RSS
 

غبار عسکری

1,446 views --بار دیکھا گیا

19 Feb 2012

مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ اصناف کتب میں پہلا درجہ کسے دیتے ہو تو میں بلا تامل جواب دوں گا “آپ بیتی” ۔ کیونکہ  اس دنیا میں سب سے زیادہ دلچسپ شے بذات خود انسان ہے اور آپ بیتی کسی بھی انسان کی عمر بھر کا نچوڑ چند سو صفحات میں آپ کے سامنے لا کر رکھ دیتی ہے ۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ سچا آپ بیتی نویس ایک بہادر شخص ہوتا ہے جو اپنے تمام اچھے برے تجربات ، افعال اور خیالات قاری کے سامنے بلا کم و کاست پیش کر دیتا ہے کہ ” اب فیصلہ ترے ہاتھ میں ہے مری تقصیر کا ” ۔<
کرنل ریٹائرڈ سید شفاعت علی کی آپ بیتی اس پوسٹ کے عنوان کے نام پر نظر سے گذری ۔ دو تین دفعہ پڑھی اور ہر دفعہ نیا مزہ آیا ۔ حُب دوستاں کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ لطف زندگی کا اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مزہ اُٹھایا جائے ۔ اسی سلسلے میں چند اقتباسات نقل کر رہا ہوں ۔ امید ہے پسند آئیں گے۔
کرنل شفاعت کے اجداد سن 1500 ء میں  چنگیز خانی چنگیزیت سے نجات حاصل کرنے کی خاطر وسطی ایشیا سے ہجرت کر کے دلی آ بسے ۔ وہی دلی جو اک عالم میں انتخاب تھا ۔ دلی شہر کی خدمت ان کے خاندان نے آنے والی تاریخ میں خوب  کی اور اشراف خاندانوں میں شمار ہوئے ۔ مصنف نے 1946 میں انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا ، پاکستان ہجرت  ، والدین سے بچھڑنے اور انہیں تلاش کرنے کے صدمے سہے ، تین جنگیں لڑیں ، پاکستان آرمی ان کی اصل محبت بنی جو اب تک قائم ہے ۔ سپاہ گری کے ساتھ فرصت میں مصوری ان کا شغل رہی ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد شہر ستم گراں کراچی مقیم ہوئے اور سن 1994 میں  کینیڈا جا بسے جہاں تقریبا اسی سال کی عمر میں بھی  کینیڈا اردو ایسوسی ایشن کے فعال رکن ہیں ۔ مصنف کا انداز بیان شگفتہ ، سلاست اور روانی لیئے ہوئے ہے اور قاری کو کہیں پر بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا ۔
کتاب کے حرف اول میں یوں  فرماتے ہیں
“پچھتر سے زیادہ برساتیں میرے سر سے گذر گئیں ۔ میرے کانوں کے بیچ جو کاسہ سر ہے اس میں ایک انبار ہے ، اسے جب کریدتا ہوں تو ایک غبار بن کر امڈ پڑتا ہے ۔ اس میں یادوں کے کچھ موتی بکھرے پڑے ہیں ۔ میں ان موتیوں کو پرونے بیٹھا تو ایک کتاب بن گئی
یہ افسانہ نہیں ، آپ بیتی ہے ۔ نہ زیادہ نہ کم ۔ ایک سوانح عمری اس بچے کی جو دہلی کے ایک پرانے اور دقیانوسی خاندان میں اکلوتا پوتا جو تھا وہ ابھی حیات ہے ، ایسی جگہ پر جو اپنی جائے پیدائش سے اتنی دور ہے ہے کہ اس سے زیادہ دور دنیا میں کوئی اور جگہ نہیں ۔ بے شک اللہ نے ایسا ہی چاہا تھا ۔
میں نے اپنے والدین کی پہلی حکم عدولی یہ کی تھی کہ انکی مرضی کے خلاف پیشہ عسکری اختیار کر لیا ۔ لیکن فوج نے ایسا کندن بنایا کہ علم حرب طرز زندگی بن گیا ۔جب بھی وقت نے پکارا ، میں سینہ سپر رہا ، کبھی نہ گھبرایا ۔ انڈین آرمی سے میری تین مرتبہ مڈھ بھیڑ ہوئی اور ہر تجربہ باعث تسکین رہا ۔ فوج نے جب پاکستان کے لیئے ایک نیا طرز حکومت “مارشل لا ” کے نام سے نکالا تو ضرور سرافگندہ ہوا ۔ ایک بے چینی اور لاچاری کی کیفیت میں رہا مگر پھر بھی حکم عدولی نہیں کی ۔ دن رات کی بساط پر ایک پیادے کا روپ رچا کر ، ہر خانہ سیدھا چلتا رہا ۔ کبھی سیدھا چل کر کسی “رخ” کو کاٹا ، کبھی “گھوڑا ” مارا اور کبھی “بادشاہ ” کو شہ دی ۔ جب بساط اُٹھ گئی تو میں نے قلم اُٹھایا اور بساط پر جو بازی کھیلی تھی اس کے نوٹ پہلی بار انگریزی میں مرتب کیئے اور اس کا عنوان تجویز کیا “Memories of a Dirty Soldier ” ۔ یہ کتاب صحیح معنوں میں ایک فوجی روزنامچہ ہے ۔ حقائق سے بھرپور ، لیکن زبان کی چاشنی سے خالی ۔ اپنی کہانی زبان غیر میں جچی نہیں ۔ میں نے بہتر یہ سمجھا کہ انگریزی کی اس کتاب کا ترجمہ اپنی لہراتی زبان میں کروں ۔ گالی اپنی زبان میں دی جائے تو تسلی بخش ہوتی ہے ”
کرنل شفاعت اپنی ننھیالی حویلی ” نمک والوں کا پھاٹک ”  کے مکینوں کا ذکر کرتے ہوئے کوئی راز چھپاتے نہیں بلکہ انہیں  بیروں کے پوٹ کی طرح خود سر بازار الٹ دیتے ہیں ۔
” ہمارا خاندان بہت دقیانوسی تھا ، اور گھر میں بہت شریفانہ ماحول دکھایا جاتا تھا ۔ نو سال کی لڑکی گھر سے باہر نہ جا سکتی تھی ۔ کوئی غیر مرد اندرون خانہ نہ آ سکتا تھا ۔ پوری حویلی میں صرف ایک راستے سے اندر آ سکتے تھے اور اس پر پہرہ لگا رہتا تھا ۔ پوری حویلی میں کوئی کھڑکی باہر نہیں کھلتی تھی  مگر اندرون خانہ باسیوں کی سیکس سے وہ  رنگ آشنائی تھی کہ سگمنڈ فرائڈ دیکھ لیتے تو انگشت بدنداں رہ جاتے ۔ ماحول تنگ تھا اور خواتین و حضرات  مرغن کھانے کھا کھا کر حرام توپ بنے ہوئے تھے ۔ بات بے بات بے قابو ہو جاتے تھے ، میرا اندازہ ہے کہ جتنی سیکس لائف آج  کینیڈا میں غلیظ ہے اتنی ہی وہاں اس زمانے میں تھی ۔ میرے خیال سے حویلی کا ماحول نہایت غلیظ تھا ۔ خواتین سب کی سب ان پڑھ تھیں ۔ وہ عمروعیا کی زنبیل پر یقین رکھتی تھیں ۔ وہ اس طوطے سے جو ڈبیا میں بند رہتا ، ہر کام کروا سکتی تھیں ۔
ایک اور کیرکٹر جو میرے ذہن میں نقش ہے وہ ہے ” چیخا ” ۔ یہ ایک ایسا تعلیم یافتہ شخص ہوتا تھا جس کو ہزاروں اشعار زبانی یاد ہوتے تھے ۔ بے حد روشن دماغ ، چالاک اور بے حد ذلیل ، ماہانہ تنخواہ پاتا تھا۔ اس کا کام محض یہ ہوتا تھا کہ اپنے مالک کو ہر حال میں خوش رکھے ۔ یہاں حالات کی تشریح ضروری ہے ۔ رنج وغم ، شادی ، وصل غیر قانونی ، رفع حاجات ، غسل واجب ، بوریت اور وغیرہ وغیرہ ۔ اگر مالک کو قبض ہو جاتا تو یہ بیت الخلا کے دروازے پر بیٹھ جاتا اور ایسی آوازیں نکالتا جیسے چڑیا کو بلا رہا ہو ۔ ” آجا میری پیاری آ جا ۔ وہ آئی ” ۔ اگر کسی مہ جبین کا گذر مہمان خانے سے ہو جائے اور مالک کی نیت میں خلل آ جائے تو بند کمرے کے باہر چیخا دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتا ۔ شروعات حسن کی رعنائیوں کے اشعار سے کرتا ۔ پھر وصل کے ہر دور کی مناسبت سے اشعار سناتا قصیدہ پڑھتا کہ کس طرح اس کا مالک ایک لالہ رخ پر رستم زماں بن کر بہر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتا ہوا فتح یاب اور سرخ رو نکلا ۔ آخر میں نازک بدن کی طرف سے فریا د کرتا اور پناہ مانگتا ۔ ان نامعقول صاحب کا گذر زنان خانے میں بھی ہونے کا امکان تھا ۔ میرے قیاس سے باہر ہے کہ یہ صاحب “خاص” موقعوں پر اندرون خانہ جا کر کیا کچھ گُل کھلاتے ہوں گے ؟ ۔
جو کچھ میں نے رقم کیا وہ میرا تخیل نہیں ہے ۔ یہ واقعات میرے دماغی کمپوٹر پر محفوظ ہیں ۔ میں اپنے آپ کو موجودہ دور میں خوش قسمت پاتا ہوں کہ وہاں نہیں ہوں ۔ ہماری تہذیب و تمدن کے یہی ذلیل شوق تھے جن کی وجہ سے ہم نے سب کچھ کھویا اور کچھ بھی نہ پایا ۔ ”
عنوان “طفل مکتب ” میں یوں رقم طراز ہیں
” کوئی اور نر بچہ ساتھی نہ ہونے کی وجہ سے ، بچپنے میں میری صحبت دوشیزاوں سے رہی اور میں ہمیشہ ان کا تختہ مشق رہا ۔ میں کم عمری میں حرف “ر” نہیں ادا کر سکتا تھا ۔ زبان سے “ر” کی جگہ “ل” کی آواز نکلتی تھی ۔ “ر” اور “ل” کے الٹ پھیر کو لڑکیاں طرح طرح سے میری زبان سے گل فشانیاں کرواتیں اور خوب ہنستیں اور ننھے میں پوچھتے اس میں ہنسے کی کیا بات ؟
جب لڑکیاں بالیاں سیر سپاٹے کو جاتیں تو مجھے اس واسطے ساتھ رکھتیں کہ ایک مرد ساتھ رہے گا ۔ دل میں انہیں یقین تھا کہ اس اللہ میاں کی گائے سے زیادہ دماغ تو اس دوپٹے میں ہو گا جسے وہ اچھالتی تھیں  ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔  ایک دن سہانے موسم میں سب لڑکیاں بے پردہ باہر نکل پڑیں ۔ کوئی چھ سات لڑکیاں ہوں گی ۔ مجھ کو بھی ساتھ لے لیا کہ چلو ایک مرد بھی ساتھ ہو جائے گا ۔ میں اتنا چھوٹا تھا کہ میری کوئی سنتا نہیں تھا اور اتنا بڑا تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ یہ لہراتا قافلہ کوئی ایک فرلانگ گیا ہو گا کہ اس قافلے کے سامنے تقدیر کا مارا فقیر آ گیا ۔ لمبا سا کرتہ پہنے ، لمبی سی داڑھی ، لمبے لمبے بال اور لال لال آنکھیں ۔ سب لڑکیاں لہراتی ہوئی سڑک کے بیچ آ گئیں اور ایک متحدہ محاذ بنا لیا ۔ جب وہ اس فقیر کے پاس پہنچیں تو ایک لڑکی نے کہا
” تمہیں شرم نہیں آتی سڑک پر گھوم رہے ہو ؟۔
دوسری نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی جوان لڑکیوں کو دیکھ رہے ہو؟ ۔
تیسری نے کہا ۔ بے شرم اپنا منہ ڈھانپو ۔
فقیر بڑا غیرت مند تھا بیچارے نے اپنا لمبا کرتہ آگے سے آُٹھایا اور اپنے منہ پر ڈال لیا ۔ اس کے جسم پر سوائے کُرتے کے اور کوئی لباس نہ تھا اور جو کچھ اس نے چُھپا رکھا تھا وہ ان جوان لڑکیوں کے سامنے نمایاں کر دیا ۔ سب لڑکیوں کے منہ سے نکلا ” ہائے اللہ ” اور سب کی سب بھاگی آئیں اور مجھ سے چمٹ گئیں ۔ سب سے بڑی والی نے کہا

” ساغر جم سے میرا جام سفال اچھا ہے ”
شفاعت کی زندگی رنگا رنگ واقعات سے بھرپور ایک کلائیڈوسکوپ  ہے جسے وہ تیز تسلسل سے بیان کرتے چلے جاتے ہیں ۔ مصنف واقعات کو بیان کرتے ہوئے اپنا  مختصربے لاگ تجزیہ بھی ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ گاندھی جی سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ، ریاست حیدر آباد کے سقوط کے وقت وہ ریاست کی فوج میں سیکنڈ لفٹیننٹ تھے اور اس جنگ کو وہ بجا طور پر “جنگ شرفا ” کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ جنرل نیازی ،جنرل ٹکا ،جنرل عتیق الرحمان ، میجر عزیز بھٹی ، 1965 کی جنگ ، مشرقی پاکستان کے طوفان ، بنگالی تعصب کا زہر اور ہمارے اکابرین کی غلطیاں ، 1971 کی جنگ، 1977 کا مارشل لا وغیرہ ان کی زندگی کے اہم واقعات  ہیں جنہیں وہ بیان کرتے ہوئے کہیں خندہ  زن اور کہیں رنجیدہ گذرتے چلے جاتے ہیں ۔
عہد کپتانی کے دور میں امریکہ فورٹ سل میں ایک کورس پر جاتے ہوئے انہیں اپنے ایک سینئر میجر اسحاق کی معیت کا شرف  ائر پورٹ سے حاصل ہوا۔ اسے بیان کرتے ہیں
” میں ماری پور کے فضائی مستقر پر اپنے سامان کا جائزہ لے رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں میجر اسحاق صاحب بھی وہاں موجود ہیں ۔ ہم دونوں نے علیک سلیک کی ۔ دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا ۔ وہ مجھ سے کوئ آٹھ سال سینئر تھے ۔ جب میں ملتان میں 7 فیلڈ رجمنٹ آرٹلری میں تھا تو وہ وہاں سیکنڈ ان کمانڈ تھے ۔ میں ان سےبہت ادب سے مخاطب ہوتا تھا ۔ وہ بڑے کٹڑ قسم کے زاہد خشک تھے ۔ یہ گدے دار کرسی پر نہ بیٹھتے تھے کیونکہ اس میں عیاشی کی بو پائی جاتی تھی ۔ کھانا کم اور نپا تُلا کھاتے تھے ۔ پان اور سگریٹ بیڑی سے پرہیز کرتے تھے ۔ صحیح معنوں میں زاہد ، عابد بلکہ واعظ اور مجسمہ بوریت تھے ۔  میں نے انہیں دیکھا تو دل میں کہا ” ابے مارے گئے ” وہ تھوڑی دیر کے بعد بھاگے بھاگے میرے پاس آئے کہنے لگے “Shafaat , are you proceeding to Fort Sill ? ” میں نے ہاں میں جواب دیا تو کہنے لگے “You Know in America , there are no porter or Qullies.We have to carry our own lugguage. I will carry your lugguage and you will carry mine ” ۔میں نے انہیں اطمینان دلایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہمارے پاس سامان بہت کم ہے کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیئے اور اگر آئی تو میں یقیننا خدمت کے لیئے موجود تھا ۔ میری بات سن کر وہ خوش ہوئے کہ برخوردار قابو میں تھا ۔ سامان کی لوڈنگ شروع ہوئی ۔ میجر اسحاق میرا اٹیچی کیس اُٹھا کر جہاز کی طرف روانہ ہوئے میں نے ان کا اٹیچی کیس اُٹھایا ۔ میجر اسحاق میری طرف پیٹھ کیے کھڑے تھے ۔ وہ جگہ جہاں سے ہم سامان اُٹھا کر لائے تھے خالی ہو چکی تھی ۔ مگر ؟ مگر ایک چھوٹی سی چیز چمک رہی تھی ۔ جب میں نے اس چیز پر فوکس کیا تو وہ ایک پیتل کا لوٹا تھا ۔ خالص پیتل کا ڈھلا ہوا بھاری لوٹا ۔ میری جان نکل گئی ۔ دبی آواز میں ، میں میجر اسحاق سے مخاطب ہوا جو مسلسل میری طرف پیٹھ کیے کھڑے تھے ” Sir is that Your’s? ” ۔ میجر اسحاق نے زور زور سے سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا  ۔ تب مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ کیوں انہوں نے مجھ سے یہ عہد واثق لیا تھا کہ میں ان کا سامان اُٹھاوں ۔ اُ س منحوس گھڑی سے لے کر اس مبارک گھڑی جب ہم فورٹ سل پہنچے وہ ہماری تہذیب کا علمبردار بھاری بھرکم لوٹا میرے سر پر سوار رہا اور اس سفر میں اس نے اپنے مالک سے وفا صرف واش روم میں کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔
ایک دن وہ خلاف معمول میری بڑی تعریفیں کرنے لگے ۔ ہنستے ہوئے خوش مزاجی سے میری تعریفوں کے پُل باندھنے شروع کر دیے کہ میں دنیا کا بہترین مکینک ہوں ۔ میں نے دل ہی دل میں اپنی ماں کو یاد کیا ” اماں ! دیکھو یہ کیا کرنے والے ہیں میرے ساتھ ۔ بچاو! ” لیکن وہ فورٹ سل میں میری مہارت کا سکہ بیٹھنے کا ذکر کیئے چلے جا رہے تھے ۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو میں نے صاف صاف الفاظ میں پوچھا کہ کیا کام ہے ؟ ۔ کہنے لگے ”  Shafaat , my lota is leaking” ۔ میری پھونک نکل گئی اور غبارے کی طرح زمین پر گر پڑا ۔ ”  You see Shafaat , i dropped it in toilet , please get it repaired” ۔ یہ سن کر میرے غبارے میں اتنا غصہ بھرا کہ دل چاہا کہ انکے سر پر وہ پیتل ولا لوٹا دے ماروں ۔ جس نے میرا امریکہ آنے کا سفر اجیرن بنا دیا تھا ۔ لیکن رشتہ برخورداری کا تھا خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا ۔ وہ اپنا مدعا ظاہر کر چکے تو خاموشی سے اُٹھ کر چلے گئے کیونکہ ان کی مصلحت اسی میں تھی ۔ میرے کورس میں امریکی فوجی بھی تھے میں نے ان سب کو جمع کیا اور تفصیل سے سمجھایا کہ پاکستان میں سب سے اہم چیز وہ ہے جسے LOTA  کہتے ہیں اور پھر اس کا استعمال سمجھایا ۔ زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے ۔ پھر اس پیتل کے لوٹے کا ذکر کیا جو اپنی ذات میں واحد لوٹا ہے جو سات سمندر پار کر کے فورٹ سل پہنچ چکا ہے ۔ ان سب نے میجر اسحاق سے لوٹا دکھانے کی درخواست کی  ۔ وہ اسے نکال لائے ۔ اب جو دیکھا تو اس کی ٹُوٹی اور جسم کے جوڑ پر تھوڑا سا کریک آ گیا تھا جس کے نتیجے میں اس میں پانی ٹھہرتا نہ تھا ۔ معلوم ہوتا تھا کہ لوٹے نے اپنے مالک سے تنگ آکر اپنی تھوتھنی زمین پر مار کر خود کشی کی کوشش کی تھی ۔”
کینیڈا سمندر کنارے سیر کے دوران رسالہ “پارس ” کا شمارہ پڑھتے ہوئے طرز بیاں کچھ یوں ہے  ۔
” اس رسالے میں مضامین کا آغاز حمد رب جلیل سے ہوا ہے ۔ اشعار اچھے لگے ، بندش الفاظ لاجواب پائی ۔ تجسس پیدا ہوا کہ حامد شاعر کون ہے ۔ اسی صفحہ پر ایک آدمی کی تصویر  بھی ملی ۔ تصویر کسی ریٹائرڈ اکاونٹ کلرک کی لگی ۔ جیسے وہ ڈاک خانے سے پنشن حاصل کرنے کے لیئے قطار میں کھڑا ہو کہ میری باری آ ئے تو میں بھی پنشن کا فارم بھروں ۔ جس چھڑی سے وہ سہارا لیئے کھڑا تھا وہ بھی بوسیدہ ہو کر فریادی معلوم ہوتی تھی کہ اب میں تمہارا بوجھ سنبھال سنبھال کر تھک چکی ہوں ۔ پھر شاعر کے نام پر نگہ گئی۔ میر عثمان خان ۔ آصف سابع ۔ صاحبو سچ کہتا ہوں ۔ دل پر ایسی موگری پڑی کہ ایک دم آسماں کو دیکھا اور اندھیرا چھا گیا ۔ منہ سے نکلا ۔ “Mir Usman Ali Khan .Asif the Seventh . His exahalted Highness The Nizam of HyderAbad , the richest man of the world ” ۔ میں نے اپنا سر پکڑ لیا ۔ اندھیرے میں کالے سفید نقطے جھلملاتے نظر آئے ۔ پھر آہستہ آہستہ ان نکتوں میں رنگ بھرنا شروع ہوا اور شکلیں ابھرنا شروع ہوئیں ۔ مقامات سامنے آئے ۔ واردات ہوتی نظر آنے لگیں ۔ ایک سینما تھا جو چل پڑا ۔ فشار خون بڑھا ۔ میرے خون میں جو نمک تھا اس نے خون کو ابالا دیا ۔ نمک حلالی عود آئی ۔ کیوں نہ آتی میں کچھ عرصے کے لیئے میر عثمان علی کا نمک خوار رہ چکا تھا ۔ میں نے انکی فوج میں کچھ عرصے نوکری کی ہے ۔
اے تازہ واردان بساط ہوائے دل
زنہار! اگر تمہیں ہوس ناونوش ہے
دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش حقیقت نیوش ہو ”
میری ذاتی رائے میں کرنل شفاعت کو اردو ادب میں ان کا وہ جائز مقام نہیں ملا جس کے وہ حقدار ہیں ۔ کیونکہ کرنل محمد خان اور میجر سیدضمیر جعفری کو تو اردو قارئین نے سر آنکھوں پر بٹھا کر انہیں مزاح کے سالاروں کا لقب دیا لیکن کرنل شفاعت بھی میرے خیال میں قلم قبیلہ کے کسی جرنیل سے کم نہیں ۔ امید ہے آنے والا وقت اس فروگذاشت کی تلافی کر دے گا ۔
کتاب رائل بک کمپنی  ریکس سنٹر فاطمہ جناح روڈ کراچی نے سن دو ہزار پانچ میں شائع کی۔ ISBN-969-407-289-7 ۔ ایمزان ڈاٹ کام پر ان کی ایک اور کتاب زعفران عسکری کا بک کور بھی دیکھا ، شاید وہ ان کی ایک دوسری کتاب کا عنوان  ہے ۔
محترم عثمان سے درخواست ہے کہ اگر ممکن ہو تو کرنل شفاعت کا برقی پتہ  اگر کینیڈا اردو ایسوسی ایشن وینکوور سے مل سکے تو روانہ فرما کر ممنون ہونے کا موقع فراہم کریں ۔

Facebook Comments

 
  1. عثمان

    19/02/2012 at 7:30 AM

    یہاں ٹورانٹو سے وینکؤر رابطہ کرنے کو میرے پاس وہی وسائل ہیں جو آپ کے پاس ہیں۔ اور وہ ہے انٹرنیٹ۔ انٹرنیٹ پر اب تک کینیڈا اردو ایسوسی ایشن وینکؤر پر جتنی سرچ کی ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس خفیہ ایسوسی ایشن کو ڈھونڈنے کے لئے کرنل صاحب کو ڈھونڈنا پڑے گا۔ اب تک کی سرفنگ سے میں یہ ای میل ایڈریس ڈھونڈ پایا ہوں۔ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ آیا یہ اسی تنظیم کا ای میل ہے لیکن پھر کوشش کر لیں۔
    canurdu@hotmail.com
    میں فیس بک پر موجود نہیں۔ ورنہ وہاں بھی کوشش کی جاسکتی ہے۔ گمان ہے کہ وہاں اس تنظیم کا کوئی صفحہ موجود ہوگا۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      19/02/2012 at 6:01 PM

      عثمان شکریہ
      نیٹ پر میں نے بھی کوشش کی تھی لیکن کچھ نہیں ملا ۔ غالبا یہ ایسوسی ایشن بھی چند اصحاب پر مشمل ہے جو کسی خاص موقع پر ہی اپنی رونمائی کرتی ہے ۔

       
  2. Ali Hasaan

    19/02/2012 at 4:34 PM

    بہت عمدہ۔ اگلے پاکستان کے چکر پر کوشش کریں گے کتاب اگر مارکیٹ میں مل سکے تو خرید کر پڑھ سکیں۔ پر ملتان میں ابھی تک حفیظ جالندھری، ن م راشد اور جوش کی شاعری نہیں مل سکی یہ کہاں سے ملے گی

     
    • محمد ریاض شاہد

      19/02/2012 at 5:53 PM

      جناب گلگشت کالونی میں ایک بہت اچھی کتابوں کی دکان ہے غالبا مسٹر بُکس اس کا نام ہے ہر قسم کی کتابیں مل جاتی ہیں ۔ کینٹ میں کارواں بک سنٹر بھی گذرا کرتا ہے ۔

       
  3. غبار عسکری | Tea Break

    19/02/2012 at 4:45 PM

    […] غبار عسکری […]

     
  4. محمد وارث

    20/02/2012 at 11:52 AM

    بہت خوب لکھا آپ نے جناب اور واقعی آپ بیتی پڑھنے کا اپنا ایک علیحدہ ہی مزا ہے۔

     
  5. عدنان مسعود

    21/02/2012 at 5:07 AM

    برادرم رِیاض، اس کتاب کے تعارف کا بہت شکریہ۔ اقتباسات دلچسپ ہیں، غالبا محترم عصمت چغتائ اور قدرت اللہ شہاب کے تحریری ملاپ سے ایک آپ بیتی رقم کرنا چاہ رہےہیں، انداز بیاں سلیس و دلچسپ و رواں ہے لیکن جو فقیر کے کرتے کی داستاں انہوں نے لکھی ہے وہ یقینا سرقہ ہے کہ ہم نے احمد رضا خان کے متعلق یہ حکایت مدتوں پہلے پڑھ رکھی تھی۔ ای ایس بی این سے ایمزن پر تو یہ کتاب نا مل سکی، اگر آپ آن لاین منگوانے کا لنک دے دیں تو بندہ مشکور ہوگا۔

     
  6. محمد ریاض شاہد

    22/02/2012 at 12:52 AM

    محترم عدنان مسعود
    شکریہ
    یہاں کوشش کر لیں ، کتاب میں دیا ہواے ۔
    Pakistan Lik Publications 4667 MacArthur Blvd , Suite 340 New Port Beach CA 92660
    Tel: 949-477-0100

     
  7. Rashid Ashraf

    29/06/2012 at 2:05 PM

    غبار عسکری کا سرورق یہاں ملاحظہ کیجیے:
    http://www.wadi-e-urdu.com/wp-content/uploads/2011/02/gubar-e-askari-col-s-shifaat-ali-royal-book-company-khi-2005.jpg

    یہ خاکسار کی جناب ابن صفی پر بنائی گئی غیر تجارتی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ مذکورہ سائٹ کے دو عدد لنکس پیش خدمت ہیں جہاں اردو خودنوشت آپ بیتیوں کا سب سے بڑا ریکارڈ بمعہ نام مصنف و ناشر اور سن شاعت، موجود ہے:

    http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
    http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-2/

    خیر اندیش
    راشد اشرف
    کراچی سے

     
  8. محمد ضیا شاہد

    06/10/2013 at 10:51 AM

    مجھے یاد ہے ایک دن ریاض صاحب سے اپنی مایوس اور ڈپریسڈ سوچ کا گلہ کیا تو انھوں مجھ پر انتہائی عجلت میں مگر بہت ہی مشفق نظر ڈالتے ہوئے کسی سینہ بہ سینہ کیمیا گر حکیم کی طرح سرگوشی میں فرمایا ” کامیاب لوگوں کی آپ بیتی یا سوانح عمری پڑھا کرو ” ۔ ۔۔ واقعی بعد کے تجربات نے ثابت کر دیا کہ تیر بہدف نسخہ ہے۔

    ( بلاگ پر آنے کے بعد تبصرہ کتب پر سب سے پہلے کلک کرتا ہوں اس پر خصوصی توجہ دیں)

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی