہ جب شعور آ جائے گا تو اصل چوہدری صاحبان (تمام اقسام کے)کو کون پوچھے گا ۔
    محترم اسلم فہیم صاحب
    شکریہ

     
  6. Sarwat AJ

    12/03/2014 at 6:00 PM

    شاید اِسی کو زمانے کا ارتقا کہتے ہیں، جس میں بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق مفید تبدیلیاں اپنانا اور ایڈاپٹ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ یہ اولی الالباب اور فکر و شعور رکھنے والے لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ جن کا یہاں شدید فقدان ہے ۔

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی