RSS
 

خس و خاشاک زمانے

2,225 views --بار دیکھا گیا

22 Aug 2012

میرے نزدیک کسی بھی معاشرے کی مقیاس دوسری علامات کے علاوہ اس کا ادب بھی ہوتا ہے ۔ ادیب بنیادی طور پر معاشرے کا وہ تھرما میٹر ہوتا ہے جس پر معاشرے کا درجہ حرارت ناپا جا سکتا ہے ۔ بے جان معاشرے میں سب سے پہلے علم و ادب کو دیس نکالا دیا جاتا ہے کیونکہ انہیں اس کی ضرورت نہیں ہوتی اور پھر کوئی حرف قم باذن اللہ انہیں اس نیند سے جگا نہیں سکتا جس میں وہ بخوشی مبتلا ہوئے ہوتے ہیں ۔ مجھے پاکستان میں رہتے ہوئے ہمیشہ نئے اردو ادبی ناولوں کا انتظار رہتا ہے اور کسی بھی نئے اور ادبی لحاظ سے توانا ناول کی آمد میرے اندر امید کی ایک نئی جوت جلا دیتی ہے کہ ابھی ہم مکمل طور پر مردہ نہیں ہوئے ۔

پوسٹ کا عنوان بھی مستنصر حسین تارڑ کے2010 میں شائع شدہ ناول کا نام ہے ۔ تارڑ صاحب نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز تو ایک سفرنامہ نگار کی حیثیت سے کیا اور بلا شبہ اُس زمانے میں اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ۔ نکلے تیری تلاش میں اور اندلس میں اجنبی وہ سفر نامے تھے جنہوں نے سفر نامے کی تکنیک کو ایک نئی جہت سے آشنا کیا ۔ ان سے پہلے کے سفرناموں میں مصنف قاری کو جابجا تاریخ کی بھول بھلیوں میں لے کر گم ہو جاتا تھا اور قاری تاریخ کی اس بھاری یلغار سے گھبرا کر ہاتھ چھڑا بھاگ لیتا تھا ۔ لیکن تارڑ نے اپنے سفرناموں میں اتنی ہی تاریخ ڈالی جس کا قاری متحمل ہو سکتا تھا اس سے پہلے کہ بوریت کا غلبہ ہو حسین لب و رخسار اور مصنف کے کرافٹ سے تراشا خوبصورت ماحول جکڑ لیتا تھا ۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس سے پہلے مجھے تارڑ کے ناولوں نے متاثر نہیں کیا تھا ۔ بعض ناول مثلا سیاہ آنکھ میں تصویر اتنا زیادہ علامتی تھا کہ ککھ پلے نہیں پڑتا تھا ۔ بہاو کو میں نے باوجود کوشش کے سو صفحات پڑھنے کے بعد ایک طرف رکھ دیا تھا البتہ پیار کا پہلا شہر ایک خوبصورت کہانی کی حد تک پسند آیا ۔ راکھ شاید وہ پہلا ناول ہے جس میں تارڑ کسی حد تک بہتری کی جانب گامزن نظر آئے ۔ البتہ ان کا زیر نظر ناول ایک ایسی تحریر ہے جو قاری کو پہلے بیس صفحات کے بعد جکڑ لیتی ہے خصوصا انہیں جن کی پرورش پنجاب کے دیہاتوں میں ہوئی ہے ۔ سات سو چالیس صفحات پر پھیلا ہوا یہ ناول سنگ میل پبلیکیشن نے شائع کیا ہے جس کی قیمت پندرہ سو روپے ہے ۔ اتنے ضخیم ناول پر تبصرہ کرنا مجھ جیسے کم علم اور کاہل شخص کے لیئے تو ممکن نہیں البتہ جتنا کچھ ہے اسی پر گذارہ کریں ۔
کہانی کا آغازقیام پاکستان سے پہلے گوجرانوالہ کے ارد گرد دیہات میں آباد جاٹ مسلمان اور سکھ کرداروں کی بھائی چارے پر مبنی زندگی سے ہوتا ہے ۔ یہ گاوں اپنی معمول کی زندگی میں مست اسی انداز میں صدیوں سے زندگی بسر کر رہے تھے ۔ جاٹ اپنی جہالت ، تکبر اور فضول خرچی کی بنا پر مشہور تھے اور اسے اپنا قابل فخر اثاثہ سمجھتےے تھے ۔ کہانی کے دو کردار امیر بخش اور سرو سانسی( سانسی یا ساہنسی ۔ ہندوستانی ابورجن کا ایک خانہ بدوش قبیلہ جو مردار کھاتا ہے اور سماجی طور انتہائی نیچ اور ذلیل سمجھا جاتا ہے ۔ پنجاب میں ان کے دوسرے مشہور قبیلے چنگڑ اور گگڑے کہلاتے ہیں ۔ ) گاوں کی زندگی کی کلفتوں سے گھبرا کر لاہور آ جاتے ہیں ۔ جہاں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرتے کرتے وہ اپنی ایک کنسٹرکشن کمپنی قائم کر لیتے ہیں ۔ سرو سانسی کا ایک بیٹا قیام پاکستان کے بعد اپنی شناخت تبدیل کر کے سید بن جاتا ہے لیکن سرو سانسی اپنی اصل شناخت برقرار رکھنے والوں کا نمائندہ ہے ۔ سرو سانسی مسجد کی سیڑھیوں سے ایک لاولد نومولود اٹھا لیتا ہے جسے مسجد کا موذن حرامی جان کر سنگسار کرنے پر تُلا ہوتا ہے اور اسے منہ بولا بیٹا بنا لیتا ہے ۔ ناول میں 1947 کے فسادات میں ہونے والی قتل و غارت ، معاشرے میں لوٹ مار کے رحجان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔ زماے کی بدلتی قدروں کی وجہ سے سرو سانسی اور امیر بخش ماضی گزیدہ بن جاتے ہیں۔ 1965 کی جنگ کے متعلق مصنف کا خیال ہے کہ اس کا دورانیہ مختصر تھا جس کی وجہ سے پاکستانیوں کے اندر جنگ سے ایک پر فریب رومانس کا رحجان پیدا ہوا ورنہ جنگ عظیم کی طرح اگر یہ لمبی چلتی تو معاشرہ یقیننا جنگ سے نفرت کرنے لگتا ۔ مناسب جنگی تیاریاں کیئے بغیر اور قوم کو بے خبر رکھ کر جنگ کی بھٹی دہکانے والے جرنیل کا حال یوں بیان ہوا ہے ۔
” ابھی کچھ روز پیشتر ہی ایک وجیہہ اور دراز قامت شخص کی آواز ریڈیو پر سنائی دی تھی ۔۔ جس نے کسی بھی میدان جنگ میں اُترے بغیر اپنی کابینہ کے مجبور کرنے پر بادل نخواستہ فیلڈ مارشل کا عہدہ قبول کر لیا تھا اور ابھی کچھ عرصہ پہلے کرسٹین کیلر نامی طوائف کی ننگی ٹانگوں کو ایک سوئمنگ پول میں سہلاتا تھا اب اپنے وزیر اطلاعات کی لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہا تھا کہ عزیز ہم وطنو ! دشمن نہیں جانتا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔۔
کس قوم کو ؟
دریائے راوی کے پُل پر شہر چھوڑنے والی ایک دوسرے کو دھکیلتی شہر سے فرار ہونے والی قوم کو یا اس قوم کو جو محب الوطنی کے فریب میں آ کر خالی ہاتھوں واہگہ کی جانب دشمن سے مقابلہ کرنے کے لیئے رواں تھی وہ بھی ایک دوسرے کو دھکیلتی سب سے پہلے محاذ پر پہنچنا چاہ رہی تھی۔۔
کس قوم کو ؟ ”
چند سال کے بعد ہی ہونے والی 1971 کی جنگ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے قوم کو ششدر مایوس اور بے حس کر دیا ۔ جس میں تارڑ فوج ، عوام اور سیاسی لیڈروں کو برابر کا قصور وار سمجھتا ہے۔ ناول میں فوجیوں کو بونوں اور شاہ دولہ کے چوہوں سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ رہی سہی کسر ضیا کے مارشل لا نے پوری کر دی جس میں مخالفت میں اُٹھنے والی ہر آواز کو کوڑوں کی مدد سے دبا دیا گیا ۔ انعام کا صحافی بھائی روشن بھی اپنے شائع ہونے والے ایک مضمون کی وجہ سے کوڑوں کی سزا کا حقدار ٹھرتا ہے اور اس کی زندگی کا اختتام ڈنمارک میں شائع ہونے والے نبی اکرم صل للہ علیہ وسلم کے گستاخانہ کارٹون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لاہور کے ہجوم کے ہاتھوں ہو جاتا ہے کیونکہ ہجوم اس کی شکل صورت سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ غیر ملکی ہے ۔ انعام اللہ اپنی جان بچانے کے لیئے امریکہ بھاگ جاتا ہے جہاں نائین الیون کا واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ زندگی مشکل ہونے کی وجہ سے سے وہ کینیڈا چلا آتا ہے ۔ سرو سانسی کا ایک اور بیٹا موتی سانسی بھی کینیڈا چلا آیا تھا جس کی وفات کے بعد اس کی بیٹی ، لا علمی میں انعام اللہ سے آ ٹکراتی ہے اور انعام اللہ سے شادی کرنا چاہتی ہے ۔ جب ان دونوں پر کھُلتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے دھتکارے ہوئے انسان ہیں تو وہ عطار کی مثنوی منطق الطیر کے پرندوں کی مانند حقیقت کی تلاش کے ذہنی اور روحانی سفر پر روانہ ہوتے ہیں اور اس سفر کے اختتام پر ان پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ آدم اور حوا کی مانند اب اس زمین کو نئے سرے سے آباد کرنے کی ضرورت ہے ۔
ناول میں تارڑ نے گوجرانوالہ کے گاوں اور لاہور میں گذرے اپنے بچپن کی تمام تر یادوں ، تجربات اور بعد میں لکھی گئی تصنیفات کے مسالے کو استعمال کیا ہے ۔ بعض اوقات پڑھتے پڑھتے مصنف کی کسی پرانی کتاب کی جھلک نظر آنے لگتی ہے حتی کہ بعض اوقات تو ڈائیلاگ بھی پرانی کتابوں سے اٹھا گئے ہیں مثلا چار مرغابیوں کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں والا ڈائیلاگ راکھ سے لیا گیا ہے اور من و عن اس ناول میں بھی دہرایا گیا ہے ۔ لیکن اس بات سے انکار کرنا ممکن نہیں کہ اس ناول میں تارڑ کا کہانی کو بیان کرنے کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے خصوصا فلیش بیک کی ٹیکنیک بار بار استعمال کی گئی ہے ۔ الفاظ کا چناو اور ان کا استعمال بڑی سوچ اور نفاست سے کیا گیا ہے ۔ ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کا وہ ماحول میں جو تارڑ اپنے ڈائیلاگ کی مدد سے پیدا کر دیتا ہے کہ قاری ناول کے اختتام تک اس کے سحر سے آزاد نہیں ہو سکتا اور یہ انہیں کا خاصہ ہے ۔ حقیقت پسندی کا درس ناول کا تھیم ہے جسے تارڑ علامات کے ذریعے واضح کرتا ہے مثلا اچھو شیخ کا کردار جو مذہبی انتہا پسندی کا مظہر ہے گاوں کا فاترالعقل نوجوان ہے جو بار بار اپنی ماں سے نظر بچا کر گلی میں غلاظت کے ڈھیر سے شیشہ تلاش کر کے اپنی گردن پر پھیرنا شروع کر دیتا ہے جس سے اسے لذت ملتی ہے ۔ پتہ چلنے پر اس کی ماں آ کر اٹھا کر گھر لے آتی ہے لیکن وہ پھر موقع ملنے پر یہی عمل دہراتا رہتا ہے ۔
ذیل میں ناول سے ایک اقتباس دیا گیا ہے جو گیارہ ستمبر کے تناظر میں ہے تاکہ وہ افراد جو ابھی اس ناول کو نہیں پڑھ سکے ، اس ناول میں مصنف کی تحریر کے طرز بیاں کا اندازہ کر سکیں۔ بابل کے مینار ٹوئن ٹاورز کا استعارہ ہیں ۔ میں اس ناول کو اردو ادب کے رسیا افراد کو پڑھنے کی سفارش کرتا ہوں ۔
“جو ناگزیر تھا ۔۔۔ رقم تھا ان تمام ہواوں پر اور سنٹرل پارک میں گرنے والے ہر خزاں رسیدہ پتے پر ۔۔ اسے پڑھنے کے لیئے کسی فہم یا عینک کی ضرورت نہ تھی ۔۔ صاف پڑھا جا رہا تھا۔۔ بابل کے میناروں کو زمیں بوس کرنے والے انصاف اور انتقام سے کیسے فرار ہو سکتے تھے ۔ انہیں جو مجرم تھے ، انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں صرف ایک پیچیدگی درپیش تھی کہ وہ سب بابل کے میناروں تلے دب کر ہلاک ہو چکے تھے ، تو پھر انتقام کس سے لیا جائے ۔۔ انہیں سے جنہوں نے اس کے گورو کو پناہ دے رکھی تھی۔۔ انصاف کے حصول میں دیر سویر ہو سکتی ہے لیکن انتقام لینے میں اگر ذرا سی بھی دیر ہو جائے تو مشتعل شدہ جذبات اور عزت نفس کی دکھن میں کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔۔ اس لیئے ذرا سی بھی دیر نہ کی گئی ۔۔۔بابل کے میناروں کے انہدام کے پورے اٹھائیس روز بعد اُس ایک ملک پر ۔۔ جو پہلے ہی تباہ حال اور برباد تھا۔۔ مقدس امریکی جہاد کے ثمرات تلے جھکا جا رہا تھا یہاں تک کہ اس کا ہر بڑا شہر کھنڈر بن چُکا تھا اور روس کی بچھائی ہوئی لینڈ مائنز کی بدولت ہر تیسرا بچہ اپاہج ہو چکا تھا یہاں تک کہ بچے بھول رہے تھے کہ کیا کسی بچے کی دو ٹانگیں بھی ہو سکتی ہیں ۔۔ اس وسیع ویرانوں ، صحراوں اور بلندیوں والے ملک پر ۔۔ جہاں داڑھیوں کو مٹھی میں بھینچ کر انہیں غیر شرعی اور عورتوں کو جانور قرار دینے والے۔۔ بامیان کے بدھ مجسموں کو مسمار کر دینے والے ایک آنکھ کے ان حکمرانوں کے ملک پر ۔۔۔دنیا کی سب سے زورآور سلطنت کی قہرناکی کا مہیب سایہ چھا گیا ۔
اور وہ جو ناگزیر تھا وہ انعام اللہ کے تہ خانے میں ٹیلی ویژن کی سکرین پر مصور ہونے لگا ۔۔
ایک چیونٹی کو ہلاک کرنے کی خاطر سینکڑوں مشتعل ہاتھی چیختے چنگھاڑتے چلے آتے تھے اور اپنے راستے میں آنے والی ہر بستی اور ہر صحرا کو روندتے چلے آتے تھے ۔
بیٹل شِپ کارل ونسن اور اِنٹرپرائز جو جانے کن دور دراز سمندروں میں تیرتے تھے ان کے عرشے سے مسلسل ٹوماہاک کروز میزائل جنم لے کر ان سمندروں کے پار افغانستان کے ریگزاروں اور آبادیوں پر گرتے انہیں بھسم کرتے تھے ۔۔۔اس ملک کو خشکی میں گھرا ہونے کا چنداں فائدہ نہ ہوا کہ سمندروں سے اجل کے پیام آتے چلے جاتے تھے ۔ بحر ہند کے جزیرے ڈیگو گارشیا سے بلند ہونے والے ہوائی جہاز وں کے پَرے کے پَرے اُڑان کرتے ۔۔ بے خطر افغانستان کے آسمانوں پر راج کرنے چلے آ رہے تھے ، انہیں گرانے کے لیئے ان کی زمینوں پر کوئ سٹنگر میزائل تھے اور نہ کوئی قابل ذکر اینٹی ایئر کرافٹ گنیں۔۔ وہ گویا سینٹرل پارک میں سیر کرنے چلے آ رہے تھے ، اپنا مہلک بوجھ گراتے ، اور واپس جاتے اور پھر سے بوجھل ہو کر لوٹ آتے۔۔ یہ سب کچھ وہ اپنی انتقامی تشقی کے لیئے کر رہے تھے ورنہ ان کے نیچے زمین پر بستیوں کے کھنڈروں کے سوا کچھ نہ تھا جنہیں وہ مزید کھنڈر کر رہے تھے ۔
سکرین پر پاکستانی شہر چمن میں ہزاروں اُجڑے ہوئے لوگ افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان میں داخل ہو رہے تھے۔۔ ان کی بے گھری مسلسل تھی ۔۔ سر جھکائے ہوئے ، ڈر اور بھوک کے مارے ہوئے وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا قصور کیا ہے ۔۔ نہ تو انہیں طالبان سے کوئی ہمدردی تھی اور نہ ہی وہ کسی ٹریڈ سنٹر کے ڈھے جانے کے بارے میں علم رکھتے تھے۔۔ ایک عمر رسیدہ افغان دہقان ٹیلی ویژن کے کیمرے کو یکدم سامنے پا کر ٹھٹھک جاتا ہے ، اُ سکی گود میں ایک پوٹلی ہے وہ اس پوٹلی کو اس لیئے کھول کر دکھاتا ہے تاکہ سرحدہ اہلکاروں کو یقین ہو جائے کہ اُ س میں ہتھیار نہیں ہیں۔۔ پوٹلی میں ایک بچے کا بارود میں بُھنا ہوا سیاہ دھڑ اور حیران آنکھوں والا مسخ شدہ سر ہے ۔۔ میں اُسے وہاں دفن نہ کر سکا وہ گھگھیا کر منت کرتا ہے ۔۔
صرف بحر ہند اور اس میں سے اُٹھنے والے بی ون لانسر ، بی ٹو اور بی ففٹی ٹو ، سٹراٹو فورٹریس طیارے ہی اس بے آب و گیا ہ ویرانوں والے ملک پر نہ سایہ کرتے تھے بلکہ انعام اللہ کے اوپر سے بھی گونجتے ہوئے طیارے پرواز کرتے چلے جا رہے تھے ، اور یہ بمبار اس لیئے اسے اپنے سر کے اوپر گذرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے کہ وہ پشاور اور جیکب آباد کے امریکی ہوائی اڈوں سے ٹیک آف کر رہے تھے ۔۔
نصف شب کی قربت میں جب ایک کمانڈو جنرل جس کی جرآت اور شجاعت کا کچھ حساب نہ تھا ہڑبڑا کر اپنے بستر سے اٹھتا ہے ۔۔ اور فون اُٹھا کر اپنے شب خوابی کے لباس کے پاجامے کا ازار بند تھامتا ہے تو اٹینشن ہو جاتا ہے ۔۔۔ یس سر ۔۔ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں ۔۔ اگر نہیں تو ووئی ول بومب یو ٹو سٹون ایج۔۔
ہم آپ کے ساتھ ہیں سر ۔۔
اس نوعیت کے جتنے بھی شیر دلیر جنرل ہوتے ہیں ۔۔ سیسہ پلائے ہوئے دماغ کے ہوتے ہیں کہ اُن میں کچھ لچک نہیں ہوتی۔۔ کچھ اثر نہیں ہوتا البتہ ان کے پاوں ہمیشہ کچی مٹی کے بنے ہوتے ہیں ۔۔ اُن پر اگر دھمکی کی معمولی پھوار بھی پڑ جائے تو وہ گیلے ہو جاتے ہیں ۔۔ یس سر یس سر کہتے اوندھے منہ انہیں کے پاوں پر گر جاتے ہیں ۔۔ لیکن انعام اللہ کو ہرگز یہ گماں نہ تھا وہ جنرل جو اتا ترک کو اپنا رول ماڈل ماننے کے بعد ۔۔ اپنے پیارے کتوں کے ساتھ تصویریں اتروانے کے بعد جوق در جوق اپنے در پر حاضر ہونے والے مقدس چہروں اور چوہدریوں کو بھی اپنی آغوش میں لے لے گا ۔۔ اپنے جیکب آباد اور پشاور کو بھی رہن رکھ دے گا ۔۔ جیسے اس سے پیشتر مردہ مینڈک کی آنکھوں والے ایک جنرل نے عقیدے کے نام پر پورے ملک کو رہن رکھ لیا تھا اور پھر آسمانوں پر اُٹھا لیا گیا تھا ۔۔
یہ جنرل کبھی خود سے نہیں اٹھتے ۔۔ ہمیشہ اُٹھائے جاتے ہیں
امریکہ کے چہرے پر شادمانی کی دمک تھی ، ان کے کلیجے ٹھنڈے ہو رہے تھے ، سکائی نیوز کے نیوز کاسٹر چُلبلے ہو رہے تھے ، آپس میں چُہلیں کر رہے تھے ۔۔ ان کے پس منظر میں ایک کوہستانی گاوں کے کچے گھر ایک دھماکے سے مسمار ہو رہے تھے اور ایک دھول آلود گلی میں ایک دہشت زدہ بچہ بت بنا کھڑا تھا ۔
ایک بہت چوڑے دہن کی سنہرے بالوں والی مردانہ شکل کی نیوز کاسٹر اپنے ساتھی میزبان کو دیکھتے ہوئے ایک مرانہ قہقہ لگا کر کہتی ہے ۔۔ ہے آرتھر ۔۔ کیا تمہیں لطف آ رہا ہے؟
ہاں جینی ۔۔ زندگی اس سے بہتر نہیں ہو سکتی۔۔
تم کیا سمجھتے ہو کہ وہ داڑھی والا پاگل شخص اس وقت اپنے مٹی کے سوراخ میں ۔۔ کسی غار میں دبکا بیٹھا کیا کر رہا ہو گا ۔۔
جینی میں اندازہ لگا سکتا ہوں۔۔
پلیز پلیز آرتھر۔۔
وہ تو اس وقت اپنے ڈرٹ ہول سے باہر تو نہیں آ سکتا کہ باہر اس وقت ہمارے بوائزہیں ۔۔ وہ تو شاید اپنے دوپہر کے کھانے کے لیئے گائے کے گوبر کی آگ سلگا کر ایک برگر بنا رہا ہو گا اور تم جانتی ہو کہ اس میں گوبر کی بو ہو گی
تو پھر آسانی سے اسے ہم گوبر برگر کا نام دے سکتے ہیں۔۔ ہے آرتھر کیا تم ایسا برگر کھا سکتے ہو
نووے ۔۔ آرتھر صدمے اور حقارت سے سر ہلاتا ہے یہ شٹ صرف اسامہ ہی کھا سکتا ہے
انعام اللہ ان نیم خواندہ ۔۔ خیرات پر پلے ہوئے مدرسوں کے طالبعلموں کے لیئے جو دنیا کی حقیقتوں سے یکسر بے خبر تھے کچھ ہمدردی نہ رکھتا تھا ۔۔ اُن کے حمایتی اُن کی حکومت کے دفاع میں یہ جواز پیش کرتے چلے آئے تھے کہ انہوں نے افغانستان کی خانہ جنگی کا خاتمہ کر کے اسے کسی حد تک متحد کر کے امن وائم کر دیا تھا ۔۔پوست کی کاشت کو نابود کر دیا۔۔اپنی تنگ نظری کے باوجود وہ بکاو مال نہ تھے۔۔ لیکن وہ۔۔ نابینا تھے ۔۔ انہیں اپنی داڑھیوں کے پار اور کُچھ نظر نہ آتا تھا ، اگر وہ خود انعام اللہ ” ایک حرامی کی سرگزشت ” کا مصنف کابل میں ہوتا تو کب کا گناہگار عورتوں سے پیشتر وہاں کے سٹیڈیم میں سنگسار ہو چکا ہوتا۔۔
ان تمام زمینی حقائق کے باوجود انہیں جو ہاتھی ملیا میٹ کرنے کے لیئے دل بادل چلے آ رہے تھے اور وہ ان سے بھی کچھ ہمدردی نہ رکھتا تھا ۔۔
ایک اچھو شیخ خود اپنا گلا کاٹ رہا ہے۔۔ کانچ کے ایک ٹکڑے کو اپنی شہ رگ پر پھیر رہا ہے کیا اس پر حملہ آور ہو جانا ۔۔اسے ہلاک کر دینا جائز ہے؟۔۔
اسے یوں محسوس ہوا کہ افغانوں کی جنگ لڑنے والے جتنے بھی ہیں وہ غیر افغان ہیں۔۔قندھار کے میر واعظ ہسپتال میں محصور تقریبا ڈیڑھ سو غیر ملکی کئی دنوں تک امریکی فوجیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتے ۔۔ آخری سانسوں تک لڑتے ہوئے سب ہلاک ہو جاتے ہیں ۔۔ ان میں عرب ،قازق ، چینی اور پاکستانی شامل ہیں ۔اور جس قبرستان مین وہ دفن ہوئے ، وہاں افغان لوگ ۔۔دور دراز کے فاصلے طے کر کے آتے ہیں اور ان کی قبروں پر چاول بکھیر کر اور پر ان مٹی آلود چاولوں کو سمیٹ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔ کہ انہوں نے ان کو ولی اللہ کا درجہ دے دیا ہے ۔
قلعہ جنگی کے تباہ شدہ کھنڈروں میں بکھری ہوئی لاشیں جنہیں ڈیزی کٹر بموں نے کیا نفاست سے پارچوں میں تراش ڈالا تھا ۔۔ ان کے تلے تہ خانے میں محصور جب ایک حواس باختہ بھوک سے مسمار ہوتا ۔۔ امریکی طالبان باہر آتا ہے تو اپنے چہرے پر پڑتی فلیش لائٹ کی تاب نہ لا کر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور بڑبڑاتا ہے ۔۔ آئی ول ڈو اٹ اگین۔۔
افغانوں کی جنگ لڑنے والے جتنے بھی تھے بیشتر غیر افغان تھے۔۔
انعام اللہ یلغار کے ان شب و روز میں گویا اپنے نہیں قلعہ جنگی کے اس تہ خانے میں تھا جس میں میڈیا نے اسے ڈبونے کی خاطر اپنی کوریج کا پانی چھوڑ دیا تھا اور وہ بمشکل اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچا رہا تھا ۔
تہ خانے کے باہر گرین ویلج کے فٹ پاتھوں کے کناروں پر سایہ فگن ایلم اور صنوبر کے درختوں کے ہاتھ اکتوبر کے اس مہینے خالی ہو رہے تھے ۔ تجھے ہم کس پھول کا کفن دیں کہ تو جدا ایسے موسم میں ہوا جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے ۔
باہر۔۔ وہ جس تہ خانے میں محصور ٹیلی ویژن سکرین پر پہروں نظریں جمائے بیٹھا تھا اس کے باہر اس گاوں میں ایک زرد دوپہر اتر رہی تھی جس کی زد میں آنے والے چہرے ۔۔ فٹ پاتھ ، شجر۔۔ یہاں تک کہ اپنے مالکوں کے پیچھے دم دبائے کتے بھی زرد ہو رہے تھے ۔ اُن میں سے کوئی بھی آگاہ نہ تھا کہ وہ کسی ایسے تہ خانے کے روشندان کے قریب سے گذرتے ہیں جس کے اندر ڈیگو گارشیا اور جیکب آباد سے اڑان بھرنے والے بی ون لانسر ۔ بی ٹو سپنٹر اور بی ففٹی ٹو سٹراٹو فورٹریس اپنے بارود کا بوجھ کچے کھنڈروں اور گھروندوں پر گرا رہے ہیں اور وہاں ان گھروندوں کے اندر اُن کھنڈروں میں پناہ لیئے اُن جیسے لوگ ہیں ، اُن کے بچوں ایسے ہیں ۔۔ جو نہیں جانتے کہ اُس لمحے کسی گرین اچ گاوں میں ایک زرد دوپہر اُتر رہی ہے ۔ وہاں زندگی کی روانی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ۔ وہائٹ ہاوس کے شراب خانے میں مخمور آئرش پرحوش سیاح ڈیلن تھامسن کے گیت گاتے ہیں اور میزوں پر گرتے ہیں ۔ دکانوں کی اوٹ میں ہم جنس جوڑے شرماتے ہوئے ایک دوسرے کو چومتے ہیں ۔ ایک بیکری میں تازہ بیک شدہ کیک اور مکھن کی کوکیز حاصل کرنے والوں کی قطار فٹ پاتھ تک جا رہی ہے ۔۔ ایک نوآموز مصور لڑکی بے بسی سے اپنے بال جھٹکتی ہے کیونکہ اس کے کینوس پر اپس دوپہر کی زردی نہیں اُتر رہی ۔۔ کوئی بھی آگاہ نہیں ہے کہ وہ اُس لمحے مسمار ہوتے اپنے کچے گھروندوں میں زندہ دفن ہو رہے ہیں ۔۔
ہاں وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ اُن کے تابوتوں کی تعداد ہمارے تابوتوں سے کہیں زیادہ تجاوز کر چکی ہے ۔ “

Facebook Comments

 
  1. علی

    23/08/2012 at 2:04 PM

    راکھ پڑھ کر مجھے صدمہ سا ہوا تھا کہ تاریخ کے ساتھ ساتھ چلنے کا انداز عبداللہ حسین نے اپنایا اور انکی پہچان بنا۔ اداس نسلیں اور نادار لوگ۔ جبکہ تارڈ صاحب بنا کہانی کے بھی ناول لکھ سکتے ہیں مثلآ ڈاکیا اور جولاہا۔ تارڈ صاحب کم از کم مجھے تو اپنے انداز میں ہی پسند ہیں قربت مرگ میں محبت ہو یا بہائو ہمیں تو وہ ناول اچھے لگے ہیں۔
    باقی سیاست پر ہم بات کرتے نہیں۔
    لیکن خوشی کی بات ہے آپکی جریدہ پر واپسی ہو گئی۔
    ویسے ایک سوال ہے کہ سیارہ پر آپ کا نام عمر طلال کیوں آتا ہے؟

     
  2. محمد ریاض شاہد

    23/08/2012 at 10:51 PM

    علی شکریہ
    شکر کی بات تو یہ ہے کہ ابھی کچھ لکھنے والے زندہ ہیں جو لکھ رہے ہیں اگر ایسے لوگ دل چھوڑ گئے تو بڑی محرومی ہو گی ۔ سیارہ پر عمر طلال اس لیئے آتا ہے کہ جب بلاگ رجسٹر کرویا تھا اس وقت فام بھرتے وقت غلطی سے اپنے بیٹے کا نام لکھ دیا تھا ۔ بس ایسے ہی چل رہا ہے ۔ جریدہ پر واپسی سے مجھے بچپن میں پڑھی گئی کنیوں کی کتابوں کے عنوان یاد آ گئے ، ٹارزن کی واپسی ، ارژنگ کی واپسی وغیرہ وغیرہ 🙂

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی