RSS
 

اے غزال شب

1,939 views --بار دیکھا گیا

07 Oct 2013

اے غزال شب تارڑ کادو ہزار تیرہ میں  شائع ہونے والا نیا ناول ہے جو کل دو سو پچانوے صفحات پر مشتمل ہے، قیمت سات سو روپے اور اس کے پبلشر  سنگ میل پبلیکیشن لاہور ہیں ۔ راکھ اور خس و خاشاک زمانے کی طرح یہ ناول بھی پاکستان کی مٹی سے جڑا ناول ہے جس کے کردار جاندار لیکن ماضی گزیدہ ہیں ۔ خس و خاشاک زمانے بلا شبہ عظیم ناولوں کی فہرست میں شامل کرنے کے قابل ہے  Ghazal  لیکن یہ ناول بھی اگرچہ ضخامت میں قدرے مختصر ہے لیکن اسے بھی ایک ماسٹر پیس کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ جو قاری تارڑ کے اسلوب سے آشنا ہیں انہیں اس ناول میں ان کا فن اپنے عروج پر نظر آئے گا ۔ تارڑ نے ماسکو میں اپنے قیام کے دوران جن حالات و واقعات کا مشاہدہ کیا اور ماسکو کی سفید راتیں میں تحریر کیا اس کا عکس اگر چہ جا بجا نظر آتا ہے لیکن اس ناول میں انداز بیاں ، گہرائی و گیرائی کا جواب نہیں ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب آکے تارڑ کا فن اپنے کمال تک پہنچا ہے ۔

1991 میں جب روس کی تحلیل ہوئی اور یہ پندرہ ریاستوں میں بٹ گیا تو یہ شکست صرف ایک ملک کی ہی نہیں تھی بلکہ ایک نظریے  ،ایک آدرش اور ایک خواب کی شکست تھی ۔ اس خواب سے وابستہ لاکھوں کروڑوں انسان جو کبھی دنیا میں معاشی مساوات  کے سرخ سویرے کا اجالا دنیا بھر میں پھیلانے کے علمبردار تھے ۔اس ناول کے کردار وہ سب لوگ ہیں جو اپنی من مرضی سے نظریاتی وابستگی اور ایک خواب کے حصول کی خاطر جلاوطن ہوئے تھے اب بڑھاپے میں اپنی مٹی سے جدائی ان کا کلیجہ کاٹتی تھی ۔ یہ سب لوگ کمیونسٹ روس میں معاشرے میں عزت کے حامل تھے ، سیمیناروں اور ادبی اجتماعات میں بلائے جاتے تھے ، انہوں نے وہاں شادیاں کر لیں تھیں ، بچے پیدا کر لیئے تھے کہ عوام کی نظر میں یہ وہ لوگ تھے جو سویت یونین کی خاطر اپنے دیسوں کو تیاگ کر آئے تھے لیکن اس نئے بدلے ہوئے روس اور  سابقہ مقبوضہ ملکوں میں اب وہ اجنبی تھے ایک نئئے نظام کے ناپسندیدہ تھے ۔ اگرچہ پرانا نظام قطاروں کا نظام تھا جہاں ایک ڈبل روٹی خریدنے کے لیئے لمبی قطار لگانا پڑتی تھی لیکن بہر حال عام آدمی کی قوت خرید میں تھا تو نیا روس عالیشان شاپنگ سینٹر ز کا تھا جہاں ایک سادہ سا پرس قیمت میں کسی بھی عام روسی کی چھے مہنے کی تنخواہ کے برابر تھا ۔

تارڑ کے کردار ماضی کے خوابوں کے اسیر اور زندگی کی لایعنیت سے تنگ آئے لوگ ہیں ۔

ماسکو کا ظہیرالدین جو ساٹھ برس پیشتر کے بورے والہ کے آک کی بیجوں کی سراب یافتہ  بوڑھی مائیاں پکڑتا ہے کہ ماسکو کا آسمان ایسی بوڑھی مائیوں سے بھرا ہوا تھا ۔ بورے والہ کی ایک مل کے مزدور شمس الدین انقلابی کا بیٹا ہے ۔

ہنگری کا رہنے والا پاکستانی مصطفے شیخ بھی وطن کی یاد کی اذیت میں مبتلا ایک تنگ فلیٹ میں دریائے ڈینیوب کے کنارے اپنے بچہن کی یادوں کے لاہور میں واقع کوچہ کمانگراں کااسیر ہو رہا ہے جسے وہ چھوڑ آیا تھا ۔

اور پھر لائلپور کے کسی گاوں کا رہنے والا وارث چوہدری ہے جو جدید روس میں کروڑ پتی بن کر پیوٹن کے پڑوس میں بنے ولا میں رہتا ہے کئی ملوں کا مالک ہے ۔اس نے نئی معیشت کے نئے مغربی نظام کو بکراہت قبول کر لیا ہے ۔ وارث چوہدری کے بقول وہ ظہیر کی طرح ایک کونے میں اپنے بدن میں کھبی خوابوں کی کرچیوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا تھا وہ پرانے نظام کے چالیسویں کے بعد نئے نظام کے اکھاڑے میں اتر  کر بے رحم انسانی لوٹ کھسوٹ ، قوت لالچ ، بے حسی  کے امتحان میں سرخرو ہو گیا لیکن ظہیر اس طرح کا بہادر سورما نہ بن سکا  ۔ آخر جب ظیہر کی بیٹی ایک کلب میں برہنہ ڈانس کرنے لگی ، اس کی معذور بیوی اور بیٹا اسے لفٹ نہ کرانے لگے تو وارث چوہدری نے ترس کھا کر اسے پرانے نظام کی لیڈروں کے پیتل کے مجسمے جو کسی گودام میں بھرے پڑے تھے اسے صلیبوں میں ڈھال کلیساوں کو بیچنے کا ٹھیکہ دے دیا ،

قار قریشی ہے جو کہ اگرچہ ایک امام مسجد کا بیٹا ہے لیکن طوائفوں کا دھندا کرتے کرتے اب وارث چودھری کی ہمسائیگی میں آ گیا ہے لیکن زبان سے اسلام کا پرچار اور اپنے گھر پر محفل میلاد منعقد کراتا رہتا ہے ۔

اور پھر قالب ہے جو اپنے سسر کی ملکیت ماسکو میں پھیلے پیشاب گھروں کا نگران ہے وہ پاکستان کے ایک مشہور انقلابی شاعر کا بیٹا ہے جس کا باپ کی قادرالکلامی اور شاعری جلسوں میں آگ لگا دیتی تھی لیکن گھر میں وہ بچوں پہ بچے پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتا تھا بھوک گھر میں ناچتی تھی کہ اسے روسی گورنمنٹ کی طرف سے بطور طالبعلم وظیفے کی پیشکش ہوئی اور وہ وہاں چلا گیا ۔ اب اسے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ وہ خود بھی متعفن ہو رہا ہے ۔

اور عارف نقوی ہے   جو برلن  جرمنی میں اپنی بیوی کی وفات کے بعد اس کی وصیت کے مطابق لاش کو جلا کر راکھ کو دیوار برلن کے قدموں میں بکھیرنے کے بعد راکھ کی ایک پڑیا لیئے پاکستان دیکھنے چلا آتا ہے ۔

تارڑ کے اپنے  بارے میں کچھ زیادہ یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ آج کی دنیا میں وہ کس فلسفے پہ یقین رکھتے ہیں   مثلا ظہیر جو کہ نہ چاہتے ہئے بھی طالبان سے ہمدردی محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ بھی ایک مقصد کی خاطر چاہے وہ عہد جدید میں کتنا ہی ناقابل حصول اور قابل مذمت کیوں نہ ہو   اپنے نظریئے کی خاطر اپنے جسموں سے بارود باندھ اڑجاتے ہیں  ماضی کے خوابوں کے اسیر  ان سرخ انقلابیوں کو طالبان میں اپنے گذرے ماضی کا عکس نظر آتا ہے جیسے  کبھی وہ سرخے اور جاہل کہلاتے تھے لیکن ایک نظریے کی ڈور سے بندھے جان قربان کرنے کو تیار رہتے تھے ایسے ہی یہ سرخے اب اک نیا خواب چاہتے تھے جس کی خاطر وہ جان دے سکیں لیکن خواب شکستہ کی موجودگی میں اب عدم کا سمندر ہی ان کے اندر بھری یاسیت کا خاتمہ کر سکتا ہے ۔

ناول میں روسی لیڈروں کے مجسموں کو پگھلا کر کلیساوں کی صلیبیں بنانا اور ایک پاکستانی چوہدری کے ڈیرے پر آئی روسی طوائف جو ماضی میں روسی لٹریچر میں پی ایچ ڈی تھی لیو ٹالسٹائی کو گالی دیتی ہے کہ اس کی وجہ سے اس سابقہ پروفیسر کا یہ حال ہوا کہ بھوک کے ہاتھوں اسے یہ پیشی اپنانا پڑا  ، کے استعارے استعمال کر کے تارڑ نے دنیا کی  اس ستم ظریفی کا اظہار کیا ہے جو کہ نظاموں کی الٹ پلٹ سے پیدا ہوتی ہے

تو مصطفے اسلام ، عارف نقوی ، ظہیرالدین اور قالب جب واپسی کا سفر اختیار کر کے پاکستان پہنچتے ہیں تو یہاں کی مٹی کی بو باس اور ماحول جیسے انہیں مکمل کر دیتی ہے وہ اپنے آپ کو جیتا محسوس کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی زندگی بہر حال رائیگاںنہیں گئی کہ انہوں نے کوشش تو کہ بے ایمان ظالم اور کٹھور معاشرے کو قبول نہ کیا ۔ لیکن وہ محسوس کرتے ہیں کہ  اب اس مٹی کے لوگ بھی ان کے لیئے اجنبی ہیں کہ جو زمانہ وہ چھوڑ کر گئے تھے وہ گذر گیا تھا اور اب اس سے آگے ان کے لیئے کوئی خواب نہ تھا بس ابدیت کی منزل تھی ۔

آجکل کی پُر آشوب  دنیا کے حالات میں ناول کا کلائمیکس اس سے زیادہ بہتر نہیں ہو سکتا جب   عارف نقوی  الحمرا ہال میں ڈرامے کے آڈیشن کے دوران وہ  ڈائیلاگزبولتا ہے جو وہ کبھی اہنی  جوانی میں  آزادی سے پہلے لکھنو کے تھیٹر میں   رامائن کا کھیل کھیلتے ہوئے کرشن کا روپ دھارے اپنے بھائی  ارجن کو مخاطب کرتے ہوئے بولتا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ خدا نے ہدایت سب مذاہب میں بھیجی ہے اور  تمام انبیاء نے نیکی کا حکم دیا ہے ۔ انسانوں پہ رحم کرنا ہی سب سے بہتر ہے۔

عارف اسی  آڈیشن کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے  مر جاتا ہے ۔ظہیرالدین بورے والہ کے کوارٹر کے قریب والے آک کے پودے سے نکلتی یادوں کی بوڑھی مائی کے تعاقب میں بھاگتا گڑھے میں گر کر وفات پا جاتا ہے ۔مصطفے اسلام اور قالب اپنی بیٹیوں کو لے کے واپس اپنے اپنے ملکوں چلے اتے ہیں ۔

بحییثیت مجموعی یہ ناول پہلی فرصت میں خرید کے پڑھنے کے قابل ہے ۔

Facebook Comments

 
  1. علی

    07/10/2013 at 3:08 AM

    ضرور پڑھیں گے۔ میں نے جو آخری ناول پڑھا تھا اس کا نام یاد نہیں آ رہا لیکن اس میں تارڈ صاحب نے عبداللہ حسین کی طرح تاریخ کو ساتھ ساتھ لے کر لکھا ہے جس میں میرے مطابق ان کا اسٹائل متاثر ہوا ہے۔ یہ سن کر خوشی ہوئی ہے کہ وہ اپنے پرانے انداز پر لوٹ آئے ہیں۔

     
  2. عمران اسلم

    07/10/2013 at 3:27 AM

    بحثیت مجموعی یہ ناول پہلی فرصت میں خرید کر پڑھنے کے قابل ہے””

    “خرید کر” اضافی ہے :ڈ

    بہت عمدہ تعارف حضرت

     
    • محمد ریاض شاہد

      07/10/2013 at 4:57 AM

      اضافی نہیں یہ لکھنے سے پہلے میں نیٹ پر تارڑ کے پچھلے ناول خس و خاشاک زمانے کی پی ڈی ایف پائیریٹڈ کاپی دیکھ رہا تھا . میرے خیال میں یہ ناول نگار کے ساتھ زیادتی ہے . تشریف آوری کا شکریہ

       
      • نذر

        27/10/2013 at 8:51 AM

        Pdfنہ ہو تو مجھ جیسےغربا کہاں جائیں۔
         
  3. عظيم جاويد

    11/10/2013 at 12:16 AM

    تارڑ صاحب کے لئے کچھ کہنا سورج کو موم بتی دکھانےوالی بات ہوگی

     
  4. ابوعبداللہ

    24/11/2015 at 2:55 PM

    بہت عمدہ تبصرہ ہے – میں‌بھی ابھی شروع میں ہی ہوں عارف نقوی کے حالات پر-

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی