RSS
 

کئی چاند تھے سر آسماں

4,863 views --بار دیکھا گیا

13 May 2013

تلاش کسی نئے ناول یا افسانوی مجموعے کی تھی ، اسی دھن میں شیلف کو ایک سرے سے دوسرے تک دیکھ ڈالا تھا۔ ایک ناول پر ہاتھ پڑا ، کئی چاند تھے سر آسماں ، مصنف شمس الرحمان فاروقی ۔ درمیان سے کھول کر جلدی سے دو چار ورق پلٹے ، کسی وزیر خانم کے حسن کی تعریف میں دو صفحے سیاہ تھے ، کسی نواب کے اشارے تھے ،اور کسی وزیر بیگم کے حسن غمزے،پالکی ، نالکی ، برچھیت ، چوبدار ، نذر ، اشعار اور فرشی سلام و تسلیمات ، تحائف ، فارسی اور اردو اشعار کی بھرمار۔ میں نے دل میں سوچا یہ ناسٹلجیا کے مارے ہمارے ادیب کب امراو جان ادا کے سحر سے باہر نکلیں گے۔ میں نے انقباض کی کیفیت میں ناول واپس رکھ دیا ۔ اس کے کچھ عرصے بعد گوگل ہینگ آوٹ کے دوران حال دل کے بلاگر جعفر حُسین نے سوال کیا کہ کیا میں نے یہ ناول پڑھا ہے تو مجھے اعتراف کرنا پڑا کہ نہیں پڑھا ۔ اگلے دن جا کر ناول لایا اور اس لیئے پڑھنا شروع کیا کہ آئندہ تبادلہ خیال میں آسانی رہے ۔ لیکن جوں جوں ناول پڑھتا گیا ناول نے اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیا حتی کہ ختم کر کے دوبارہ پڑھا ۔ توسوچا کہ کچھ اس بارے اپنے بلاگ پر بھی ڈال دیا جائے ۔

ناول کا خلاصہ

ناول میں ہندوستان کا ۱۸۱۱ سے لے کر ۱۸۵۶ تک کا عہد بیان کیا گیا ہے ۔ ناول کا مرکزی کردار وزیر خانم (پیدائش ۱۸۱۱) ہیں جو مشہور اردو شاعر نواب مرزا خان داغ دہلوی کی والدہ محترمہ تھیں ۔ لیکن وزیر خانم کے اجداد دلی کے نہیں تھے بلکہ راجھستان کے گاوں ہندالولی (ہند الولی شیخ معین الدین چشتی کے نام سے موسوم ) گاوں کے چتیرے (مصور) تھے ۔ شو مئی قسمت کہ ان کے جد امجد میاں مخصوص اللہ نے ایک خیالی تصویر بنائی اورکشن گڑھ کے راجہ کی گاوں میں آمد کی خوشی اور اپنے فن کے اظہار کے لیئے faruqis-novelآویزاں کر دی لیکن اتفاقا تصویر ہو بہو راجہ کی بیٹی سے ملتی تھی ۔ راجہ نے تصویر دیکھ کر اپنی بیٹی کو اس تصویر کے نیچے اس شبہے میں قتل کر دیا کہ اس نے شاید پاوں گھر سے باہر نکال کر خاندان کی آن اور شان کو بٹہ لگایا ہے۔ راجہ کے حکم سے میاں مخصوص اللہ کا گھرانہ جلاوطن ہو کر کشمیر آ گیا ۔ وہاں انہوں نے لکڑی پر نقاشی کا کام سیکھا لیکن اس میں دل نہ لگا تو قالین بافی کی تربیت جسے “تعلیم ” کہتے تھے دس سال لگا کر سیکھی حتی کہ اس ہنر کے امام کہلائے لیکن راجھستانی چتر کاری کی چاہ ہمیشہ ان کے دل میں کسی شوریدہ ندی کی طرح سر مارتی رہی تھی ۔ آخر ایک دن وہ اپنی ایک پرانی تصویر جس کا نام “بنی ٹھنی ” تھا کو ہاتھ میں لیئے جنگل میں جا بیٹھے اور محویت کے عالم میں سردی سے فوت ہو گئے ۔ ان کے تین بیٹے تھے ، داود یعقوب اور یحیی ۔ یحیی تو فوت ہو گئے لیکن بقیہ دو کے دل میں اپنے پرانے وطن کی محبت جوش مارنے لگی تو وہ سب کچھ بیچ باچ عازم راجھستان ہوئے اور وہاں دو یتیم لڑکیوں سے شادی کر کے فرخ آباد میں جا آباد ہو گئے اور کپڑوں پر قلم کاری کا کام کر کے روزی کمانے لگےاور ان کا ایک بیٹا محمد یوسف پیدا ہوا۔ ان دنوں دلی پر مرہٹوں کا قبضہ تھا ۔ انگریزوں نے فرخ آباد کے نواب مظفر جنگ پر فوجی دباو ڈالا تو وہ ایک لاکھ روپے پنشن کے عوض فرخ آباد سے دستبردار ہو گئے ۔ فرخ آباد سے گذر کر اب انگریز دلی پر قبضہ جمانے کی کوشش کرہے تھے ۔ داود اور یعقوب اپنے خاندان کے ہمراہ دولت حاصل کرنے کے لالچ لے کر انگریزی لشکر میں بطور سوداگر شامل ہو گئے ۔ جب انگریزوں نے مرہٹوں کو دہلی سے نکالنے کے واسطے ۱۸۰۳ میں حملہ کیا تو مرہٹوں کی جوابی گولہ باری میں سوائے محمد یوسف کے خاندان کے باقی افراد مارے گئے ۔ انگریزی فتح کے بعد محمد یوسف کی پرورش لشکر میں شامل ایک ڈیرہ دار طوائف اکبری نے کی جو دلی مقیم ہو گئی تھی ۔ اکبری نے محمد یوسف کی شادی اپنی بیٹی اصغری سے کر دی اور یوں محمد یوسف سادہ کاری کا پیشہ اختیار کر کے اپنے علیحدہ گھر میں رہنے لگے ۔

محمد یوسف کے ہاں تین بیٹیاں ہوئیں ، انوری خانم عرف بڑی بیگم ، عمدہ خانم عرف منجھلی بیگم اور وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم ۔ یہی چھوٹی بیگم اس ناول کی ہیروئن ہیں ۔ بڑی بیگم کی شادی مولوی نظیر صاحب سے ہوئی اور منجھلی بیگم نے رام پور کے شہزادے کے نواب یوسف علی خان کی ملازمت اختیار کی ۔ البتہ وزیر خانم کے خواب بہت اونچے تھے اور اپنے حسن کا احساس بھی تھا ۔ وزیر جب پندرہ برس کی تھیں تو ان کی والدہ اصغری اچانک بیمار پڑیں اور وفات پا گئیں ۔ وزیر خانم اپنے والد کے ہمراہ نظام الدین اولیا کے مزار پر حاضری دی کر بہل میں واپس آ رہی تھیں کہ اچانک ایک ویرانے میں آندھی آ گئی اور بہل کا دھرا ٹوٹ گیا ۔ اس ویرانے اور آندھی کے عالم میں پولیٹیکل سروس کا ملازم ایک انگریز مارسٹن بلیک اپنے نوکروں کے ہمراہ سرراہ مل گیا اور انہیں بحفاظت ان کے گھر پہنچایا ۔ وزیر خانم اور مارسٹن بلیک کی آشنائی بڑھی تو وزیر خانم اپنے والد سے ضد کر کے بلیک کے ہمراہ جے پور آ گئی جہاں بلیک اسسٹنٹ پولیٹیکل آفسر تھا ۔ اس وقت وزیر خانم کی زندگی عیش و عشرت سے معمور تھی ، عالی شان گھر ، اٹھاون نوکر اور روپے پیسے کی فراوانی کے علاوہ بلیک وزیر خانم سے شادی رچانے کا بھی وعدہ کر چکا تھا۔ پولیٹیکل افسر جب چھٹی گئے تو بلیک قائم مقام بنا ، انہیں دنوں مقامی راجہ کی وفات ہوئی اورراجہ کی جانشینی کے مسئلے مارسٹن بلیک رعایا کے ہاتھوں قتل ہو گیا ۔ کمپنی نے وزیر خانم کو بلیک کی جائز منکوحہ ماننے سے انکار کر دیا ، بلیک کے بہن بھائیوں نے وزیر سے اس کے بچے مارٹن اور صوفیہ لے لیئے اور اس کے عوض اسے کچھ سامان اپنے ہمراہ لے جانے کی اجازت دے دی ۔ وزیر واپس دلی پہنچ کر بیوگی کے دن کاٹنے لگی اس وقت اس کی عمر انیس سال کچھ مہینے تھی ۔

نواب یوسف علی خان کی مرضی سے وزیر بیگم دلی کے ریذیڈنٹ ولیم فریز کی کوٹھی پر ایک دعوت میں شریک ہوئی جہاں اس کی ملاقات مرزا غالب ، ولیم فریزر ، کچھ انگریز خواتین اور والئی فیروزپور جھرکہ نواب شمس الدین سے ہوئی ۔ نواب شمس الدین نے مالاقات کے دوسرے ہی دن وزیر کے گھر آ کر تعلق کو بڑھاوا دیا اور کچھ عرصے بعد ۱۸۳۰ میں وزیر نے نواب کی ملازمت اختیار کر لی نواب سے وزیر کے ہاں مرزا داغ دہلوی نے جنم لیا ۔ ولیم فریزر بھی وزیر کو حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن وزیر نے اسے بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا تھا ۔ رنج میں ولیم نے نواب شمس الدین کی سرعام تضحیک کی جس کا بدلہ لینے نواب شمس الدین نے ولیم کی کوٹھی پہنچ کر اسے دھمکانے کی کوشش کی ۔ ولیم نے نواب سے فیروز پور کی ریاست لے لی تو نواب شمس الدین نے ولیم کو اپنے ایک وفادار کے ذریعے قتل کروا دیا ۔ بعد از تفتیش نواب کو پھانسی ہوئی تو وزیر ایک بار پھر بیوہ ہو گئی

کچھ عرصے بعد ۱۸۴۲ وزیر کا نکاح رام پور کے داروغہ فیل خانہ تراب علی سے ہو گیا جس سے ایک بیٹا شاہ محمد آغا پیدا ہوا لیکن تراب علی ہاتھی خریدنے کے سلسلے میں ۱۸۴۴ دوران سفر ٹھگوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے تو وزیر ایک بار پھر بیوہ ہو گئی اور اپنے بیٹے کو لے کر دلی آگئی ۔ یہاں مرحوم نواب شمس الدین کے حریف نواب ضیا الدین نے سلسلہ جنبانی کی کوشش کی لیکن وزیر نے ٹھکرا دیا ۔

بہادر شاہ ظفر بادشاہ کے تیسرے بیٹے مرزا فتح الملک بہادر عرف مرزا فخرو نے وزیر کے حسن کے چرچے سنے تو شاہی چترکار سے کہ کر وزیر کی تصویر بنوائی جو کہ کسی پرانی تصویر کی نقل تھی ۔ تصویر دیکھ کر شہزادہ وارفتہ ہو گیا۔ مرزا فخرو نے بادشاہ سے اجازت لے کر وزیر سے نکاح کر لیا اور یوں وزیر شاہی محل میں آ گئی ۔ لیکن بادشاہ کی نو عمر بیگم زینت محل کو وزیر بیگم اس لیئے پسند نہیں تھیں کہ اپنے بیٹے کو ولی عہد بنانا چاہتی تھیں ۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ پہلے اور دوسرے ولی عہد وفات پا گئے تو ۱۸۵۲ مرزا فخرو ولی عہد بن گئے ۔ زینت محل کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی ۔ لیکن مرزا فخرو بھی ۱۸۵۶ کو ہیضہ میں مبتلا ہو کر ملک راہی عدم ہوئے تو زینت محل نے وزیر بیگم اور مرزا داغ کو محل سے نکال دیا اور وہ رام پور چلے گئے ۔

اظہار خیال

ناول کیا ہے تاریخ کی چادر میں بُنا ہوا انیسویں صدی کی ہند اسلامی ، انسانی اور تہذیبی و ادبی سروکاروں کا مرقع ہے ۔ مصنف ہر منظر کو اتنی تفصیل اور وضاحت سے پیش کرتا ہے کہ اس زمانے کا نقشہ آئینہ ہو کر سامنے آ جاتا ہے اور ، محرم کی مجالس کا احوال ، دربار اور محلات کی سازشیں ، شاعری اور موسقی کی محفلیں ، شکار اور خاصہ تناول کرے کے طریقے ، اردو اور فارسی زبان کی نزاکتیں ،ٹھگوں کی کارستانیاں ،یوان حافظ سے فال نکالنا ، امام ضامن باندھنا وغیرہ اور اس زمانے کی اشیاء کے وہ نام جو اس زمانے میں مستعمل تھے یوں بیان ہیں  کہ انسان ناول کے کرداروں کے ہمراہ انہیں گلیوں ، حویلیوں ، بازاروں اور درباروں میں میں چلتا پھرتا محسوس کرتا ہے جو اب خس و خاشاک ہو چکے ۔آج کے قاری کی آنکھ میں آپ ان ہندوستانی کرداروں کے لیئے کے لیئے کہیں ستائش اور کہیں تضحیک بآسانی محسوس کریں گے جوشاید انگریز ان کے لیئے محسوس کرتا تھا ۔ مثلا ایک جگہ مسٹر بلیک وزیر بیگم سے کہتا ہے کہ  ہندوستانی چور اور جھوٹے ہوتے ہیں ۔

اسی طرح بادشاہ سلامت نے زبردست کا ٹھینگا سر پر کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرہٹہ سپہ سالار مادھو راو سندھیا کو فرزند دلبند ، وکیل مطلق ، مدارالمہام ، عالی جاہ کے خطابات اور نائب السلطنت مقرر کیا ۔ اسی طرح ذرا تھامس مٹکاف ریذیڈنٹ دہلی کو عطا کیئے گئے کے خطابات ملاحظہ فرمائیے ۔ فدوی خاص و فرزند ارجمند سلطانی معظم الدولہ امین الملک اختصاص یار خان ٹامس تھیا فلس مٹکاف صاحب بہادر فیروز جنگ ایجنٹ نواب گورنر جنرل بہادر مختار امور سرکار دولت مدار کمپنی انگریز بہادر و صاحب کمشنر بہادر مال و دائر سائر علاقہ دارالخلافہ شاہجہان آباد ۔

بادشاہی تو برائے نام ہی تھی لیکن ذرا بادشاہ سلامت  بہادر شاہ ظفر کے القابات ملاحظہ ہوں ، حضرت ظل سبحانی، خلیفہ الرحمانی، بادشاہ جمجاہ، ملائک سپاہ شہریار ظل اللہ ، پناہ دین محمدی ، رونق افزائے ملت احمدی ، سلالہ خاندان گورگانی ، نقاوہ دودمان صاحب قرانی ، خاقان المعظم ، شہنشاہ الاعظم، الخاقان ابن خاقان ، السلطان ابن سلطان ، صاحب المفاخر و المغازی ، ولی نعمت حقیقی و خداوند مجازی ، ابوالمظفر سراج الدنی والدین محمد بہادر شاہ غازی ، خلداللہ ملکہ و سلطانہ ، افاض العالمین برہ و احسانہ ۔

وہ زمانہ ایسا تھا کہ ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی تھی ، جس کا بس چلتا تھا جو شے چاہتا تھا اپنے تصرف میں لے آتا تھا ۔محل سے نکلنے کا حکم سن کر وزیر بیگم اپنے بیٹے کے اس اصرار پر کہ وزیر کو اپنے حق کے لیئے ضرور کوشش کرنء چاہئیے تو زہر خند لہجے میں کہتی ہیں ” حق کیا شے ہے صاحب عالم ؟ ساری زندگی حق کی ہی جویا رہی ہوں ، وہ پہاڑوں کی کھوہ میں کہیں ملتا ہو تو ملتا ہو ورنہ اس آسمان تلے تو کہیں نہیں دیکھا گیا ”

اس زمانے کے لوگوں کو احساس ضرور تھا کہ گذری ہوئی شان و شوکت اب واپس نہیں آ سکتی اور انگریز کو اس ملک سے نکالنا اب ممکن نہیں ہے ۔نواب شمس الدین کا مقدمے میں طلبی کے سلسلے میں روانگی سے پہلے اپنی بیگم کو جواب سے ہوتا ہے “آپ نے شاید اس معاملے کو ٹھیک طرح سے خاطر نشین نہیں کیا ہے ، میں کہیں اور بھی چلا جاوں تو آپ رحم و کرم فرنگی کے ہی رہیں گی سارے ہندوستان جنت نشان پر شیطان کا سایہ ہے ، میں جہاں جاوں گا یہ سایہ مجھ پر مسلط رہے گا ۔ میں اگر یہاں رہا تو لُٹیرے فرنگیان آج نہیں تو کل چڑھ دوڑیں گے ، لوہارو تو وہ لے ہی چکے ہیں ، فیروزپور مقابلہ ان کا کیا کرے گا ، مگر تابہ کے ؟ ایک دن سپر ڈالنی ہو گی۔ اس دن میں نہ ہوں گا ۔ پھر وہ سلوک بھی آپ لوگوں کے ساتھ نہ ہوگا جو ٹیپو شہید کے گھر والوں کے ساتھ ہوا ”

دلی کی تہذیب کی اہم خصوصیت شاعری کو ذریعہ اظہار بنانا تھا کہ معزز افراد عام گفتگو میں بھی فارسی اور اردو کے اشعار جا بجا ٹانکتے تھے ، ناول کی ہیروئن کی زندگی اگرچہ کشاکش میں گذری لیکن ان کا شعری ذوق کسقدر بلند تھا اس کا اندازہ ان کی اس غزل سے ہوتا ہے

وزیر خانم المتخلص زہرہ دہلوی کی ایک غزل سراج اورنگ آبادی کی مصرعہ طرح پر

ہے زلف یار حلقہ زنجیر ہو بہو

رکھتی ہے آنکھ سحر سی تاثیر ہو بہو

اس کے بیاض رخ پہ وہ نور سحر کی چھوٹ

چھلکا پڑے ہے رنگ طباشیر ہو بہو

اس کوچے میں دل اپنا چھوڑ آئے ہم

جنت سی ایک ہے وہیں تعمیر ہو بہو

بالیں پہ میری شمع رخ یار وقت نزاع

جیسا تھا خواب ویسی ہے تعبیر ہو بہو

گم گشتہ دشت شب میں وہ ننھی سی آبجو

ہے میرے بخت خفتہ کی تصویر ہو بہو

تاب نظارہ کس کو ہے گلشن میں صبح کے

اس کا جمال مہر کی تنویر ہو بہو

اس پائے مرمریں پہ نہیں برگ گل کا داغ

منشور شہ پہ زر کی ہے تحریر ہو بہو

چند رسوم کا  کا احوال

تسلیم اور کورنش۔ :تسلیم ادب کا ایک قرینہ تھا جس میں ملاقاتی ذرا سا جھک کر دایاں ہاتھ زمین پر اس طرح رکھتا کہ ہٹحیلی کا رخ اوپر کی طرف رہتا پھر کمر کو سیدھا کرتے ہوئے ہاتھ کو اُٹھا کر سر پر رکھتے تھے ۔ منہ سے کچھ بولنا ممنوع تھا ۔ میزبان اعلی حضرات جواب میں ایک تسلیم اور بعد میں دل پر ہاتھ رکھ کر تسلیم کا جواب دیتے تھے ۔ تسلیم کا رواج عام تھا۔ تسلیم کے برعکس کورنش میں صرف بادشاہ کے لیئے مخصوص تھی اس میں دائیں ہتھیلی کو پیشانی پر رکھتے تھے اور پھر سر کو جھکا لیتے تھے ۔

اردا بیگی (پروٹوکول اسکورٹ) یا قلماقی (خاتون باڈی گارڈ )۔: کی خدمت پر جو عورتیں  حویلیوں اور قلعہ میں نوکر رکھی جاتی تھیں وہ عموما علاقہ سندھ یا کاٹھیاواڑ کی زنگن ہوتی تھیں ۔ نہایت گٹھے ہوئے بدن کی ، بنوٹ ، طمنچہ بازی اور چاقو زنی میں طاق یہ عورتیں بادوی میں بھی ماہر ہوتیں اور نقش قدم اور دوسرے نشانات کی مدد سے مفرور مجرم یا چور کا پتہ لگانے میں بھی بے حد مشاق تھیں ۔ بعض بعض حولیوں میں ترکنیں بھی رکھی جاتی تھیں ۔ اردا بیگنیوں کے بر خلاف جو مردانہ لباس پسند کرتی تھیں ، ترکنیں ہمیشہ اپنے ملک کا زنانہ لباس پہنتی تھیں ، لمبی تڑنگی ، نہایت گوری گلابی رنگت اور بڑی بڑی بادامی آنکھیں ، بے حد سیاہ یا سنہرے چمکیلے بالوں والی یہ سورما عورتیں جس قدر دلکش تھیں اسی قدر جرآت اور جفا کشی اور سفاکی میں بھی مشہور تھیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ترکن دس مردوں پر بھی بآسانی قابو پا لیتی تھی اور میدان جنگ میں غنیم پر پنجہ قابض ہو جانے پر اسے قیدی بنانے کی بجائے وہیں اس کی تکہ بوٹی کر ڈالتی تھیں ۔ یہ عورتیں ازبک اور قزاق قوم کے ہی مردوں سے رشتہ مناکحت قائم کرتی تھیں اس لیئے کئی نسلیں گذرنے پر بھی ان کی نسلی اور لسانی خصوصیات پہلے کی طرح برقرار تھیں ۔

ناول میں یوں تو کردار دوران گفتگو کئی محاورے استعمال کرتے ہیں ، بطور نمونہ دو یہاں درج ہیں ، ماں کا پیٹ کمہار کا آوا کوئی گورا کوئی کالا ، ایک توے کی روٹی کیا پتلی کیا موٹی ۔ اسی طرح مختلف اشاء میں روشنی کے لیئے چند ایک اشیاء یہ تھیں ۔

مشعلہ ۔ مشعل کی لکڑی سے ذرا چھوٹی لکڑی کے ایک سرے پر پیتل کا گہرا پیالہ نصب کر دیتے تھے پھر مشعل جلانے کا سامان مثلا سرسوں کے تیل کی گاڑھی تلچھٹ یا روغن نفت میں تر کیا موٹا چیتھڑا اس میں یوں رکھتے تھے کہ پیالے کی کور اس کے لیئے اوٹ کا کام کرتی تھی لہذا اس کا شعلہ ہوا سے بجھتا نہ تھا ۔

دستی ۔ مشعلے سے بھی چھوٹی مشعل

بادبان۔روشنی کے لیئے ایسا فانوس جو چاروں طرف سے بند ہو لیکن جس میں ہوا کے لیئے ننھے ننھے سوراخ ہوں اور جسے ہاتھ میں لیا جا سکے۔

ناول کا اختتام آلیور گولڈ سمتھ کے شعری مجموعے “مسافر” کی نظم “اختتامیہ ” سے ہوتا ہے ۔

“میری جوانی کے دن دربدری میں گئے ، اور فکر و الم میں ،

نہ تھمنے والے قدموں کے ساتھ کسی خیر گریز پا کے تعاقب پر مجبور ،

وہ جو اپنی جھلک دکھا دکھا کر میرا منہ چڑاتا رہتا ہے ۔”

ناول  اگرچہ تاریخ کی کتاب نہیں ہے لیکن مصنف تاریخی صحت کا خیال رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ، ناول کے آخر میں ان انگریزی اور اردو کتابوں کی فہرست دی گئی ہے جن سے مصنف نے استفادہ کیا ہے ۔ ان کتابوں میں سے کچھ کتابیں بہت نایاب اور تقریبا عنقا ہو چکی ہیں ۔ پاکستان میں یہ ناول شہرزاد بی ۔ 155 بلاگ 5 گلشن اقبال کراچی نے سن 2006 میں  چھاپا ہے ۔ 830 صفحات کی قیمت چھ سو روپے بہت مناسب ہے ۔ اس ناول کا ایک ایڈیشن پینگوئن بکس نے  بھی شائع کیا ہے. مجموعی طور یہ ناول ادبی اور تاریخی لحاظ سے ایک قابل قدر کاوش ہے  اور اُس تہذیب کی عالم پیری اور طوائف الملوکی کے عالم میں بھی خیرہ کن چمک کی کرنوں کا دکھلاوا ہے جس سے آج بھی دل روشن ہو جاتا ہے ۔

Facebook Comments

 
  1. بے نام

    13/05/2013 at 2:41 PM

    زبردست جناب۔
    ایک بار یہ ناول نظروں میں آیا تھا لیکن اتنا ضیغم لگا کہ ہمت نہیں ہوئی شروع کرنے کی۔
    آپ کا لکھا ہوا خلاصہ پڑھ کے ارادہ باندھ رہے ہیں۔۔۔ اور نیکی تو ارادے کی بھی ہوتی ہے :ڈ

     
    • محمد ریاض شاہد

      13/05/2013 at 7:35 PM

      شکریہ
      برسبیل تذکرہ اس ناول کا نام احمد مشتاق کے اس شعر سے لیا گیا ہے
      کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے
      نہ لہو میرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی

       
  2. عدنان مسعود

    13/05/2013 at 6:51 PM

    بہت عمدہ،آپ کے تبصرے نے تو سماں باندھ دیا ہے۔ اب تو یہ ناول ضرور پڑھنا پڑھے گا۔ فیکٹ اور فکشن کا مجموعہ ڈیول ان دی وائٹ سٹی آج کل زیر مطالعہ ہے، کئی چاند تھے سر آسماں بھی لگتا ہے اسی صنف سے تعلق رکھتا ہے۔

    پینگوئن بکس والا مجموعہ بیرون ملک حضرات کہاں ہے منگوا سکتے ہیں، کچھ علم ہے آپکو؟

     
    • محمد ریاض شاہد

      13/05/2013 at 7:33 PM

      میں نے بھی نیٹ پر پڑھا ہے اس کتاب کا آئی ایس بی این 0143099760 ہے اور پینگوئن انڈیا نے شائع کیا ہے لیکن پینگوئن انڈیا کی ویب سائٹ پر اس کا تذکرہ کہیں نہیں ملتا غالبا آوٹ آف سٹاک ہو گا ۔ آپ شہرزاد کراچی سے اس بارے مزید معلومات لے سکتے ہیں
      info@scheherzade.com

       
  3. راجہ اکرام

    15/05/2013 at 5:28 AM

    السلام علیکم
    بہترین تبصرہ کیا ہے آپ نے اور یہ تحریر پڑھنے کے دوران و بعد دل نے بارہا ارادہ باندھا اسے پڑھنے کا لیکن صفحات کی تعداد اور ناول کی ضخامت ہر بار سد راہ بنی اور ارادے متزلزل ہو گئے۔
    لیکن لگتا ہے دل ناتواں کو خمیرہ گاؤزبان کھلا کر مضبوط کرنا پڑے گا

     
  4. محمد بلال اکرم کاشمیری

    23/06/2013 at 1:42 AM

    محترم جناب !
    اسلام علیکم !
    بعد از سلام و تسلیم کے عرض ہے کہ آپ کا رواں تبصرہ پڑھنے کے بعد محسوس ہوا کہ یہ ناول پڑھنا بے حد ضروری ہے کہ اس میں جنت نظیر کا ذکر آیا ہے۔براہ کرم آپ بتا سکتے ہیں کہ اسے کہاں سے ڈائون لوڈ کیا جاسکتا ہے۔اگر آپ لنک بھی بتا دیں تو ہم آپ کے شکر گزار ہونگے۔

     
  5. محمد عارف سومرو

    27/09/2014 at 12:03 PM

    متذکرہ بالا ناول کا کون سا ایڈیشن اغلاط سے پاک اور چھپائی میں معیاری ہے؟

     
  6. محمد عارف سومرو

    30/09/2014 at 2:09 PM

    شکریہ۔
    میں نے پینگوئن بکس انڈیا کا ایڈشن خریدا ہے کیونکہ شہرزاد کراچی کا ایدیشن تو بعد میں بھی مل جائے گا لیکن پینگوئن بکس انڈیا کا ایڈشن بعد میں مشکل سے دستیاب ہو گا۔

     
  7. Junaid alam

    13/12/2015 at 1:40 AM

    Jnab apka tabsira b dekha aur Dr. Ahmad mahfuz Sahab ka tabsira b dekha dono bht si chizo ki mumasilat h aur kuch chezin alg b hain aslme ye Nobel tahzibi ,muashrati aur tarikhi nuqta nazar se dekha jaye to bht aham h .aur sabse khas bat ye h k isme musannif ne bht mahnat ki h …lgta h iski shohrat mje is Nobel ko padhwa kr Hi rahegi
     
  8. رشید احمد

    15/03/2016 at 11:49 PM

    کیا اس ناول کی سافٹ کاپی ہے کسی کے پاس جو ہمیں پڑھنے کیلئے عنایت کریں۔
    اس ای میل پر ارسال کریں مھربانی ہوگی
    ahmadrashidkhan@gmail.com

     
  9. زین خان

    05/06/2016 at 2:33 PM

    تقریبا نصف صدی کے بعد یہ ایک ناول چھاپا گیا ہے– دوسرے ناول کا انتظار کون کرے– تب تک اردو دفن ھوجائے گی–
    زین خان

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی