RSS
 

بین اخویکم

3,237 views --بار دیکھا گیا

25 Sep 2013

انٹر نیٹ اور عملی زندگی کی گفتگو  میں اکثر دوست بلوچستان کے حالات  بارے میں  فکر مندی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں ۔ وہ وہاں کے لوگوں اور نوجوانوں کے مرکزی حکومت اور دوسرے صوبوں کے عوام خصوصا پنجاب سے شکایات کو دور کرنے کی خواہش کرتے ہیں ۔ لیکن انہیں سمجھ نہیں آتا ہے کہ ان حالات کو بہتر بنانے میں کیا عملی مدد کر سکتے ہیں ۔

منگل کی سہ پہر بلوچستان میں آنے والے زلزلے کے دوران میں خوش قسمتی سے عمارت سے باہر کھڑا تھا کہ میرے ساتھ کھڑے صاحب نے بتایا کہ زلزلہ آ رہا ہے کیونکہ درخت زور سے لہرا رہے تھے اور اس وقت ہوا بھی نہیں چل رہی تھی ۔  اگرچہ ہم اور ہمارے ارد گرد کے علاقے تو محفوظ رہے لیکن بی بی سی اور دوسرے نشریاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق زلزلے میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ آوارن کا شہر اور اس کے ارد گرد کا علاقہ ہے

ہمارے ساتھی بلاگر زین خان جو کہ آواران  شہر بذات خود نقصان کی رپورٹنگ کرنے گئے ہیں  ان کی اطلاع اور  آواران کی انتظامیہ کے مطابق اب تک دو سو دس اموات اور تین سو سینتیس افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ اسی طرح تربت کے علاقے کیچ میں پینیتیس اموات اور اور اسی افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ پراپرٹی کو ہونے والا نقصان یقیننا زیادہ شدید ہوگا جس کی بحالی میں شاید مہینوں نہیں برسوں درکار ہوں گے ۔

بطور پاکستانی ، مجھے پاکستانیوں کی ،  ملک میں قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والی تباہی  میں متاثرہ لوگوں  کی دامے درمے سخنے امداد کرتے دیکھ کر ہمیشہ فخر ہوا ہے ۔ مجھے وہ پاکستانی بھی نہیں بھولتے جو دو ہزار دس کے سیلاب میں صرف امدادی کاموں میں حصہ لینے پاکستان آئے اور پھر امدادی سامان کے ہمراہ دور دراز علاقوں کا سفر طے کیا ۔ مجھے وہ نوجوان بھی نہی بھولتے جو آنکھوں میں چمک لیئے امدادی کاموں کی ہر صعوبت برداشت کرنے کو تیار تھے اور عملی طور پر بھر پور حصہ لیا ۔

اگرچہ سرکاری ادارے امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان اداروں کیے اپنے محدودات ہوتے ہیں ۔ آئیے اپنے پاکستانی بھائیوں کی اس مشکل گھڑی میں مدد کریں چاہے وہ اس قدر کم کہ بسکٹ کا ایک ڈبہ ہی  کیوں نہ ہو ۔ ہمارے چاروں طرف نفرت  ،تباہی اور اجل کے رقص کرتے دیوتاوں  کے درمیاں یہ ثابت کر دیں کہ ہم اندر سے کتنے باصلاحیت ، محبت کرنے والے اور خوبصورت قوم ہیں اور بلوچوں کو بھی یہ احساس دلا دیں کہ پاکستان کے عوام ان سے حقیقی محبت کرتے ہیں ۔

Facebook Comments

 
  1. یاسر خوامخواہ جاپانی

    25/09/2013 at 5:06 PM

    انشاء اللہ
    ان کا حق انہیں ضرور ادا کریں گے۔

     
  2. عظيم جاويد

    25/09/2013 at 7:04 PM

    خوشی کی بات ہے کہ احساس کی رمق کہیں تو باقی ہے۔

     
  3. فرحان دانش

    25/09/2013 at 7:25 PM

    ہماری شہر سے تو وافر مقدار میں امدادی سامان روانہ ہو چکا ہے۔ انشاء اللہ کل تک آواران پہنچ جائے گا۔