RSS
 

علی حسان کا شجر محبت

1,134 views --بار دیکھا گیا

25 Sep 2013

لیجئے ہم کل اردو  کتابوں   کے عنقا ہونے اور چرغے کی فضیلت کا بیاں کر رہے تھے تو ناگاہ ہمارے دوست اور” اس طرف سے” بلاگ کے ناخدا  علی حسان کی طرف ٹی سی ایس کے ذریعے ایک عدد تحفہ موصول ہوا ۔ ویسے تو چند روز قبل جب انہوں فیس بک کے ذریعے  ڈاک کا پتہ مانگا تو اسی دم سے قیاس آرائیاں کرتے کرتے  من میں  لڈو پھوٹنے شروع ہو گئے کہ ہو نہ ہو علی یقیننا کچھ میٹھی شے بھیجے گا کہ جس شہر کی مٹی سے ان کا خمیر اُٹھا ہے وہاں کا خاصہ  صدیوں  سے سوہن حلوہ اور پیڑے ہیں ۔ کھانے تو ایک طرف رہے  ہمارا مشورہ یہی ہے کہ اگر کبھی جان بوجھ کر محبت کے دریائے پر شور میں چھلانگ لگانے کو جی چاہے تو ملتان سے بہتر جگہ کوئی اور نہیں ۔ وہ کیا  ہمارے مغفور و متشرع  گلوکار جنید جمشید نے فرمایا تھا ” جامنی ہونٹ سرائیکی بولیں اور کانوں میں رس ٹپکے ” تو گویا ملتان  رس اور کن رس لوگوں کا شہر ہوا  جس کے باسی محبت کے معاملے میں مغل بچے اور ان کے سراپا ناز  نک چڑھے معشوق کے برعکس زور زبردستی اور دھول دھپے کے بالکل قائل نہیں ہیں جب  محب کو جب محبت آزار لگنے لگتی ہے تو اپنے ہاتھوں اس کو بہاول پور کی ٹرین پر بٹھا کے آنے کی روایت کو اس کلجگ میں بھی نبھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ ثبوت میں اوروں کو چھوڑیے صرف  ناہید اختر کا نام ہی کافی ہے جنہوں نے امیر خسرو کے کلام”  چھاپ تلک سب چھین لی رے ، موہ سے نیناں ملائی کے ” گا کر امیر خسرو کے کلام کو زندہ و جاوید کر دیا ہے اور شادی کے بعد شوہر کی خواہش پر گھٹی میں پڑی موسیقی اور پندرہ برس کی عمر  سے ان پر برسنے والی سٹوڈیو  لائٹس کے نور کی طرف سے بغیر آہ بھرے پیٹھ پھیر لی حالانکہ سیانے کہتے ہیں کہ کوچہ صحافت اور فلم نگری دونوں ، شوق کے  ایسے کوہ ندا پہ واقع ہیں کہ  وہاں سے آنے والی صدا پہ بندہ سب قسمیں اور   رسوم و قیود توڑ  دوبارہ بے اختیار کھنچا چلا جاتا ہے ۔

ڈاک سے جو شے موصول ہوئی وہ پورا شجر تھا اور وہ بھی محبت کا ۔ سینتیس افسانوں کا مجموعہ “شجر محبت ” علی حسان کے کے اس سفر کی کہانی ہے جو اس نے اب تک  اپنی ذات اور ارد گرد کی دنیا کے اندر معصومیت اور محبت کا مشک نافہ اپنے اندر چھپائے طے کیا ہے ۔ مثلا  اپنے افسانے غلط فہمی میں وہ صبا کو  لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے میں عالم شوق میں چومنے کے بعد مارے شرمندگی کے  صدق دل معافی کا خواستگار نظر آتا ہے جو  وہ معافی مانگنے پر حیرت سے پوچھتی ہے کہ ” میں تو سمجھتی تھی کہ میں آپ کو اچھی لگتی ہوں ” یا پھر افسانہ “چھوڑو” کی ہیروئن ایک دن سنسان گلی میں خود اس کا ہاتھ پکڑتی ہے تو ہاتھ چھڑانے پر منہ میں دوپٹہ ٹھونس کر ہنسی روکتی چلی جاتی ہے ۔

بدلتے سماج اور عالمگیریت کے کلچر نے اقدار کو تہ و بالا  اور بدل کر کے رکھ دیا ہے جس سے ایڈجسمنٹ میں عام اور سادہ افراد مشکل پیش آ رہی ہے ۔ افسانے ” نئی دنیا” کا ہیرو  غربت سے تنگ  جھوٹی گواہی کا عوضانہ بطور راشن گھر لانے کے بعد بیوی سے یہی کہتا ہے کہ جھوٹی گواہی دینے سے پرانے زمانے میں ہی لال آندھی آیا کرتی تھی اس زمانے میں تو یہ راشن کے انتظام کا ذریعہ ہے ۔

علی اپنے افسانوں میں آپ کو زندگی کے  کسی پر پیچ فلسفے سے روشناس کرانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ سادہ اور عام فہم انداز میں اپنی بات کہنے کا گر جانتا ہے مثلا ” اوسلو میں ، میں اور وہ  ” میں لکھتے ہیں ” ہم تمام عمر زندگی کو اپنی ڈھب پر لانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور زندگی ہمین اپنی راہ اختیار کرنے کی دعوت دیتی رہتی ہے ۔۔۔ نہ وہ ہار مانتی ہے نہ ہم تھکتے ہیں ، بس فرق یہ ہے کہ اگر پلڑا ہمارا بھاری رہتا ہے تو کس قدر اطمینان رہتا ہے ۔۔ وگرنہ ایک خلش رہتی ہے ۔۔ جو تمام عمر بات بے بات ٹھنڈی آہیں بھرنے کا سبب رہتی ہے ” ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک افسانہ نگار اس وقت تک بڑا افسانہ نہیں لکھ سکتا جب تک اس کی نظر مجاز کے پردے میں حقیقت کو تلاش کرنے کا حوصلہ نہ رکھتی ہو اور  علی کے ہاں یہ حوصلہ نظر آتا ہے۔

ہمارا معاشرہ جو کہ طاقت کا معاشرہ ہے اس کی تصویر کشی افسانے”  چکر ” اور “اشرف الحیوانات”  میں نظر آتی ہے جس میں تعلیم یافتہ نوجوان تعلیم سے مایوس ہو کر انگوٹھا چھاپ اور شیر کی کھال میں لومڑ حکومت کرتے نظر آتے ہیں ۔ طاقت کے معاشرے میں اپنے منظور نظر افراد کو نوازا جاتا ہے  تو شیر نما لومڑ بھی اپنے حامیوں میں قیمتی پتھر تقسیم کرتا نظر آتا ہے ۔

افسانہ “دائرے کا سفر”  انسان کی اپنی جنم بھومی سے محبت کا عکس ہے ۔ انسان جہاں پیدا ہوتا ہے اس کا ماحول چاہے وہ چولستان کا صحرا ہو یا قطب شمالی کا برف زار ، اس کی جھاڑیاں ، ہوا ، پھول اور جانور یادوں کے درخت بن کر اپنی جڑیں انسان کے اندر اتنی گہری اتار لیتے ہیں کہ پھر  اسے چھوڑ کر جانے کی سزا کے طور پر برلن شہر پہ بھی  کیچڑ میں لتھڑا ہوا سعید آباد کا گاوں کسی دلآویز آویزے کی طرح جھلملا کر برلن کی چمک کو ماند کر دیتا ہے ۔

مصنف کی زبان سادہ ، خیال میں ندرت  اور بیان میں روانی پائی جاتی ہے ۔ ان کے بقول وہ وہی لفظ استعمال کرنا پسند کرتے ہیں جس کا مطلب کسی لغت میں جھانک کے نہ دیکھنا پڑے یا کسی دوسرے سے پوچھنا پڑے ۔ ان کا یہ انداز انہیں نئی نسل میں مقبول بناتا ہے جس کا اندازہ ان کے بلاگ پر مہمانوں کی آمد کے ضرب پیما سے بھی ہوتا ہے ۔

ایک سوانسٹھ صفحات پر مشتمل یہ افسانوی مجموعہ الہی پبلیکیشنز کراچی نے 2013 میں  چھاپا ہے اور ڈھائی سو روپے قیمت کچھ زیادہ نہیں ہے ۔ البتہ چونکہ مجموعے میں شامل زیادہ تر افسانے علی کے بلاگ پر پہلے سے چھپ چکے ہیں تو مجموعے کی قیمت یوں کچھ زیادہ محسوس ہوتی ہے ۔ امید ہے کہ آئندہ چھپنے والے مجموعے میں تمام تر غیر مطبوعہ افسانے شامل ہوں گے ۔  میری دعا ہے کہ علی کا یہ سفر جاری رہے اور روزگار کے دیو نے  اگر انہیں اچک کر کوچہ ادب سے دور نہ کر دیا تو اس بات کی پھر پور امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں ایک نوجوان  اردو افسانہ نگار کے طور پر اپنا مقام بنانے میں یقیننا کامیاب ہوں گے ۔

Facebook Comments

 
  1. یاسر خوامخواہ جاپانی

    26/09/2013 at 5:43 AM

    آپ کے الفاظ کی خوبصورتی نے علی کے پڑھے ہوئے بلاگی افسانے دوبارہ پڑھنے کا اشتیاق پیدا کر دیا۔

     
    • علی

      26/09/2013 at 4:32 PM

      یہ نہ جو کتاب منگوا لیں کسی کو کہہ دیں کہ 250 روپے خرچ کے بابو کتاب کسی ہاتھ جاپان بھیجوا دو۔
      توبہ۔۔۔۔

       
  2. علی

    26/09/2013 at 4:32 PM

    بہت بہت شکریہ ریاض بھائی۔ اللہ خوش رکھے

     
  3. جویریہ

    26/09/2013 at 6:55 PM

    جتنی اچھی کتاب اتنا اچھا تبصرہ

     
  4. سکندر حیات بابا

    26/09/2013 at 9:07 PM

    کوئی الله کا بندہ اسے بھیج دے مجھے
    ؂ڈ

     
  5. زین

    26/09/2013 at 11:02 PM

    عمدہ تبصرہ کیا ہے۔

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی