RSS
 

قوت کے اڑتالیس قوانین

1,847 views --بار دیکھا گیا

03 May 2010

انسان کو تاریخ میں سب زیادہ غالبا قوت و اقتدار حاصل کرنے کا شوق رہا ہے اور یہ وہ شوق ہے جس کے سامنے باقی سارے شوق ماند پڑ جاتے ہیں اس کا نشہ جس کو لگ جائے پھر وہ ہل من مزید ہی پکارتا ہے ۔ بچپن میں پریوں کی کہانیوں میں جب پریوں کا ذکر آتا تھا تو پری سے زیادہ اس کے ہاتھ کی چھڑی زیادہ مسحور کُن لگتی تھی کہ جب وہ اسے ہلاتی تھی تو ہر دلی خواہش پوری ہو جاتی تھی ۔ عملی زندگی میں کہانیوں کی پریاں تو نظر نہ آئیں البتہ یہ معلوم ہو گیا کہ اختیارات کی حامل ان سے ملتی جلتی پریوں سے جتنا دور رہیں اتنا اچھا ہے کیا خبر کب چھڑی ہلا کر مینڈک بنا دیں ۔

کچھ انگریزی فلموں میں بھی ہیرو یا ہیروئن اپنی روح شیطان کے نام کر دیتے ہیں تاکہ شیطان کی مدد سے اس دنیا میں جلد سے جلد اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ سکیں ۔ سیاست کی موجودہ دنیا کو دیکھ بھی ایسا لگتا ہے کہ شاید روح وہ پہلی چیز ہے جس کی قربانی اقتدار کی کالی دیوی مانگتی ہے ۔

تاریخ کے ہر دور میں حکمرانوں کی خواہش پر دانشوروں نے ایسی تحاریر لکھی ہیں کہ اقتدار کو کیسے دوام دیا جا سکتا ہے ۔ پنڈت چانکیہ کی ارتھ شاستر اور میکاولی کی دی پرنس اور کلازوٹز ، سن تو زو وغیرہ کی تحاریر اس کی مثالیں ہیں جس میں حکمرانوں کو ایسے ایسے مشورے دیے گئے ہیں کہ ان پر محض سن ہی دھن سکتے ہیں (انڈیا میں ڈپلومیٹک انکلیو چانکیہ پوری کہلاتا ہے ) ۔ آجکل کی جدید مینجمنٹ سائینس بھی اس طرح کی تکنیک کے علم سے بھری پڑی ہے ۔

رابرٹ گرین ایک ایسے ہی امریکی مصنف ہیں جنہوں نے تارِیخ میں اس موضوع پر لکھی جانے والی کتب اور دوسرے واقعات کا بغور مطالعہ کیا اور پھر ان کا عرق اپنے اڑتالیس قوانین کی شکل میں اپنی ایک کتاب فورٹی ایٹ لاز آف پاور کی شکل میں میں شائع کیا ۔ اس کتاب کی ترتیب میں پہلے ایک اصول بیان گیا ہے اور اس کے بعد ایک تاریخی کہانی کی مدد سے اس کی تشریح کی گئی ہے ۔ آخر میں اس اصول پر تفصیلا بحث کی گئی ہے۔ اب تک اس کتاب کی ایک کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور دنیا کی بیس مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے ۔ نیٹ پر یہ کتاب ڈاونلوڈ کے لئے موجود ہے ۔ خواہشمند حضرات گوگل کر کے ڈھونڈ سکتے ہیں ۔

میں یہ کہوں گا کہ کتاب آپ سے متعلق ہے کیونکہ آجکل کی دنیا میں جہاں مقابلے کا تصور اپنی تمام اخلاقی حدوں کو پار کر رہا ہے آپ بھی ان اصولوں کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔ یہاں اس کتاب میں بیان کردہ پہلے سترہ اصولوں کا ترجمہ پیش خدمات ہے

1۔ اپنے آقا کی انا کا خیال رکھیے ۔ اگر آپ اپنے آقا کو خوش رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے سامنے اپنی صلاحیتیوں کا اظہار خواہ مخواہ مت کریں بلکہ گاہے بگاہے اُس کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے رہیں ۔

2۔ دوستوں پر زیادہ بھروسہ مت کریں بلکہ دشمنوں کو استعمال کریں ۔ دوستوں سے ہشیار رہیں وہ حسد کے مارے آپ کو گرانے پر زیادہ مائل ہو سکتے ہیں بلکہ کسی دشمن کی خدمات حاصل کریں وہ اپنی وفاداری دکھانے کے چکر میں آپ کے زیادہ کام آ سکتا ہے ۔ اگر آپ کا کوئی دشمن نہیں تو بنانے کی کوشش کریں ۔

3۔ دوسروں کو اپنے اصل ارادوں کی ہوا تک نہ لگنے دیں ۔ لوگوں کو اپنے اعمال کے پیچھے کارفرما اصل ارادوں سے لوگوں کو بے خبر رکھیں ۔ انہیں اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے دیں اور جب تک انہیں خبر ہو گی تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی ۔

4۔ ہمیشہ قلت کلام سے کام لیں ۔ جتنا زیادہ آپ بولیں گے اتنا زیادہ آپ اپنی خامیوں کو ظاہر کر رہے ہوں گے ۔ اپنے بیانات عمومی اور ایسے رکھیں تاکہ بوقت ضرورت آپ ان کی حسب منشا تشریح کر سکیں ۔

5۔ اپنی شہرت کی حفاظت کریں ۔ اچھی شہرت طاقت کا ایک اہم ستون ہے بلکہ بعض اوقات صرف اسی کے سہارے آپ میدان مار سکتے ہیں ۔ مگر اپنے دشمنوں کے کردار میں خامیاں نکالنے کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیں ۔

6 ۔ مرکز نگاہ بنے رہیں ۔ باطن سے زیادہ ظاہر اہم ہے ۔ مجلس میں اپنے آپ کو غیر اہم بننے نہ دیجئے ۔ اپنی شخصیت کورنگین اور پراسرار بنائے رکھیں ۔

7۔ دوسروں کو کارخر میں مصروف رکھ کر خود شاباش حاصل کریں ۔ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے دوسروں کی ذہانت ، علم اور محنت کو استعمال کر کے اسے اپنے نام سے پیش کریں ۔ جو کام دوسرے کر سکتے ہیں اس میں اپنا وقت ضائع نہ کریں آپ تھک جائیں گے ۔

8 ۔ دوسروں کو ورغلا کر اپنے ساتھ ملنے پر آمادہ کریں ۔ اس طرح آپ کے دشمن کو آپ کی طرف مدد کے لئے دیکھنا پڑے گا ۔ انہیں سہانے خواب دکھا کر اپنی طرف مائل کریں اور پھر مناسب وقت پر حملہ کرکے انہیں تباہ و برباد کر دیں ۔

9۔ اچھی دلیل سے آپ لمحاتی کامیابی تو حاصل کر سکتے ہیں مگر اسی بنا پر آپ دوسروں کے حسد کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ۔ چنانچہ خاموش رہتے ہوئے آپ سے ایسے اعمال سرزد ہونے چاہیے جن کو دیکھ کر لوگ خوف کے مارے آپ کا ارادہ سمجھ کر خود بخود اطاعت پر مجبور ہو جائیں ۔

10۔ سوگوار اور بدقسمت لوگوں کے سائے سے دور بھاگیں ۔ دوسروں کے دکھ درد میں خواہ مخواہ آنسو بہانے اور رنجیدہ ہونے سے گریز کریں ۔ ایسے لوگوں پر بدقسمتی کا سایہ ہوتا ہے اور یہ چھوت کی بیماری کی طرح آپ کو بھی لگ سکتا ہے ۔ صرف خوش باش اور اقبال مند لوگوں سے تعلقات استوار رکھیں ۔

11 ۔ دوسروں کو اپنا محتاج بنا کر رکھنے کا فن سیکھیں ۔ اگر آپ آزاد رہنا چاہتے ہیں تو دوسروں کو اپنا محتاج بنا کر رکھیں ۔ جتنا زیادہ وہ اپنی خوشیوں اور ترقی کے لئے آپ کے محتاج ہو ں گے اتنے زیادہ آپ طاقتور ہیں ۔

12 ۔ کبھی کبھار مناسب موقعوں پر فیاضی اور دیانتداری کا سر عام مظاہرہ بھی کریں تاکہ آپ کی دوسری غلطیوں پر پردہ پڑ سکے اور آپ کے دشمن آپ پر انگلی نہ اٹھا سکیں ۔

13۔ اگر کسی حلیف سے مدد کی ضرورت پڑ جائے تو اسے اپنے پرانے احسانات یاد مت دلاو کیونکہ اس طرح وہ شرمندہ ہو کر آپ کی مدد سے کترائے گا بلکہ اپنی درخواست میں یہ بیان کرو کہ آپ کی بات ماننے میں کس طرح سے اس کے ذاتی مفاد کو بڑھاوا مل سکتا ہے ۔ اس طرح وہ جوش و جذبے سے آپ کی مدد کرے گا ۔

14 ۔ لوگوں کو اپنی دوستی کا جھانسہ دے رکھو مگر درپردہ ان کی جاسوسی کرتے رہو ۔ ملاقات میں بظاہر ایسے عام سے سوالات پوچھو جس کے جواب میں لوگ بے خبری میں اپنی خامیاں اور ارادے آپ پر واضح کر دیں ۔

15 ۔ جب دشمنوں سے انتقام لینے کا وقت آئے تو ان کو مکمل طور پر ملیا میٹ کر دو ۔ صرف جسمانی طور پر ہی نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی ۔ اگر ان میں سے ایک بھی زندہ بچ گیا تو اس کے اندر انتقام کی آگ سلگتی رہے گی اور وہ تمہارے لئے ایک دن خطرہ بن جائے گا ۔

16 ۔ جتنا زیادہ آپ لوگوں کے سامنے آتے رہیں گے اسی رفتار لوگ آپ کا نوٹس لینا کم کر دیں گے ۔ اپنا دیدار کبھی کبھار کرا کر آپ ایک پراسرار ، قابل تکریم اور اہم شخص بنے رہیں گے ۔

17 ۔ لوگوں کو اپنے بارے میں کوئی اندازہ نہ لگانے دیں بلکہ انہیں کنفیوز رکھیں وہ آپ کے آئندہ ااردہ و عمل کے بارے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے ۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہے گا تو لوگ خوفزدہ ہونے کی حد تک آپ سے ڈرنے لگیں گے ۔

بقیہ قوانین آپ اس ویڈیو میں پڑھ سکتے ہیں

[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=PNALeYJhnhA]

Facebook Comments

 
  1. arifkarim

    03/05/2010 at 7:00 AM

    دنیا کی ۷۰ سالہ زندگی میں طاقت کا حصول ایک انتہائی قسم کا جاہلانہ فعل ہے۔ بھلا اس دارالمتاع کی خواہش ہی کیوں کی جائے جسے ہمنے اک نہ اک دن چھوڑ کر جانا ہی ہے!

     
    • محمد ریاض شاہد

      03/05/2010 at 11:08 PM

      ارے صاحب اب ہما شما کو کیا معلوم کہ جب 70 گاڑیوں کے قافلے میں دل کو دہلا دینے والے ہوٹروں کی ہونک میں بادشاہ جب مرسڈیز میں بیٹھتا ہے تو اسے سڑکوں پر چلتے ہوئے بلکہ کوستے ہوئے انسان کسقدر رینگتے ہوئے کیڑے مکوڑے لگتے ہیں ۔ کبھی چکھ کر دیکھیں جھوٹ موٹ میں ہی

       
  2. عنیقہ ناز

    03/05/2010 at 8:17 AM

    حصول اقتدار ایک ایسی چیز ہے جس کے لئے ایک چند ماہ کا بچہ تک کوششیں کرتا نظر آتا ہے۔ محض حکومت کا اقتدار ہی سب کچھ نہیں ہوتا ، زندگی خود ایک اقتدار کی جنگ ہے۔ ڈارون اسے جب سروائیول آف دی فٹسٹ کا نام دیتا ے تو وہ کچھ ایسا غلط نہیں کہتا۔
    دئے گئے تمام نکات کے لئ تاریخی واقعات ہی نہیں عام زندگی سے مثالیں نکالنا بھی چندان مشکل نہیں۔
    للیکن ایک نکتہ جو مجھے اس وقت بہت مزے کا لگ رہا ہے وہ اپنے دشمنوں کو مکمل طور پہ ملیامیٹ کر دینے کا ہے۔ پرویز مشف نے ایسا نہیں کیا اور نتیجے میں آج انکے گرد پھانسی کا پھندہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
    باقی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جیسے صلاحیتوں کے اظہار کی۔ یہ غلطی کبھی نہیں کرنی چاہئیے۔ اپنے باس کے سامنے ہرگز نہیں۔
    لیکن کچھ لوگ فطرتاً باغی ہوتے ہیں ، اور وہ ہر سیڑھی کو چڑھ کر دیکھتے ہیں کہ کہیں یہ غلط سرے سے تو نہیں لگی ہوئ۔ ایسے ہی باغیوں کی وجہ سے یہ ایک قانون، اڑتالیس قوانین کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ سوچتی ہوں کچھ الگ کرنا چاہئیے۔ ہو سکتا ہے انچاسوں قانون بھی وجود میں آ ہی جائے۔
    اچھا لکھا ہے۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      03/05/2010 at 11:14 PM

      میں تو آفس اور گھر میں ابھی پہلے اصول پر ہی عمل پیرا ہوں اور سکھ میں ہوں سوچتا ہوں کہ یہی کافی ہے بقیہ عمر عزیز کے لئے

      اک یہی بات کافی ہے میرے جینے میں
      دل نہیں آپ دھڑکتے ہیں میرے سینے میں۔

       
  3. احمد عرفان شفقت

    03/05/2010 at 10:09 AM

    کمال خباثت اور شر سے کا مرقع ہیں یہ قوت کے قانون۔ ان پہ وہی عمل پیرا ہونے کا سوچ سکتا ہے جو یہ مانتا ہی نہ ہو کہ اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی ہے جس میں حساب لینے والی ایک عظیم الشان ہستی کے سامنے ہر ایک نے اکیلے جوابدہ ہونا ہے۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      03/05/2010 at 11:17 PM

      اللہ تعالیٰ نے سورة الشمس میں متعدد چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے:” کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کرلیا ،اور ناکام ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو برائیوں میں دھنسادیا،،۔

       
  4. محمداسد

    03/05/2010 at 3:18 PM

    کافی پہلے نیٹ گردی کرتے ہوئے اس کتاب کے مندرجات یہاں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ میرے نزدیک اس کتاب کے چند اصول صرف طاقت ہی کے لیے نہیں بلکہ عام فرد کی بہتر زندگی میں بھی کافی کام آسکتے ہیں۔ مثلاَ بحث مباحثے کے بجائیں عمل سے جیتیں اور ہر چیز کی منصوبہ بندی پہلے سے کرلیں۔ لیکن مجموعی طور پر اس کتاب کو پڑھنے کے بعد منفی تاثر ملتا ہے، لہٰذا وہ افراد کے جو طاقت کے حصول میں سب کچھ کرسکتے ہوں، وہ اس کتاب میں خاص دلچسپی لیں گے۔ حالانکہ ان تمام قوانین پر عمل کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔

     
    • محمد ریاض شاہد

      03/05/2010 at 11:22 PM

      ہمیں عقل، فہم، دانش، شعور، حواس اور وحی کے ذریعے اچھے برے کا تمام علم دے دیا گیا۔ سیدھے راستہ کی نشاندہی بھی فرما دی اور اس پر چلنے کا انجام بھی۔ برا راستہ بھی بتا دیا اور اس کو اپنانے کا خطرناک نتیجہ بھی۔ ہمیں علم، شعور اور ارادہ و اختیار دے دیا کہ سمجھو اور جس راستے کو چاہو اختیار کرلو۔ یہ اختیار فرشتوں کو نہیں ملا، انسانوں کو ملا ہے۔

       
  5. ہیلو۔ہائے۔اےاواے

    04/05/2010 at 11:08 PM

    میرے بھائی یہ کیا ظلم کردیا ۔ پر اس سے فرق بھی کیا پڑنا ہے ۔ کامیابی اسی میں ہے کہ ان گروں سے بظاہر نفرت کرو اور بوقت ضرورت استعمال کرلو ۔ سبھی یہی کچھ کرتے ہیں مگر مانتے کم ہیں ۔ دیکھنے اور سمجھنے والوں کی مرضی ہے کہ لعنت بھیجیں یا زیر لب مسکرا دیں ۔

     
  6. shekari

    09/05/2010 at 4:53 PM

    ان میں سے بہت سے قوانین کو مثبت بھی لیا جاسکتا ہے.

     
  7. Jaams Adams

    03/12/2011 at 3:39 PM

    زرداری ہی ان سب پر عمل کررہا ہے اور وہ ہی کرسکتا ہے یہ سب۔ واہ بھئی زرداری

     
  8. محمد خلیل جنجوعہ

    28/05/2016 at 1:02 PM

    جناب بہت بہت شکریہ
    یقین مانیں کے میری زندگی بدل گئی ہے جس وقت سے میں نے یہ پڑھا تھا۔
    ایک نہایت ہی لاجواب ہیں
    ویسے جن لوگوں نے اس کو ٹھیک طرح سے استعمال کیا ہے یا کرنا ہے اس کو علم ہے کہ اصل طاقت کیا ہے ۔
    اور جن لوگوں نے یہاں گھسے پٹے کمنٹس دیے ہیں مجھے ان پر ترس آریا ہے ۔

     


Comment if you Like |تبصرہ فرمائیے۔

Urdu |اردو English |انگریزی


Urdu |اردو English | انگریزی